702
اگر کرنا نہیں ہے پیار ساجن
تو پھر کس بات کی تکرار ساجن
ترے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہیں ہوں
میں ہوں ابریشمی سی نار ساجن
اگر تُو شہر کا بانکا سجیلا
تو میں ہوں گاؤں کی مٹیار ساجن
تجھے دیکھوں تو کِھل اٹھتا ہے چہرہ
تُو میرے واسطے سنگھار ساجن
پہن لیں چوڑیاں پازیب جھمکے
تو لے آ موتیوں کا ہار ساجن
زمیں کی گَرد سے مجھ کو بچا کر
تُو لے چل چاند کے اس پار ساجن
مجھے دونوں جہاں کی نعمتوں میں
تمھارا ساتھ ہے درکار ساجن
تُو ہے ناراض تو میں بھی خفا ہوں
نہ کر تِرچھی نظر کے وار ساجن
ترا یوں دیکھنا وارفتگی سے
مری خفگی میں ہے بیکار ساجن
منزّہ سیّد
