345
بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں
ذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میں
محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے
وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں
میں جانتا ہوں کہ موسم خراب ہے پھر بھی
کوئی تو ساتھ ہے اس دکھ بھری مسافت میں
اسے کسی نے کبھی بولتے نہیں دیکھا
جو شخص چپ نہیں رہتا مری حمایت میں
بدن سے پھوٹ پڑا ہے تمام عمر کا ہجر
عجیب حال ہوا ہے تری رفاقت میں
مجھے سنبھالنے میں اتنی احتیاط نہ کر
بکھر نہ جاؤں کہیں میں تری حفاظت میں
یہاں پہ لوگ ہیں محرومیوں کے مارے ہوئے
کسی سے کچھ نہیں کہنا یہاں مروت میں
سلیم کوثر
