122
ہاتھ رکھو یہیں اداسی ہے
یہ مرا دل نہیں اداسی ہے
ابتدا میں تو اتنا خوش مت ہو
مجھ میں آگے کہیں اداسی ہے
تو بھی اتنا نہیں قریب مرے
جتنی دل کے قریں اداسی ہے
دیکھ اس حسن سوگوار طرف
دیکھ کتنی حسیں اداسی ہے
اس پہ قصر خوشی نہ ٹھہرے گا
میرے دل کی زمیں اداسی ہے
رنج و بہجت تو بعد کے ہیں گماں
میرا پہلا یقیں اداسی ہے
آنکھ یا پھیلتا ہوا کاجل
شام یا سرمگیں اداسی ہے
تم اداسی کو دیکھ سکتے ہو
میں جہاں ہوں وہیں اداسی ہے
شہزاد نیّرؔ
