127
زندگی کی الجھنوں میں الجھ گیا هے انسان یہاں
جس کو دیکھو لگتا هے وہی هے بس پریشان یہاں
سب کچھ حاصل کرلینے کی جستجو میں یاروں
بھول کر رشتوں کو نهیں هیں هم پشیماں یہاں
اس دنیا میں جو هے آیا اس کو تو وآپس جانا هے
اس دنیا میں انے والے سب هی تو هیں مهمان یہاں
دیتا هے رب هر انسان کو بڑھکر اس کی اوقات سے
پهر بھی کسی حال میں خوش نهیں انسان یہاں
جو نهیں ملا نه کرو گله جو ملا هے کرکے شکر اد
خواهش نفس کو مار کر بس بچالو اپنا ایمان یہاں
زندگی کی مشکلوں کا سامنا کیا هے ہمیشہ یوسف
وه رب همیشه رها همیشه کی طرح مهرباں یہاں
محمد یوسف برکاتی
