خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامحسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

محسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021 0 تبصرے 46 مناظر
47

محسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!

سرزمین پاکستان پر پہلے دن سے ہی دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے پنجے گاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت پاکستان کا دولخت ہونا ہے بات یہاں پہنچ کر بھی بس نہیں ہوجاتی یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے وجود کو زخموں سے چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان نے جانی و مالی اور ہرطرح کے نقصان کا سامنا کیا ہے ۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری ماءوں نے ایک سے بڑھ کر ایک محب وطن پیدا کیا ہے جو اپنی دانست میں ملک و قوم کا سرفخر سے بلند کرنے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتا کہ جہاں اسکی کارگردگی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سب سے بلند لہرائے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہم پاکستانی انفرادی طور پر بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے کتنے ہی کارہائے نمایاں سرانجام دے چکے ہیں اور دیتے رہنے کیلئے پرعزم ہیں ۔ حالیہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں میں ایسے وطن کا نام روشن کرنے والے بھی تھے جنہیں پہلے کوئی جانتا نہیں تھا لیکن وطن کے پرچم کی سربلندی کی خواہش نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا کہ آج انہیں پورا پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے ۔ دشمن ہمیشہ طرح طرح کی سازشوں سے کام لیتے ہوئے ہماری صفوں میں موجود رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہتا ہے ، وہیں سرحدوں پر بھی ہمارے جانثاروں پر اپنے گولے بارود کو آزماتا رہتا ہے اوراسے سوائے ندامت کے کچھ بھی حاصل نہیں کرپاتا لیکن وطنِ عزیز پر جان قربان کرنے والے جوان بیٹے بغیر کسی شہرت کے بغیر کسی نام کے اس سرزمین پر قربان ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ایک کے پیچھے ایک تیار کھڑا ہوتا ہے یہاں تک کے دشمن کی بندوق کی گولیاں و بارود ختم ہوجائے گا اورجس سے دشمن پر ایسا خوف طاری ہوجائے گا کہ میدان چھوڑ کر راہ فرار تلاش کرے گالیکن پھر کہیں جگہ میسر نہیں آئے گی ۔

جنرل ضیاء الحق شہید ایک غیر ملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی بہت ذہین ہیں (ساتھ یہ بھی کہا کہ میں اپنی تعریف نہیں کر رہا) ۔ یوں تو انکی اس بات کا حوالہ ان کی اپنی ذاتی دانشمندیوں سے مل جائے گا لیکن یہ ہمارا عمومی تاثر ہے ۔ بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جس سے ساری دنیا گھبراتی ہے اور ہم ساری دنیا سے گھبراتے ہیں ۔ یوں تو پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اس فہرست میں ایک نام ایسا بھی ہے کہ جس کی مرہون منت آج پاکستان ساری دنیا کے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے جو ایٹمی طاقت کے حامل ہیں ، جن بدولت ہ میں اپنی بقاء کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگنی پڑتی ، جن کی وجہ سے ہمارے دشمن ہم سے شدید نفرت کے باوجود ہم سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں ، یہ وہ فرد ہیں کہ جنہوں نے ملک کا نا صرف دفاع کو مضبوط ترین بنایا بلکہ بوقت ضرورت اپنی خود مختاری کو بھی پاکستان پر نچھاور کردیا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پہچان ایٹم بم نہیں بلکہ محسن ِ پاکستان کے طورسے ہوئی ۔ آپ نے قوم پر ایسے احسان کئے ہیں جو ہم عوام تو کیا ادارے بھی اسکا بدلہ نہیں چکا سکینگے ۔

محترم افتخار عارف صاحب کا یہ شعر جو شائد ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ہی لکھا گیا

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

کچھ عرصہ قبل تک بہت ساری ایسی باتیں ہواکرتی تھیں جو ملکی سالمیت کی خاطر منظر ِ عام پر نہیں لائی جاتیں تھیں (اور یقینا جن کی بقاء کی خاطر کیسی کیسی قربانیاں دی گئی ہونگیں )اورجن میں سے اکثر ایسے راز ہیں کہ جوپیوند خاک ہونے والوں کیساتھ ہی دفن ہوچکے ہونگے اور ہوتے چلے جائینگے ۔ دورِ حاضر میں تو جیسے کوئی رازنامی لفظ کو لغت سے نکال ہی دیا گیا ہے ، ہر بات کی تو کیا ہر ہر عمل کی تشہیر ہورہی ہے اور چند لمحوں میں دنیا کیا کچھ دیکھ لیتی ہے، اس وجہ سے اہم صرف چند لمحوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ، کسی خوب کہہ رکھا ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، آپکے ہاتھ میں موجود موبائل فون جس نے آج اپنی نوعیت کے تمام آلات سے نجات دلادی ہے آپ کی ایک انگلی سے آپکو لمحوں میں کیا کچھ فراہم کردیتا ہے جو کبھی سوچوں سے مبرا تھیں ۔ ایسی بدلتی ہوئی دنیا میں بھی ایسے سچے اور کھرے لوگوں کا ہونا اللہ رب العزت کا انسانوں پر احسان عظیم ہے ۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب ،یکم اپریل 1936 ء میں ایک تعلیم سے محبت کرنے والے گھرانے میں انڈیا کہ شہر بھوپال میں پیداہوئے ۔ تخلیق ِ پاکستان کیساتھ ہجرت کی اور شہر کراچی میں آبسے، یہیں سے گریجویشن کی پھر ماسٹرز کیلئے برلن یونیورسٹی (جرمنی) اور پھر تکنیکی جامعہ ہالینڈ سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ ہالینڈ یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ڈبلیو جی برگر نے انہیں اپنا اسسٹنٹ بنا لیا ۔ سن 1972 میں جامعہ لیون بیلجیم سے انجینیرنگ (فزکس میٹلرجی) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگڑی حاصل کی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے یورینکوانرجمنٹ پلانٹ ہالینڈ میں ایک ماہر کی حیثیت سے کام کیا ۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب 1971ء کے سانحے کے بعد 1974 ء میں جب ہمارے ہمسائے نے ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو وطن کی محبت نے پکارا اور انہوں نے اپنے دل سے اٹھنے والی اس پکار پر لبیک کہا اور پر تعیش و پرکشش زندگی کو چھوڑ کر پاکستان پہنچ گئے یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انکی اہلیہ نے بھی ایس فیصلے میں انکا بھرپور ساتھ دیا ۔ 1976 ء میں بے سروسامانی کی فکر کئے بغیر نیوکلئیر لیبارٹری تعمیر کیلئے کوشاں ہوگئے انتھک محنت اور سچی لگن کی بدولت ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں پاکستان کا نام عالمی ایٹمی نقشے پر نمایاں کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ڈاکٹر صاحب کی محنت لگن اور وطن سے سچی محبت کو دیکھتے ہوئے اس لیبارٹری کا نام ہی قدیر خان لیبارٹریز رکھ دیا گیا جو بقول ڈاکٹر صاحب کے یہ ان کےلئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ڈاکٹر صاحب بولنے میں دیکھنے میں انتہائی سادہ انسان تھے انکی یہ سادگی انکی تحریروں میں بھی واضح تھی ۔ ہم پاکستانیوں کیلئے ڈاکٹرصاحب کی خدمات کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا لیکن صدر پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کی گرانقدر خدمات کا کچھ حق ادا کرنے کی کوشش کی اور انہیں 1990 ء میں تمغہ ہلال امتیاز سے نوازا گیا، سچ پوچھیں تو ڈاکٹر صاحب کو ملنے کے بعد اس تمغے کی عزت و توقیر میں اور اضافہ ہوگیا ہوگاوہ اسطرح کے جن قابل قدر شخصیات کو یہ تمغہ ملے گا وہ اپنے آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں یہی تمغہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو بھی مل چکا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب اکتوبر 10, 2021 کوپوری قوم کو بلکہ دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں ان سب کو سوگوار چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ ڈاکٹر صاحب کی صورت میں پاکستان کو عطاء کی گئی ایک لازوال نعمت نے پاکستان کو تاقیامت تک کیلئے نا قابل تسخیر بنا دیا ہے ۔

ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا آخری دوران کے شایہ شان نہیں گزر سکا، انہیں ویسی پذیرائی نہیں دی جاسکی جسکے وہ حقدار تھے ، اسے ہم بطور پاکستانی اپنی بدقسمتی تصور کرینگے کے اللہ کی ایسی نعمت تھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے جس سے ہم نے خوب فائدہ اٹھایا لیکن اسکے اس نعمت کی خوب بے قدری کی،یقینا وہ اس امر سے بھی بخوبی واقف تھے کہ یہ بھی پاکستان کی سالمیت کیلئے ضروری تھا ۔ دکھی دل کیساتھ کہ آنے والا وقت انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا کہ ہ میں کسی کے کہنے پر اپنے ہیروز کو زیرو بناکر رکھنا پڑے ۔ اللہ تعالی ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو جنت الفردوس میں عالی ترین مقام عطاء فرمائے اور انکے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خودکشی کرنے والے شعرا
  • لگ رہی ہے کچھ گلابی شام سی
  • خواب زدہ ویرانوں تک
  • زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شیطان
پچھلی پوسٹ
دعوت اسلام روکنے کی سازشیں

متعلقہ پوسٹس

سورۃ فاتحہ کے اسماء

ستمبر 19, 2021

کوئی مرے کوئی جیوے

مئی 22, 2021

دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے

اکتوبر 10, 2025

کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

نومبر 7, 2023

مداوائے آلام ہو جائے گا

جون 12, 2020

جوہرِ بیش بہا کو کھولا

اکتوبر 25, 2025

خلیجی سلامتی

مارچ 14, 2026

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

سرنگ

جون 9, 2020

تیاری کیا ھے؟

دسمبر 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

اکتوبر 15, 2025

درد دل کو مرے نمو کرکے

نومبر 26, 2021

خامشی اپنی سُخن آثار کرنے کے...

دسمبر 6, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں