101
بیٹی کے نام
جب بھی کسی کے گھر میں یہ آتی ہیں بیٹیاں
رحمت خدا کی ساتھ ہی لاتی ہیں بیٹیاں
دکھ دیکھتی ہیں ماؤں کے چہرے پہ جس گھڑی
لمحے میں ٹوٹ ٹوٹ سی جاتی ہیں بیٹیاں
دل چور چور ہوتے ہیں غربت کو دیکھ کر
روتے ہوئے جو باپ کو پاتی ہیں بیٹیاں
لے جاتی ہیں وہ ساتھ ہی آنگن کی رونقیں
بابل کے گھر سے جس گھڑی جاتی ہیں بیٹیاں
دیوار و در ہیں کانپتے پہلی ہی کُوک پر
جب باپ کے جنازے پہ آتی ہیں بیٹیاں
محمد رضا نقشبندی
