خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

وبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مارچ 22, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 22, 2020 0 تبصرے 450 مناظر
451

وبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں

لوگو! گواہ رہنا۔ جو میں نے دیکھا، مجھ پر فرض عائد ہوتا تھا کہ تمہیں بتا کر جاتا اور اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ میرے بعد آنے والوں کو تم بتاؤ۔ لوگو میں اس دور میں زندہ رہا ہوں جو مصیبتوں، بیماریوں اور وباؤں کا دور تھا۔ پوری قوم کے لئے یہ سب ایک امتحان تھا۔ سمجھانے والا سمجھا رہا تھا۔ سیدھا راستہ دکھا رہا تھا لیکن جاہل، ضدی اور ہٹ دھرم مغرور لوگ خدائی فیصلہ ماننے کو تیا ر نہیں تھے۔

میرا باپ عظیم فرعون کے دربار کا ملازم تھا۔ وہ بوڑھا ہو چکا تھا جب میں اس کا اکلوتا بچہ پیدا ہوا۔ میرا باپ مصری اور ماں عبرانی لونڈی تھی۔ ۔ اس کی جگہ اب میں نے کام شروع کر دیا تھا۔ میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

بہت پرانی بات ہے۔ چار سو تیس برس گزر چکے ہیں، جب یوسف نے اس قوم کو قحط کے عذاب سے بچایاتھا۔

عرصہ دراز ہوا یوسف اور اس کے سب بھائی اور اُس پشت کے سب لوگ مر مٹے تھے۔ اسرا ئیل کی اولاد برومند اور کثیرالتّعداد اور فراوان اور نہایت زورآور ہو گئی، ملک ان سے بھر گیا۔ مِصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ اُس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا، ”دیکھو! اسرائیلی ہم سے زیادہ ہیں۔ اس نسل کے لوگ قوی ہو گئے ہیں سو آؤ ہم اُن کے ساتھ حِکمت سے پیش آئیں تا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہو جائیں اور اُس وقت جنگ چِھڑ جائے تو وہ ہمارے دُشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ “ اِس لئے اُس نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو اُن سے سخت کام لے لے کر ان کو ستائیں، ان کی زندگی تلخ کر دیں۔

لوگو! میں گواہ ہوں، اس وقت کا جب پُرشکوہ، پُر عظمت مرد ِعجیب دربار میں داخل ہوا تھا۔ وہ کم بولتا تھا۔ اس کی زبان میں لُکنت تھی۔ اس کی ترجمانی اس کا بھائی کر رہا تھا۔ لیکن وہ جو نامختوں ہو نٹ رکھتا تھا، جب چلتا تو دیوار و در کانپ اٹھتے۔ وہ بے جان عصأ کو حرکت میں لاتا تو وہ اژدھا بن کر جھوٹے سانپوں کو کھا جاتا۔ پانی کو چھوتا تو پورے مصر کا پانی خون بن جاتا۔ اس کا خدابہت طاقتور ہے۔ اس خدا نے اپنے نشان اور عجائب دکھائے لیکن اڑیل فرعون کا دل متعصب تھا۔ اس کو خطرہ تھا کہ اگر اسرائیلی ملک چھوڑ گئے تو اس کے محلات کون بنائے گا۔ جوؤں، مچھروں، مینڈکوں سے ڈر کر اس نے انہیں جانے کی اجازت دے بھی دی لیکن وہ کہتا تھا کہ عبرانی اپنا مال و اسباب، دھن دولت سب ادھر ہی چھوڑ کر جائیں۔ عبرانیوں کو یہ قبول نہیں تھا۔ خدا کے عذاب جاری رہے۔

خدا کے حکم سے، مصریوں کے اپنے چوپایوں پر، جو کھیتوں میں تھے، یعنی گھوڑوں، گدھوں، اُونٹوں، گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں پر، بڑی بھاری مَری پھیل گئی۔ بہت سے مر گئے۔ پھر آسمان سے رعد آئی، بڑے بڑے اولے پڑے۔ ساتھ ہی آگ بھی ملی ہوئی تھی۔ سارے دِن اور ساری رات پُروا آندھی چلی اور صبح ہوتے ہوتے پُروا آندھی ٹڈیاں لے آئی۔ جو فصل اولوں سے بچ گئی تھی، جو درخت میدانوں میں لگے تھے، یہ ٹڈیاں ان سب کو چٹ کر گئیں۔

میں ادھر ہی موجود تھا، جب فرعون نے موسیٰ سے کہا،

”آئندہ میرا منہ دیکھنے کو مت آنا کیونکہ جس دن تو نے میرا منہ دیکھا، تو مارا جائے گا۔ “

پھر ایک دن ہمیں پتا چلا ایک اور بہت بڑا عذاب آنے والا ہے۔ خُداوند نے کہا ہے، ”میں فرعو ن اور مِصریوں پر ایک بلا اور لاؤں گا۔ اُس کے بعد وہ اسرائیلیوں کو یہاں سے جانے دے گا۔ میں آدھی رات کو نکل کر مصر کے بیچ میں جاؤں گا اور ملکِ مصر کے سب پہلوٹھے، فرعو ن جو تخت پر بیٹھا ہے اُس کے پہلوٹھے سے لے کر، وہ لونڈی جو چکّی پیستی ہے اُس کے پہلوٹھے تک اور سب چوپایوں کے پہلوٹھے، مر جائیں گے۔ “

یک دم دربار میں سناٹا چھا گیا۔ ہرکوئی خوف زدہ ہو گیا۔ دربار برخواست کر دیا گیا۔ مجھے اپنے اکلوتے بیٹے کی فکر تھی۔ میری بیوی میری ماں کی طرح عبرانی ہی تھی۔ میں بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔ وقت بہت کم تھا۔ میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ وہ بچے کو لے کر عبرانی علاقے میں چلی جائے۔ وہ جانے کو تیار نہیں تھی اور میرا باپ بھی ادھر نہیں جانا چاہتا تھا۔

پھر ہمیں خبر ملی کہ جو بھی ایک بَرّہ قربان کر ے اور جن گھروں میں اُسے کھایا جائے، اس کا خون اُن کے دروازوں کے دونوں بازوؤں اور اوپر کی چوکھٹ پر لگا دے، موت اس کے گھر میں داخل نہیں ہوگی۔ وبا ان کے پاس بھی نہیں پھٹکے گی۔ میں اور میری بیوی دونوں نے ہدایت کے عین مطابق بکری کا ایک سالہ بے عیب نر بچہ لے کر قربان کیا اور اس کا خون جو ایک باسن میں تھا اس میں زوفے کا ایک گچھا بگھو کر دروازے پر نشان لگا دیا۔

بہت خوفناک رات ہے، ڈراؤنی اور پُر ہراس۔ چودہویں رات کا چاند منہ پرسیاہ دھبے لئے خوفزدہ ہو کر سیاہ بادلوں کی اوٹ میں چھپ رہا ہے۔ موت حقارت اور سفاکی کا تبسم منہ پر سجائے دریچوں پر دستک دے رہی ہے۔ ہر طرف موت کا تسلط ہے۔ آدھی رات کے سناٹے کو لو گوں کی چیخیں مزید بھیانک کر رہی ہیں۔ سر سراتی ہواؤں کے ساتھ طرح طرح کی خوفناک آوازیں دہشت میں مزیداضافہ کر رہی ہیں۔ اس ہولناک فضا میں پریشان روحیں منڈلاتی محسوس ہورہی ہیں۔

مِصر میں بڑا کُہرام مچا ہے کیونکہ ایک بھی اَیسا گھر نہیں ہے جس میں کوئی نہ مرا ہو۔ ہر گھر سے آہ وبکا کی آواز آرہی ہے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے پہلوٹھی کے بچے بھی مر رہے ہیں۔ انسانوں کے واویلے میں جانور وں کی درد وکرب میں ڈوبی مہیب آوازیں بھی شامل ہیں۔ فرعون، اس کے سب نوکر اور سب مصری اٹھ بیٹھے۔ پورا ملک ماتم کدہ بن چکا ہے۔ فرعون نے عبرانیوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔ فوج حرکت میں آ چکی ہے۔ مصری بضد ہیں کہ سب جلد از جلد چلے جائیں۔ ان کو خوف ہے کہ اگر عبرانی ادھر رہے تو وہ سارے مارے جائیں گے۔

فوج کے لوگ میرے گھر کے دروازے کو بھی توڑ کر اندر داخل ہو گئے ہیں۔ دروازے پر خون کا نشان دیکھ کر وہ بہت بھڑکے ہوئے ہیں۔ ”تم ہمارے علاقے میں کیا کر رہے ہو۔ جاؤ! اپنے لوگوں میں اور صبح ہو نے سے پہلے ہمارا ملک چھوڑ دو۔ “

انہوں نے دھکے مار کر ہمیں گھر سے باہر نکال دیا۔ ہماری حالت ناگفتہ بہ ہے۔ میں اپنے بوڑھے ماں باپ اور بیوی بچے کے ساتھ جلد از جلد ادھر پہنچ جانا چاہتا ہوں۔ موت ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو چلا کر کہا کہ تم بچے کو لے کر بھاگ جاؤ۔ وہ بھاگ اٹھی۔ بوڑھے ماں باپ میں چلنے کی ہمت نہیں۔ میں ان کو سہارا دے کر لے جا رہا ہوں۔ موت کا سایہ میرے پاؤں کو چھو رہا ہے۔ میں اپنے باپ کا پہلوٹھی کا بیٹا ہوں۔ موت مجھے بھی ساتھ لے کر جائے گی۔ میرا باپ بولا، ”اس وبا نے ہمیں تو ہلاک نہیں کرنا۔ تم اپنی جان بچاؤ۔ “

لیکن اِس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا ہے۔

لوگو! گواہ رہنا۔ میں دین موسوی پر مر رہا ہوں۔ میں نے آسمانی احکامات کو مانا۔ ان پر عمل کیا۔ لیکن دنیاوی پابندیوں پر عمل نہیں کر سکا۔ ان گلیوں میں جہاں موت رقص کناں ہے، ذرہ ذرہ وبا میں لپٹا ہوا ہے، میں وہاں پکڑا گیا۔ میں اپنے گھر کی حدود میں نہیں رہ سکا۔ وبا نے مجھے گھیر لیا ہے۔ اب مجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ساتھ لاکھوں چلیں
  • ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے
  • بس ایک بوند زندگی
  • لذتِ وصل سے انکار بھی ہو سکتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ذرا دیکھیں تو ہو کیا رہا ہے باہر
پچھلی پوسٹ
خود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے

متعلقہ پوسٹس

دشمنی پر وہی تلا ہوا ہے

اگست 5, 2025

حاصلِ جذبِ دُروں سے واصلِ مطلوب تک

اکتوبر 25, 2025

گرتی دیوار کو یا ٹو ٹتے در کو دیکھوں

فروری 13, 2020

آب گم سے

دسمبر 16, 2019

زخم نیا بھی دو تو کیا

اپریل 15, 2018

اے عشق نبیﷺ

دسمبر 19, 2025

بابا نور

اکتوبر 29, 2019

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

مئی 23, 2020

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

جون 2, 2020

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

دسمبر 7, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گستاخانہ خاکے اور امت ِ مسلمہ!

نومبر 28, 2020

پچاس برس کے بعد

مئی 24, 2026

چونّی

مارچ 21, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں