113
دشمنی پر وہی تلا ہوا ہے
جو مِری زندگی بنا ہوا ہے
شورِ گریہ سنائی دینے لگا
قافلہ دشت میں لٹا ہوا ہے
لا شعوری ہے یہ سخن گوئی
میں نے یہ فلسفہ سنا ہوا ہے
میں تو قائل نہ تھا محبت کا
پھر اچانک مجھے یہ کیا ہوا ہے
فتنہ سازی مِرے زمانے کی
ا چھا ہونا بھی تو برا ہوا ہے
اس نے مجھ کو قضا ہے کر رکھا
وہ بھی مجھ سے کہاں ادا ہوا ہے
خود سے ملنے میں دیر کیوں دوشی
آئنہ سامنے پڑا ہوا ہے
ایم اے دوشی
