755
چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں
طارق اقبال حاوی

2 تبصرے
شکرگزار ہوں سلام اردو انتظامیہ کا جنہوں نے میری نظم اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ فرمائی اور مجھے عزت بخشی۔ اللہ پاک ادارے کو مزید ترقی سے نوازے۔ آمین (طارق اقبال ؔحاوی)
آپ کا خیر مقدم ہے