107
عاشق ہزار ہوں مگر اپنا کوئی نہ ہو
جیسے کوئی غزل تو ہو مطلع کوئی نہ ہو
سارے جہان میں کوئی تجھ سا نہیں ملا
دل بھی یہ چاہتا تھا کہ تجھ سا کوئی نہ ہو
چاہوں میں اس ادا سے ترا آئینہ بنوں
مجھ سے تری نگاہ میں اچھا کوئی نہ ہو
بھیجوں میں جس کی سمت کبوتر خیال کے
اس تک پیام لے کے پہنچتا کوئی نہ ہو
چادر سے ڈھانپوں سر یا بچھاؤں زمین پر
پیشانی خاک پر ہو مصلی کوئی نہ ہو
میں شکل دے رہی ہوں تخیل کے شخص کو
کیا ہو کہ جب گمان میں چہرہ کوئی نہ ہو
شہری ہیں وحشیوں سے گریزاں کچھ اس قدر
جنگل کا جیسے شہر سے رشتہ کوئی نہ ہو
ہم کو تو عشق نے ہی تماشا بنا دیا
اب اور زندگی میں تماشہ کوئی نہ ہو
نمرہ میں اپنے آپ سے اس شرط پر ملوں
مل کر بچھڑنے کا مجھے دھڑکا کوئی نہ ہو
نمرہ علی
