132
ٹوٹ کر گرتے ستاروں کی سہیلی ہوں میں
چاندنی ہو کہ اماوس ہو اکیلی ہوں میں
میرے بارے میں تجسس ہے کئی لوگوں کو
مجھ کو یوں دیکھتے ہیں جیسے پہیلی ہوں میں
تیری قسمت کے ستارے ہیں اگر گردش میں
تو مجھے غور سے پڑھ تیری ہتھیلی ہوں میں
قربتوں سے مجھے بیزاری ہوئی ہے ایسی
اب یہ محسوس نہیں ہوتا اکیلی ہوں میں
وہ مجھے ڈھونڈ رہا ہے کہیں گلزاروں میں
اور ویران سرائے کی چنبیلی ہوں میں
نمرہ علی

1 تبصرہ
کیا غزل ہے سبحان اللہ