608
امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں
تو سارے شہر کو اپنے خلاف کرتا ہوں
ترے ضمیر سے تجھ کو سزا ملے تو ملے
ترے گناہ میں دل سے معاف کرتا ہوں
میں اپنی سوچ کا احرام باندھ کر اکثر
کسی کے نقش قدم کا طواف کرتا ہوں
میں اپنے قاری کو مشکل میں ڈالتا ہی نہیں
جو بات کرتا ہوں میں صاف صاف کرتا ہوں
بس ایک جہد مسلسل ہے کائنات اپنی
سو اپنے روح کے اندر شگاف کرتا ہوں
تمھاری ذات کو تسلیم کرنے سے پہلے
میں اپنی ذات سے بھی انحراف کرتا ہوں
پرانے درد مرے دل میں راز ہوتے ہیں
سو روز خود پہ نیا انکشاف کرتا ہوں
میں چاہتا ہوں مرے دوست پر نہ حرف آئے
سو اس کے جرم کا میں اعتراف کرتا ہوں
عدید یاد کے آنگن میں بیٹھ کر تنہا
میں رات تا بہ سحر اعتکاف کرتا ہوں
سید عدید
