649
رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا
تم سے پہلے موجزن کوئی سمندر مجھ میں تھا
آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا
وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا
جیتے جی صحن مزار دوست تھا میرا وجود
اک شکستہ سا پیالہ اور کبوتر مجھ میں تھا
میں کہاں جاتا دکھانے اپنے اندر کا کمال
جو کبھی مجھ پر نہ کھل پایا وہ جوہر مجھ میں تھا
ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو رات دن خود میں حسنؔ
وہ جو کل تک مجھ سے بھی اک شخص بہتر مجھ میں تھا
حسن عباسی
