444
رات یہ کون مرے خواب میں آیا ہوا تھا
صبح میں وادئ شاداب میں آیا ہوا تھا
اک پرندے کی طرح اڑ گیا کچھ دیر ہوئی
عکس اس شخص کا تالاب میں آیا ہوا تھا
میں بھی اس کے لیے بیٹھا رہا چھت پر شب بھر
وہ بھی میرے لیے مہتاب میں آیا ہوا تھا
سرد خطے میں سلگتا ہوا جنگل تھا بدن
آگ سے نکلا تو برفاب میں آیا ہوا تھا
یہ تو صد شکر خیالوں نے ترے کھینچ لیا
میں تو حالات کے گرداب میں آیا ہوا تھا
یاد ہیں دل کو محبت کے شب و روز حسنؔ
گاؤں جیسے کوئی سیلاب میں آیا ہوا تھا
حسن عباسی
