103
عین ممکن هے کوئی مجھ سا ہی پیاسا لا دے
اپنی اس اوک میں بھر کر تجھے دریا لادے
کتنی وحشت هے میری ہجرزده آنکھوں میں
نیند،اب تو ہی کوئی خواب سہانا لا دے
کس میں ہمت هے سدا پشت په باندھے اسکو
عمر بھر کون تیرے پیار کا وعده لا دے
زندگی تیرے حوادث سے بہت عاجز هوں
سانس لینی هے مجھے چین کا لمحه لا دے
روز کہتا تھا فرح توڑ کے تارے لادوں ؟
آج میں نے بھی کہا هے اسے،اچھا،لا دے
سیدہ فرح شاہ
