101
یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی
چوٹ دل کو کہاں لگتی ہے پرانی اپنی
آنکھ نم ناک ہے صحرا کی ہواوں میں بھی
رائگاں گزری محبت میں جوانی اپنی
منحرف ہے یہ محبت سے بڑا کافر ہے
کیوں مرے دل نے کبھی بات نہ مانی اپنی
خواب ٹوٹے ہوئے اب دل میں لیے پھرتا ہوں
رفتگاں چھوڑ گئے ہیں یہ نشانی اپنی
عشق کی آگ کہیں بیچ میں آجاتی ہے
پیاس کس طرح بجھائے کوئی پانی اپنی
خوش نہیں ہوں نئے خوابوں کے نگر میں لودھی
یاد آتی ہے بہت نقل مکانی اپنی
رفیق لودھی
