خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباان کہی بات
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

ان کہی بات

از سائیٹ ایڈمن مارچ 28, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 28, 2022 0 تبصرے 31 مناظر
32

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی کبھی بھی اس کے چہرے کو متالم نہ پایا۔ وہ ایذائے خلق سے لذت پاتی ہوئی موت اسود کی معراج کو پہنچی یا بھوک پیاس اور جسمانی ضروریات پر قابو پا کر تہی داماں و خالی شکم موت ابیض پا کر تصوف کے مراحل طے کرتی ہوئی امر ہو گئی، کچھ بھی کہہ لیں زندہ میت سامنے پڑی تھی۔ اب تجہیز و تکفین کے مراحل طے کرنا ہم دنیا داروں کی ذمہ داری تھی۔

خوبصورت تھی۔ سانولی سی گول مول کتابی چہرے کی مالک؛ گول موٹے رخساروں پر ہیرے جیسی نشیلی آنکھیں جڑی ہوئی تھیں۔ پورے چہرے پر صرف آنکھیں اور آکسیجن کی مستقل کمی سے عنابی خون میں لتھڑے ہونٹ ہی نظر آتے تھے۔ ڈرم سٹک ناخنوں پر اسی رنگ کی نیل پالش لگائے رکھتی۔ آج اس بے جاں چہرے پر بند آنکھیں اور پھول سے ہلکے موٹے ہونٹ سفید بادلوں کی طرح پھٹے دکھائی دیتے تھے۔ خاموش چشم و جبین و رخسار میں یہ ہونٹ کچھ کہتے محسوس ہوتے تھے، کوئی ان کہی سی بات، کوئی ناگفتہ خواہش۔

سر شام اس کی موت کی خبر ملی تو سب دوڑے چلے آئے۔ بہن بھائیوں، رشتہ داروں میں کوئی بھی اس کی ان کہی سننے کو تیار نہیں تھا۔ زیست کی کڑی راہوں پر اسی دکھ کے گھن سے اس کے استخوان خاک ہو گئے تھے۔ اس کھوکھلے پنجر میں دل کی ناکامیوں کے باعث جمع ہونے والے پانی کو نکالنے کے لیے آج کل وہ چھ پیشاب آور گولیاں لے رہی تھی۔

اس انجام کا اسے لڑکپن سے ہی علم تھا۔ کہتی تھی مجھے ادویات کے لیے نوکری کرنی پڑتی ہے ورنہ مجھ میں کام کرنے کی ہمت نہیں۔

بہت سال پہلے دل کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگی اب میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔
کون کرے گا تم سے شادی؟ سب کو تمہاری بیماری کا علم ہے۔ ”
”ہاں، مجھے اپنے جیسا ایک دیوانہ مل گیا ہے۔“
لڑکا بہت پیارا تھا۔ عمر میں بھی تقریباً پندرہ سال چھوٹا۔

کچھ دن بعد تمام خاندان کی مخالفت کے باوجود دونوں نے شادی کرلی۔ بابر گھر چھوڑ کر اس کے پاس ہی آ گیا۔ وہ کسی سیٹھ کی گاڑی چلاتا تھا۔ اب اسی بڑی سی گاڑی میں روزانہ رات رخسانہ کو لینے آتا۔ دونوں کی شان دیکھنے والی ہوتی۔ بلند قد کاٹھ کے ساتھ نخرہ اس کا پہلے ہی آسمان کو چھوتا تھا، اب چھنال دیدہ گھنیری پلکیں مٹکاتی تو بجلیاں کوند جاتیں۔ مریضوں کے ساتھ اس کا پیار مزید بڑھ گیا۔

پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پاؤں بھاری ہوئے تو سانس لینا محال ہو گیا۔ میں نے تو اسے شادی سے منع کرتے وقت سمجھایا تھا۔

”اگر تم حاملہ ہو گیں تو تمہارا دل یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا۔“

پہلے تین ماہ ہی مشکل ہو گئے تو حمل ضائع کروا آئی۔ اس دن دونوں آنکھوں سے جھرنے پھوٹ پڑے۔ لاکھ سمجھایا کہ موٹی آنکھیں سوکھ جائیں گئیں۔ لیکن اس پر اثر ہوا اور نہ ہی آنکھوں پر، بلکہ آنسوؤں کے تبخر سے پپوٹے مزید بھاری ہو گئے۔

ایسی دیوانی تھی کہ کچھ دیر بعد پھر حاملہ ہو گئی۔ میں غصے ہوا تو کہنے لگی ”اسے کس کھونٹے سے باندھ کر رکھوں؟“

”مر جاؤ گی۔“
”پھر کیا ہے؟ دفن کرنے تو ساتھ جائے گا۔ اس کے بغیر بھی تو مر جانا ہے۔“
یاد ہے، میں نے کہا تھا یہ نباہ نہیں ہو سکے گا۔ اس وقت تمہارا کیا جواب تھا؟ ”

”ہاں میں نے کہا تھا، چھوڑ جائے۔ اتنی لمبی زندگی میں سے کچھ دیر تو جی لوں گی۔ دکھوں کا کچھ تو افاقہ ہو گا۔“

اس بار حمل مزید مشکلات لایا اور انجام وہی ہوا۔

پھر وہ بھی چھوڑ کر چلا گیا۔ سخت جان تھی، دل کے پیدائشی نقائص برداشت کر رہی تھی، روایات کی مصیبتیں جھیلیں، جدائی کا دکھ بھی برداشت کر گئی۔

سال ہا سال گزر گئے۔

آج ہمارے سامنے ہی چکرا کر گری اور کہانی ختم ہو گئی۔ اس کی لاش سامنے پڑی تھی۔ رات اس کے خاندان کو منانے کی کوشش کرتا رہا کہ بابر کو پیغام بھیج دیا جائے۔

کچھ دن پہلے ہی مجھے پوچھ رہی تھی ”آپ کو کبھی اس کا فون نہیں آیا؟“
دفن کے لیے قبر کی طرف لے جا رہے تھے تو بہت پہلے کہے الفاظ یاد آئے۔
”مر جاؤں تو کسی گڑھے میں پھینک آنا۔ دفن نہ کرنا۔“
میں قبرستان کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دور سے وہ آتا دکھائی دیا۔

آخری دیدار کروایا جا رہا تھا۔ بابر بھی پہنچ گیا۔ زندہ میت کے بادلوں کی طرح پھٹے سرد سفید ہونٹ مسکراتے نظر آئے۔ اس کی ان کہی شاید بابر نے بھی سن لی،

”سارے دکھ ختم ہو گئے ہیں، اب مجھے قبر میں اتار دو۔“

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں
  • استعارے کی کیا ضرورت ہے
  • گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا
  • مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھنور میں جتنے سہارے کھڑے دکھائی دیے
پچھلی پوسٹ
یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی

متعلقہ پوسٹس

پٹھانے خان

مارچ 14, 2025

کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے

فروری 5, 2020

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا

مئی 23, 2020

ترا تخیّل کمالِ فن سے خیال زلفیں سنوارتا ہے

نومبر 6, 2020

پرانی قبر سے جلتا چراغ اٹھانے سے

دسمبر 13, 2021

آنکھوں کو موندے بیٹھے ہیں طائر مزاج ہم

مئی 14, 2020

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ

مئی 8, 2020

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

نومبر 3, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس کی آنکھوں پہ مان تھا...

جنوری 5, 2025

خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا...

مارچ 16, 2020

نصیر اور خدیجہ

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں