خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباان کہی بات
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

ان کہی بات

از سائیٹ ایڈمن مارچ 28, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 28, 2022 0 تبصرے 43 مناظر
44

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی کبھی بھی اس کے چہرے کو متالم نہ پایا۔ وہ ایذائے خلق سے لذت پاتی ہوئی موت اسود کی معراج کو پہنچی یا بھوک پیاس اور جسمانی ضروریات پر قابو پا کر تہی داماں و خالی شکم موت ابیض پا کر تصوف کے مراحل طے کرتی ہوئی امر ہو گئی، کچھ بھی کہہ لیں زندہ میت سامنے پڑی تھی۔ اب تجہیز و تکفین کے مراحل طے کرنا ہم دنیا داروں کی ذمہ داری تھی۔

خوبصورت تھی۔ سانولی سی گول مول کتابی چہرے کی مالک؛ گول موٹے رخساروں پر ہیرے جیسی نشیلی آنکھیں جڑی ہوئی تھیں۔ پورے چہرے پر صرف آنکھیں اور آکسیجن کی مستقل کمی سے عنابی خون میں لتھڑے ہونٹ ہی نظر آتے تھے۔ ڈرم سٹک ناخنوں پر اسی رنگ کی نیل پالش لگائے رکھتی۔ آج اس بے جاں چہرے پر بند آنکھیں اور پھول سے ہلکے موٹے ہونٹ سفید بادلوں کی طرح پھٹے دکھائی دیتے تھے۔ خاموش چشم و جبین و رخسار میں یہ ہونٹ کچھ کہتے محسوس ہوتے تھے، کوئی ان کہی سی بات، کوئی ناگفتہ خواہش۔

سر شام اس کی موت کی خبر ملی تو سب دوڑے چلے آئے۔ بہن بھائیوں، رشتہ داروں میں کوئی بھی اس کی ان کہی سننے کو تیار نہیں تھا۔ زیست کی کڑی راہوں پر اسی دکھ کے گھن سے اس کے استخوان خاک ہو گئے تھے۔ اس کھوکھلے پنجر میں دل کی ناکامیوں کے باعث جمع ہونے والے پانی کو نکالنے کے لیے آج کل وہ چھ پیشاب آور گولیاں لے رہی تھی۔

اس انجام کا اسے لڑکپن سے ہی علم تھا۔ کہتی تھی مجھے ادویات کے لیے نوکری کرنی پڑتی ہے ورنہ مجھ میں کام کرنے کی ہمت نہیں۔

بہت سال پہلے دل کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگی اب میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔
کون کرے گا تم سے شادی؟ سب کو تمہاری بیماری کا علم ہے۔ ”
”ہاں، مجھے اپنے جیسا ایک دیوانہ مل گیا ہے۔“
لڑکا بہت پیارا تھا۔ عمر میں بھی تقریباً پندرہ سال چھوٹا۔

کچھ دن بعد تمام خاندان کی مخالفت کے باوجود دونوں نے شادی کرلی۔ بابر گھر چھوڑ کر اس کے پاس ہی آ گیا۔ وہ کسی سیٹھ کی گاڑی چلاتا تھا۔ اب اسی بڑی سی گاڑی میں روزانہ رات رخسانہ کو لینے آتا۔ دونوں کی شان دیکھنے والی ہوتی۔ بلند قد کاٹھ کے ساتھ نخرہ اس کا پہلے ہی آسمان کو چھوتا تھا، اب چھنال دیدہ گھنیری پلکیں مٹکاتی تو بجلیاں کوند جاتیں۔ مریضوں کے ساتھ اس کا پیار مزید بڑھ گیا۔

پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پاؤں بھاری ہوئے تو سانس لینا محال ہو گیا۔ میں نے تو اسے شادی سے منع کرتے وقت سمجھایا تھا۔

”اگر تم حاملہ ہو گیں تو تمہارا دل یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا۔“

پہلے تین ماہ ہی مشکل ہو گئے تو حمل ضائع کروا آئی۔ اس دن دونوں آنکھوں سے جھرنے پھوٹ پڑے۔ لاکھ سمجھایا کہ موٹی آنکھیں سوکھ جائیں گئیں۔ لیکن اس پر اثر ہوا اور نہ ہی آنکھوں پر، بلکہ آنسوؤں کے تبخر سے پپوٹے مزید بھاری ہو گئے۔

ایسی دیوانی تھی کہ کچھ دیر بعد پھر حاملہ ہو گئی۔ میں غصے ہوا تو کہنے لگی ”اسے کس کھونٹے سے باندھ کر رکھوں؟“

”مر جاؤ گی۔“
”پھر کیا ہے؟ دفن کرنے تو ساتھ جائے گا۔ اس کے بغیر بھی تو مر جانا ہے۔“
یاد ہے، میں نے کہا تھا یہ نباہ نہیں ہو سکے گا۔ اس وقت تمہارا کیا جواب تھا؟ ”

”ہاں میں نے کہا تھا، چھوڑ جائے۔ اتنی لمبی زندگی میں سے کچھ دیر تو جی لوں گی۔ دکھوں کا کچھ تو افاقہ ہو گا۔“

اس بار حمل مزید مشکلات لایا اور انجام وہی ہوا۔

پھر وہ بھی چھوڑ کر چلا گیا۔ سخت جان تھی، دل کے پیدائشی نقائص برداشت کر رہی تھی، روایات کی مصیبتیں جھیلیں، جدائی کا دکھ بھی برداشت کر گئی۔

سال ہا سال گزر گئے۔

آج ہمارے سامنے ہی چکرا کر گری اور کہانی ختم ہو گئی۔ اس کی لاش سامنے پڑی تھی۔ رات اس کے خاندان کو منانے کی کوشش کرتا رہا کہ بابر کو پیغام بھیج دیا جائے۔

کچھ دن پہلے ہی مجھے پوچھ رہی تھی ”آپ کو کبھی اس کا فون نہیں آیا؟“
دفن کے لیے قبر کی طرف لے جا رہے تھے تو بہت پہلے کہے الفاظ یاد آئے۔
”مر جاؤں تو کسی گڑھے میں پھینک آنا۔ دفن نہ کرنا۔“
میں قبرستان کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دور سے وہ آتا دکھائی دیا۔

آخری دیدار کروایا جا رہا تھا۔ بابر بھی پہنچ گیا۔ زندہ میت کے بادلوں کی طرح پھٹے سرد سفید ہونٹ مسکراتے نظر آئے۔ اس کی ان کہی شاید بابر نے بھی سن لی،

”سارے دکھ ختم ہو گئے ہیں، اب مجھے قبر میں اتار دو۔“

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے
  • صبر تو کرحساب رکھتا ہوں
  • یوم کشمیر اور ہمارا کردار
  • ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھنور میں جتنے سہارے کھڑے دکھائی دیے
پچھلی پوسٹ
یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی

متعلقہ پوسٹس

خواب سہانے بیچ رہی ہوں

اکتوبر 12, 2025

پہلی ملاقات

مئی 2, 2020

کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں؟

اپریل 22, 2026

اندھیرے کا سفر

دسمبر 6, 2024

تضادات کی درمیانی کیفیت

جون 13, 2025

رب نہیں روٹھتا!

اکتوبر 9, 2022

اماں اسکو دیکھتی رہ گئی

جنوری 25, 2025

سیانے، غلام اور بندوقچی

جنوری 16, 2020

مصالحے اور صحت

جون 15, 2025

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

بہروپیا

جنوری 12, 2020

ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں

نومبر 8, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں