خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارب نہیں روٹھتا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

رب نہیں روٹھتا!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 96 مناظر
97

راستے پر بیٹھے ایک بزرگ نے سامنے سے گزرنے والی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کر دی جو اس عورت کے ساتھ چلنے والے شخص کو ناگوار گزری اور اس نے بزرگ پر ہاتھ اٹھا دیا اور آگے بڑھ گئے ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ اس جوڑے کو حادثہ پیش آگیا، آس پاس موجود لوگ اس سارے ماجرے کا مشاہدہ کر رہے تھے ان میں سے کسی نے بزرگ سے جا کر واقع سے آگاہ کیا اور اس اس جوڑے کے ساتھ پیش آنے والاحادثہ بیان کرنے کے بعد استفسار کیا کہ آپ نے انہیں بد دعا دی تھی جس کی وجہ سے انہیں حادثے نے آلیا، بزرگ بولے، نہیں ایسا نہیں ہم دعا دینے والے لوگ ہیں ،شائد ماجرا کچھ یوں ہوا ہو کہ ہم نے اسکے محبوب کی تعریف کی تو اسے برا لگاجسکا اسنے ردعمل ظاہر کیا اب شائد ہ میں بھی کوئی محبوب رکھتا ہو اور ہمارے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اسے ناگوار گزرا ہواور اس نے اسکا بدلہ لیا ہو ۔ یوں تو دنیا میں ایسی مثالیں عام ملتی ہیں اور معلوم نہیں ایسے معاملات پر کتنے فساد ہوتے اور کس حد تک ہوتے ہیں ۔ دوستی یاریاں ایسے ہی نبھائی جاتی ہیں بلکہ اگر کوئی دوست کسی جھگڑے سے لاتعلق ہوجائے تو اسکا سماجی نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ جن کا خمیر محبت کے عرق سے گوندا گیا ہو بھلا وہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی کہاں نفرت کرسکتے ہیں ، جب نفرت نہیں ہوگی تو نفی نہیں ہوگی اور بھلا کوئی کس طرح سے محبت کی خوشبو سے دور رہ سکے گا ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مقرب ہوتے ہیں جو جڑے ہوئے ہوتے ہیں مگر دیکھائی نہیں دیتے مگر جب دیکھائی دیتے ہیں تو دیکھنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے ۔ تخلیق کار سے روٹھ جاءو یا پھر تخلیق سے بات تو ایک ہی ہوتی ہے ، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور جو اس تعلق کو توڑ لیتے ہیں وہ گھور اندھیرے میں پیش قدمی شروع کردیتے ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم انہیں اندھیرے میں موجود اندھے کنویں میں ہمیشہ کیلئے لے جاتا ہے ۔

آج ہم ایک اصطلاح بہت سنتے ہیں جسے انگریزی زبان میںStandard Operating Procedure (SOP) کہا جاتا ہے یعنی کسی بھی کام کرنے کا ایک میعاری طریقہ کار بلکل اسی طرح سے ایک ایسا ہی واضح اور مدلل زندگی گزارنے کا طریقہ کار ہمارے لئے ترتیب دے کر اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا ۔ ہدایت کی روشنی حالے کی مانند ہے جس کے قطر کا اندازہ لگانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور نا ہی ہم یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ یہ دائرہ گول ہے یا چکور یا پھر کسی اور زاوئیے کا ہے ، یہ سب جاننے والا ہی جانتا ہے ۔ اس قطر میں داخل ہونے کا ایک انتہائی وضاحت کے ساتھ طریقہ کاررہتی دنیا تک کیلئے دنیا میں موجود ہے اوراسکی تعلیمات کو سمجھانے کیلئے ایک معلم حضرت محمد مصطفے ﷺکے ذریعہ سے انسانیت تک پہنچایا اور آپ ﷺ کا ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے رہاجو ہماری رہنمائی کا سبب بنا ، دنیا اس کتاب کو واضح طریقہ کار کو قران مجید فرقان حمید کے نام سے جانتی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح کرتے چلیں کے اس روشنی کے حالے سے باہر ایسا اندھیرا ہے کہ جس میں ہاتھ کو ہاتھ نا سجھائی دے ۔ روشنی کے حالے میں داخلے کی بس ایک ہی شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ بتائے گئے راستے پر،بتائے گئے عمل کیساتھ سفر جاری رکھا جائے ۔ اس پر عمل پیرا ہوکر ہم اس قطر میں داخل ہوسکتے ہیں اور رب کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اس بات کی فکر تو سب کو رہتی ہے کہ جو آپ سے محبت کرنے والے ہیں یا تعلق دار ہیں ناراض نا ہوں جسکے لئے انکی پسند اور ناپسند کا خیال بھی رکھا جاتا ہے لیکن اللہ اور رحمت اللعالمین ﷺ کی ناراضگی سے ماورا ہوچکے ہیں ۔

دنیاوی اعتبار سے یہ بات بہت عام ہے کہ اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نا ہوجائے لیکن اس سے ماں کبھی نہیں روٹھتی کسی نا کسی بہانے سے نافرمان اولاد کی خبر گیری کرتی ہی رہتی ہے ، یہ ایک ماں کی محبت کا نمونہ ہے جس نے اولاد کو پیدا کیا ہے، دوسری طرف وہ ہے جس نے رہتی دنیا تک کیلئے اس تخلیق کو اپنی تخلیقات میں اول درجے پر فائز کردیا ہے، امت محمدی ﷺ کو اپنی تمام امتوں پر فائز کردیا ہے اور جو یہ باور کراتا ہے کہ میں اپنے بندے سے ستر ماءوں سے زیادہ پیار کرتا ہوں ۔

خالق کائنات نے دنیا کی نعمتیں کسی پر مخصوص نہیں کیں ، تھوڑی سی تگ و دو کرنی پڑتی ہے ہر شے دنیا کے کسی بھی کونے میں دستیاب ہوجاتی ہے ، دستیابی کو یقینی بنایا ایک بات ان نعمتوں تک رسائی کے ذراءع سے بھی آگاہ کیا گیا ہے، جو جتنی محنت کرے گا وہ اتنی پر تعیش زندگی گزارنے کا اہل ہوسکتا ہے لیکن یہ کلیہ صرف دنیاوی زندگی کیلئے ہے ۔ اس کا تعلق دینوی زندگی سے نہیں جوڑا جاسکتا سوائے اسکے کہ دونوں میں محنت کولازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک طرف محنت ہوتی بھاگ دوڑ ہوتی ہے کہ کس طرح سے اپنی زندگی کو پر تعیش بنایا جائے اور دنیا میں موجود ہر سہولت کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کسی معمولی سی غلطی کو اگر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں تو یہ معمولی سی غلطی وقت کے ساتھ ساتھ بہت بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے ۔ ہم اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ نقصان کے پیچھے بہت سارے محرکات پوشیدہ ہوتے ہیں جن میں غلط فہمی سے لیکر آگہی کی غلط ترویج تک شامل ہیں ۔ ہم بطور انسان اپنی طاقت کے دور میں کمزوری سے ملاقات کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں ۔ اعتدال نہیں ہوگا تو پھونچال ہوگا جو کچھ بھی خراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ہم دھیان دیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم جس مشکل میں پھنس گئے ہیں اس کا جال بھی ہم نے خود ہی بنا تھا ۔ بہت مشہور ہے کہ دھوکا اپنے مرکز سے بہت پیار کرتا ہے یعنی جو دھوکا دے رہا ہوتا ہے اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آنے والے کسی دن میں یہ دھوکا واپس پلٹ کر اسکے پاس آئے گا ۔

گزشتہ دنوں ہونے والی بارشیں اس حد تک ہوگئیں کہ تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑگیا ۔ پاکستان کے پاس کتنے وسائل موجود ہیں اس بات سے ہم پاکستانی تو کیا ساری دنیا ہی واقف ہے ۔ سیلاب نے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور سیلاب کی بے رحمی نے یہ بھی نہیں دیکھا کے کس کا گھر کچا ہے ، کس کے گھر میں معذور ہے اور کون سی چھت ایسی ہے جس کے نیچے رہنے والوں کے پاس سوائے اس کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ بظاہر ہم کسی کو اس سیلاب کا کیا کسی بھی قدرتی آفت کا ذمہ دارنہیں ٹہراسکتے، کیونکہ جو کچھ بھی اس ملک میں ہو رہا ہے من حیث القوم ہم سب اسکے ذمہ دار ہیں ۔ آپ نے یہ بھی کہا ہوگا یا پھر کہتے سنا ہوگا کہ آج ہماری قوم میں وہ ساری برائیاں عام ہوچکی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ایک ایک قوم کو نیست و نابود کیا گیا ۔ سماجی ابلاغ ایک ایسا ثبوت بن گیا ہے کہ جہاں سب کچھ دیکھا اور سنا جاسکتا ہے جس کو کوئی غلط بھی ثابت نہیں کر سکتا ۔ اس سیلاب کو سمجھنے والوں نے اپنے گناہوں کی بدولت قدرت کا عذاب سمجھا ، اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا اور سنا گیا کہ اب بھی اگر نہیں سدھرے تو پھر کہیں پتھروں کی بارش ہ میں نیست و نابود کرنے کیلئے نا آجائے ۔ ان دونوں باتوں کا اگر من حیث القوم ہمارے اعمال پرفرق پڑجائے تو بہت اچھی بات ہے اگر ہم بطور قوم توبہ کرلیں اور سیدھے راستے پر جس پر چل کر روشنی کے حالے میں داخل ہوا جاسکتا ہے چلنے لگے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن یہ جان لیجئے رب نہیں روٹھتا بس ہم ہی ہیں جو رب کی طرف جانے والے راستے سے رخ موڑ لیتے ہیں تو ہم خود ہی دلدل یا کھائی کا انتخاب کرتے ہیں پھر ہم یہ کہنے کا جواز نہیں رکھتے کہ رب روٹھ گیا ہے ۔ صراط مستقیم پر لوٹ آئیے اور ہدایت کے حالے میں داخل ہوجائیے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفرنامہ بھارت – آخری قسط
  • الحمد للہ
  • جلوس
  • شعلہ، کبھی شبنم، کبھی خنجر تری آنکھیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سیلاب، سیاست اور مہنگائی!
پچھلی پوسٹ
کیا ایسانہیں ہوسکتا

متعلقہ پوسٹس

حرف و بیاں میں اس لیے مہکارِ نعت ہے

مارچ 24, 2020

دل کو کر دیتا ہے تسخیر

فروری 26, 2025

مُجھے اسکول نہیں جانا

نومبر 11, 2025

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

مئی 13, 2020

اگر آپ نیک ہیں تو

جولائی 5, 2026

اے نیند نگر کی پریو۔۔۔ !

جون 15, 2025

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

فروری 19, 2020

بدلتے موسم

جون 22, 2025

انت بھئے رت بسنت میرو

جنوری 7, 2020

لہک رہی ہے کسی گُل کی باس گلیوں میں

جون 13, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نقشِ ماضی

جنوری 6, 2021

حالات قابو میں نہیں ہیں !

مئی 3, 2020

رات بھر جاگنا قبول کیا

جون 21, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں