خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارب نہیں روٹھتا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

رب نہیں روٹھتا!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 32 مناظر
33

راستے پر بیٹھے ایک بزرگ نے سامنے سے گزرنے والی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کر دی جو اس عورت کے ساتھ چلنے والے شخص کو ناگوار گزری اور اس نے بزرگ پر ہاتھ اٹھا دیا اور آگے بڑھ گئے ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ اس جوڑے کو حادثہ پیش آگیا، آس پاس موجود لوگ اس سارے ماجرے کا مشاہدہ کر رہے تھے ان میں سے کسی نے بزرگ سے جا کر واقع سے آگاہ کیا اور اس اس جوڑے کے ساتھ پیش آنے والاحادثہ بیان کرنے کے بعد استفسار کیا کہ آپ نے انہیں بد دعا دی تھی جس کی وجہ سے انہیں حادثے نے آلیا، بزرگ بولے، نہیں ایسا نہیں ہم دعا دینے والے لوگ ہیں ،شائد ماجرا کچھ یوں ہوا ہو کہ ہم نے اسکے محبوب کی تعریف کی تو اسے برا لگاجسکا اسنے ردعمل ظاہر کیا اب شائد ہ میں بھی کوئی محبوب رکھتا ہو اور ہمارے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اسے ناگوار گزرا ہواور اس نے اسکا بدلہ لیا ہو ۔ یوں تو دنیا میں ایسی مثالیں عام ملتی ہیں اور معلوم نہیں ایسے معاملات پر کتنے فساد ہوتے اور کس حد تک ہوتے ہیں ۔ دوستی یاریاں ایسے ہی نبھائی جاتی ہیں بلکہ اگر کوئی دوست کسی جھگڑے سے لاتعلق ہوجائے تو اسکا سماجی نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ جن کا خمیر محبت کے عرق سے گوندا گیا ہو بھلا وہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی کہاں نفرت کرسکتے ہیں ، جب نفرت نہیں ہوگی تو نفی نہیں ہوگی اور بھلا کوئی کس طرح سے محبت کی خوشبو سے دور رہ سکے گا ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مقرب ہوتے ہیں جو جڑے ہوئے ہوتے ہیں مگر دیکھائی نہیں دیتے مگر جب دیکھائی دیتے ہیں تو دیکھنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے ۔ تخلیق کار سے روٹھ جاءو یا پھر تخلیق سے بات تو ایک ہی ہوتی ہے ، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور جو اس تعلق کو توڑ لیتے ہیں وہ گھور اندھیرے میں پیش قدمی شروع کردیتے ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم انہیں اندھیرے میں موجود اندھے کنویں میں ہمیشہ کیلئے لے جاتا ہے ۔

آج ہم ایک اصطلاح بہت سنتے ہیں جسے انگریزی زبان میںStandard Operating Procedure (SOP) کہا جاتا ہے یعنی کسی بھی کام کرنے کا ایک میعاری طریقہ کار بلکل اسی طرح سے ایک ایسا ہی واضح اور مدلل زندگی گزارنے کا طریقہ کار ہمارے لئے ترتیب دے کر اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا ۔ ہدایت کی روشنی حالے کی مانند ہے جس کے قطر کا اندازہ لگانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور نا ہی ہم یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ یہ دائرہ گول ہے یا چکور یا پھر کسی اور زاوئیے کا ہے ، یہ سب جاننے والا ہی جانتا ہے ۔ اس قطر میں داخل ہونے کا ایک انتہائی وضاحت کے ساتھ طریقہ کاررہتی دنیا تک کیلئے دنیا میں موجود ہے اوراسکی تعلیمات کو سمجھانے کیلئے ایک معلم حضرت محمد مصطفے ﷺکے ذریعہ سے انسانیت تک پہنچایا اور آپ ﷺ کا ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے رہاجو ہماری رہنمائی کا سبب بنا ، دنیا اس کتاب کو واضح طریقہ کار کو قران مجید فرقان حمید کے نام سے جانتی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح کرتے چلیں کے اس روشنی کے حالے سے باہر ایسا اندھیرا ہے کہ جس میں ہاتھ کو ہاتھ نا سجھائی دے ۔ روشنی کے حالے میں داخلے کی بس ایک ہی شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ بتائے گئے راستے پر،بتائے گئے عمل کیساتھ سفر جاری رکھا جائے ۔ اس پر عمل پیرا ہوکر ہم اس قطر میں داخل ہوسکتے ہیں اور رب کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اس بات کی فکر تو سب کو رہتی ہے کہ جو آپ سے محبت کرنے والے ہیں یا تعلق دار ہیں ناراض نا ہوں جسکے لئے انکی پسند اور ناپسند کا خیال بھی رکھا جاتا ہے لیکن اللہ اور رحمت اللعالمین ﷺ کی ناراضگی سے ماورا ہوچکے ہیں ۔

دنیاوی اعتبار سے یہ بات بہت عام ہے کہ اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نا ہوجائے لیکن اس سے ماں کبھی نہیں روٹھتی کسی نا کسی بہانے سے نافرمان اولاد کی خبر گیری کرتی ہی رہتی ہے ، یہ ایک ماں کی محبت کا نمونہ ہے جس نے اولاد کو پیدا کیا ہے، دوسری طرف وہ ہے جس نے رہتی دنیا تک کیلئے اس تخلیق کو اپنی تخلیقات میں اول درجے پر فائز کردیا ہے، امت محمدی ﷺ کو اپنی تمام امتوں پر فائز کردیا ہے اور جو یہ باور کراتا ہے کہ میں اپنے بندے سے ستر ماءوں سے زیادہ پیار کرتا ہوں ۔

خالق کائنات نے دنیا کی نعمتیں کسی پر مخصوص نہیں کیں ، تھوڑی سی تگ و دو کرنی پڑتی ہے ہر شے دنیا کے کسی بھی کونے میں دستیاب ہوجاتی ہے ، دستیابی کو یقینی بنایا ایک بات ان نعمتوں تک رسائی کے ذراءع سے بھی آگاہ کیا گیا ہے، جو جتنی محنت کرے گا وہ اتنی پر تعیش زندگی گزارنے کا اہل ہوسکتا ہے لیکن یہ کلیہ صرف دنیاوی زندگی کیلئے ہے ۔ اس کا تعلق دینوی زندگی سے نہیں جوڑا جاسکتا سوائے اسکے کہ دونوں میں محنت کولازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک طرف محنت ہوتی بھاگ دوڑ ہوتی ہے کہ کس طرح سے اپنی زندگی کو پر تعیش بنایا جائے اور دنیا میں موجود ہر سہولت کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کسی معمولی سی غلطی کو اگر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں تو یہ معمولی سی غلطی وقت کے ساتھ ساتھ بہت بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے ۔ ہم اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ نقصان کے پیچھے بہت سارے محرکات پوشیدہ ہوتے ہیں جن میں غلط فہمی سے لیکر آگہی کی غلط ترویج تک شامل ہیں ۔ ہم بطور انسان اپنی طاقت کے دور میں کمزوری سے ملاقات کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں ۔ اعتدال نہیں ہوگا تو پھونچال ہوگا جو کچھ بھی خراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ہم دھیان دیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم جس مشکل میں پھنس گئے ہیں اس کا جال بھی ہم نے خود ہی بنا تھا ۔ بہت مشہور ہے کہ دھوکا اپنے مرکز سے بہت پیار کرتا ہے یعنی جو دھوکا دے رہا ہوتا ہے اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آنے والے کسی دن میں یہ دھوکا واپس پلٹ کر اسکے پاس آئے گا ۔

گزشتہ دنوں ہونے والی بارشیں اس حد تک ہوگئیں کہ تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑگیا ۔ پاکستان کے پاس کتنے وسائل موجود ہیں اس بات سے ہم پاکستانی تو کیا ساری دنیا ہی واقف ہے ۔ سیلاب نے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور سیلاب کی بے رحمی نے یہ بھی نہیں دیکھا کے کس کا گھر کچا ہے ، کس کے گھر میں معذور ہے اور کون سی چھت ایسی ہے جس کے نیچے رہنے والوں کے پاس سوائے اس کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ بظاہر ہم کسی کو اس سیلاب کا کیا کسی بھی قدرتی آفت کا ذمہ دارنہیں ٹہراسکتے، کیونکہ جو کچھ بھی اس ملک میں ہو رہا ہے من حیث القوم ہم سب اسکے ذمہ دار ہیں ۔ آپ نے یہ بھی کہا ہوگا یا پھر کہتے سنا ہوگا کہ آج ہماری قوم میں وہ ساری برائیاں عام ہوچکی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ایک ایک قوم کو نیست و نابود کیا گیا ۔ سماجی ابلاغ ایک ایسا ثبوت بن گیا ہے کہ جہاں سب کچھ دیکھا اور سنا جاسکتا ہے جس کو کوئی غلط بھی ثابت نہیں کر سکتا ۔ اس سیلاب کو سمجھنے والوں نے اپنے گناہوں کی بدولت قدرت کا عذاب سمجھا ، اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا اور سنا گیا کہ اب بھی اگر نہیں سدھرے تو پھر کہیں پتھروں کی بارش ہ میں نیست و نابود کرنے کیلئے نا آجائے ۔ ان دونوں باتوں کا اگر من حیث القوم ہمارے اعمال پرفرق پڑجائے تو بہت اچھی بات ہے اگر ہم بطور قوم توبہ کرلیں اور سیدھے راستے پر جس پر چل کر روشنی کے حالے میں داخل ہوا جاسکتا ہے چلنے لگے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن یہ جان لیجئے رب نہیں روٹھتا بس ہم ہی ہیں جو رب کی طرف جانے والے راستے سے رخ موڑ لیتے ہیں تو ہم خود ہی دلدل یا کھائی کا انتخاب کرتے ہیں پھر ہم یہ کہنے کا جواز نہیں رکھتے کہ رب روٹھ گیا ہے ۔ صراط مستقیم پر لوٹ آئیے اور ہدایت کے حالے میں داخل ہوجائیے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوشی خوشی سے مگر اپنے بن رہا ہوں میں
  • محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
  • ریشم کی مہک
  • مشین گردی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سیلاب، سیاست اور مہنگائی!
پچھلی پوسٹ
کیا ایسانہیں ہوسکتا

متعلقہ پوسٹس

ہمارے سینے میں جو خلا تھا

مئی 28, 2020

رہنمائی کے لئے ہم نے سہارا باندھا

نومبر 27, 2021

استخارہ

مارچ 15, 2026

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020

چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا

مئی 23, 2020

مسٹر معین الدین

جنوری 17, 2020

اللہ والے

جنوری 2, 2022

جھوٹ پر صاد کرنا پڑتا ہے

نومبر 14, 2021

مرے چاند رک مری بات سن

فروری 11, 2020

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سفر

دسمبر 13, 2021

رخِ مصطفیٰ ﷺ ہے صحیفہ ہمارا

اکتوبر 24, 2025

کیسے رہیں نہ لوگ یہاں

مئی 31, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں