خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامامن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

"عالمی ضمیر کی عدالت میں جب بھی ‘امن’ کا مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو جج سے لے کر وکیل تک سبھی ایک ایسی طویل جمائی لیتے ہیں جس کی بازگشت انسانیت کے جنازے سے بھی زیادہ اونچی سنائی دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے منصفوں کے لیے مظلوم کا لہو اب کوئی المیہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا پرانا اور گھسا پٹا اسکرپٹ بن چکا ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ بری طرح اکتا چکے ہیں۔ یہاں امن کی میزیں تو سجائی جاتی ہیں مگر ان پر رکھا منرل واٹر پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ خون کے دھبے دھونے کے کام آتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ‘امن کی مجلس محض ایک کاغذی خانہ پری بن کر رہ گئی ہے، کیونکہ طاقتور ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب امن قائم کرنے کے بجائے، امن کے انتظار سے بیزار ہو چکے ہیں۔”
عالمی برادری کے پاس اقوام متحدہ کی تاسیس سے دنیا کے مسلم جنگ زدہ علاقوں کے زخموں” کا علاج کرنے کا ایک انوکھا ہی ڈھنگ ہے۔ دہائیوں سے اس مسئلے کو ایک انسانی المیے کے بجائے کسی پرانی ڈائری کے اس اندراج کی طرح دیکھا جا رہا ہے جسے ہر سال بس دہرانا مقصود ہو۔ "امن کی پنچایت” امن بورڈ یعنی ان دانا بزرگوں کی ٹولی جو مسئلے کا حل ڈھونڈنے نکلی تھی—سے اب "امن کی بوریت” کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں جہاں دنیا کی اجتماعی جمائیوں کا شور گرتی ہوئی عمارتوں کے ملبے کی آواز سے کہیں زیادہ بلند ہے۔
جب ہم کسی "بورڈ” یا "مجلس” کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں چمکتی ہوئی میزیں، مہنگا منرل واٹر اور استری شدہ سوٹ پہنے وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی گھڑیاں دیکھتے ہوئے "شدید تشویش” کا اظہار کرنے کے فن میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ غزہ کشمیر بوسنیا چیچنیا صومالیہ سوڈان شام لیبیا وغیرہ کے لیے بنائی گئیں یہ امن کی مجالس تاریخ کے وہ سب سے معتبر ادارہ ے ہیں اور تھے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہونے جیسا ہی رہا۔ کیونکہ ان کا اصل کام صرف کاغذ کالے کرنا رہا۔ اگر ان "پر زور مذمتی بیانات” کو لکھنے میں جلائی جانے والی توانائی کو بجلی میں بدل دیا جاتا، تو شاید غزہ دنیا کا روشن ترین خطہ ہوتا—اگرچہ یہ مجلس اس وقت بھی "بجلی کی بچت” پر ایک طویل بیان جاری کر کے وہاں دوبارہ اندھیرا کر دیتی۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ "مجلس” اب تھک چکی ہے۔ امن قائم کرنا ایک اکتا دینے والا کام ہے۔ اس کے لیے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اسلحہ بیچنے والوں کے مفادات کو قربان کرنا پڑتا ہے اور—توبہ توبہ—انسانوں کو انسان سمجھنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جنگ ایک "فلم” کی طرح ہے۔ یہ ٹی وی چینلوں کو رنگین فوٹیج فراہم کرتی ہے اور بارود بنانے والوں کی تجوریاں ہری بھری رکھتی ہے۔ امن ایک خشک حساب کتاب ہے، جبکہ جنگ ایک سنسنی خیز ڈرامہ۔ آپ خود سوچ لیں کہ لوگ کسے زیادہ دیکھنا پسند کریں گے۔
"امن سے بیزاری” آج کے دور کا اصل ایجنڈا ہے۔ ہم ملبے اور لاشوں کی تصویریں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، کیونکہ اب ان میں وہ "ورائٹی” نہیں رہی جو ہمیں انٹرنیٹ پر چاہیے۔ ہماری ہمدردی اس حد تک تھک چکی ہے کہ اسے اب باقاعدہ ایک بیماری کا نام دے دینا چاہیے۔ اگر ہمدردی کوئی موبائل پیکج ہوتی، تو ہم میں سے اکثر اسے "نئے مواد کی کمی” کی وجہ سے بہت پہلے ہی بند کروا چکے ہوتے۔
یہ بیزاری دراصل ایک ہتھیار ہے۔ جب دنیا اکتا کر نظریں پھیر لیتی ہے، تو اس "مجلس” کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی نتیجے کے اپنی میٹنگیں قیامت تک جاری رکھ سکے۔ امن کا یہ عمل اس ورزش والی مشین کی طرح ہے جس پر بندہ بھاگتا تو بہت ہے، پسینہ بھی خوب نکلتا ہے، مگر پہنچتا کہیں نہیں۔ اگر یہ کوئی جم (Gym) ہوتا تو اس کی فیسیں آسمان چھو رہی ہوتیں اور بارود بنانے والی کمپنیاں اس مشین کو سپانسر کر رہی ہوتیں۔
اگر ہم امن کی اس مجلس کو کسی کاروباری ادارے کی نظر سے دیکھیں تو طنز اور گہرا ہو جاتا ہے۔ کسی بھی دوسری کمپنی میں، اگر کوئی کمیٹی پچھتر سال تک اپنی بنیادی چیز (یعنی امن) فراہم کرنے میں ناکام رہتی، تو اسے سزا دے کر نکال دیا جاتا۔ مگر "جنگ کی انڈسٹری” میں ناکامی کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔ لاکھوں روپے پہلے تعمیر کے لیے مانگے جاتے ہیں، پھر لاکھوں کا بارود اسی تعمیر کو گرانے کے لیے بیچ دیا جاتا ہے، اور آخر میں یہ مجلس "پرانی صورتحال” برقرار رکھنے کی دہائی دیتی ہے۔
یہ "پرانی صورتحال” یا "جمود” دراصل آج تک کی سب سے دلچسپ اور منافقانہ اصطلاح ہے۔ یہ توازن کا دھوکہ دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک سست رفتار خودکشی ہے۔ مگر دنیا بھر کے تماشائیوں کے لیے یہ صورتحال بڑی آرام دہ ہے، کیونکہ اس میں انہیں اپنی پالیسیاں نہیں بدلنی پڑتیں۔ یہ بالکل اس خراب فائر الارم کی طرح ہے جو کبھی نہیں بجتا، مگر ہر کوئی اسے دیکھ کر اطمینان کی اداکاری کرتا ہے۔
اصل تماشہ تو ان "امن کے سفیروں” کو دیکھ کر شروع ہوتا ہے۔ یہ صاحبِ جاہ و حشمت پرائیویٹ جہازوں میں آتے ہیں، مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں، بیس منٹ کے لیے کسی تباہ شدہ جگہ کا فوٹو سیشن کرواتے ہیں اور پھر پریس کانفرنس میں فرماتے ہیں کہ "صورتحال بڑی پیچیدہ ہے”۔ یہ "پیچیدگی” دراصل ایک بیزار آدمی کا آخری بہانہ ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ ہوم ورک سے بچنے کے لیے کہے کہ "امی، سوال بہت مشکل ہے”۔ بیس لاکھ انسانوں کی تڑپ کو "پیچیدہ” کہہ کر یہ مجلس اس فائل کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے جہاں یہ پچھلی آدھی صدی سے پڑی ہے۔
یہ مجلسیں منرل واٹر پیتی ہیں اور دنیا جمائیاں لیتی ہے، "امن سے اکتا جانا” ان لوگوں کا شوق ہے جن کے اپنے گھر سلامت ہیں۔ کسی المیے سے بور ہونا اس وقت بہت آسان ہے جب آپ خود اس کا نشانہ نہ ہوں۔ غزہ کے لوگوں کے لیے امن کوئی "بیانیہ” یا "میٹنگ” نہیں، بلکہ ایک ایسا افسانوی کردار ہے جسے کبھی کسی نے جیتا جاگتا نہیں دیکھا۔
شاید اب اس مجلس کو برخواست کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر دنیا کی بڑی طاقتوں کی عقل صرف ایسی "بیزاری” پیدا کر سکتی ہے جو ایک قوم کے مستقبل کو مٹانے میں مدد دے، تو ایسی دانشوری دیوالیہ ہو چکی ہے۔ ہمیں مزید "سفیروں” یا "نقشہ راہ” کی ضرورت نہیں جو بند گلیوں میں ختم ہو جائیں۔ ہمیں ایسی دنیا چاہیے جو "جنگ سے بیزار” ہو چکی ہو۔ ہمیں ایک ایسی عالمی برادری چاہیے جسے بم سے اڑے ہوئے اسکول کا منظر اتنا برا اور اکتا دینے والا لگے کہ وہ اس پورے ڈرامے کو ہی بند کرنے کا مطالبہ کر دے۔
تب تک، یہ مجلسیں ہوتی رہیں گی۔ منرل واٹر کے گلاس بھرے جاتے رہیں گے۔ بیانات جاری ہوتے رہیں گے۔ اور دنیا اپنے موبائل کی اسکرین اسکرول کرتی رہے گی، کسی ایسی چیز کی تلاش میں جو ایک انسانی روح کی بقا سے زیادہ "دلچسپ” ہو۔

از
اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مردیاں ھوٸیاں سدھراں نوں
  • دلکش لگیں جناب، بلوچی لباس میں
  • مریم مختیار
  • اسلام میں خواتین کا مقام اور پردہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے
پچھلی پوسٹ
کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

متعلقہ پوسٹس

نظارہ درمیان ہے

نومبر 15, 2019

محبت کی پرواز

فروری 8, 2025

سارا جرم تمھارا ہے

نومبر 26, 2021

مکروہات میں عبودیت کی ادائیگی

دسمبر 6, 2025

آہ

جنوری 16, 2021

خاموش قربانی کا پہرہ

مارچ 6, 2026

ایک پیچیدہ حقیقت

فروری 1, 2025

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

حفیظ جالندھری کی شاعری

دسمبر 4, 2019

قابل سلیوٹ ڈاکٹرز کو گولی

جولائی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حریص اس قدر ہے انساں

جنوری 25, 2026

کتنی دور سے چلتے چلتے

جنوری 12, 2026

راشد الخیری : حیات اور کارنامے

مئی 19, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں