مکروہات میں عبودیت کی ادائیگی—ایک عظیم ایمانی مقام
انسان کی زندگی سراسر آزمائش ہے، اور اس آزمائش کا سب سے لطیف راز یہ ہے کہ بندہ اللہ کا عبد بن کر ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے—خواہ حال خوشگوار ہو یا ناخوشگوار، موافق ہو یا مخالف۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر امام ابن القیم رحمہ اللہ نے "صحیح وابل الصیب” میں نہایت گہری بصیرت سے روشنی ڈالی، اور واضح فرمایا کہ عبودیت کی اصل قدر و قیمت تکلیف میں ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ راحت میں۔
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس لئے نہیں آزماتا کہ اسے تباہ کرے، بلکہ اس لئے کہ
اس کے صبر، اس کی ثبات قدمی، اس کی عبودیت اور اس کی سچائی کا امتحان لے۔
اگر انسان صرف آسانیوں میں اللہ کا بندہ بنے، اور تکلیف آتے ہی اس کی شرکت کم ہو جائے، تو یہ عبودیت نہیں بلکہ سہولت پسندی ہے۔ سچی بندگی وہ ہے جو ہر موسم میں برقرار رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے۔
آزمائش کا یہ دروازہ بندے کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔
سرّاء اور ضرّاء: دونوں میں اللہ کا حق ہے
اللہ کا بندے پر خوش حالی میں بھی حق ہے، اور تنگی و تکلیف میں بھی۔
محبت والی چیزوں میں بھی بندگی ہے، اور ناپسندیدہ چیزوں میں بھی۔
یہ کتنا عظیم اصول ہے!
زیادہ لوگ صرف اُن عبادات کو ادا کرتے ہیں جو انہیں خوشی دیتی ہیں:
آرام سے نماز،
آسان روزہ،
راحت کے ساتھ نیکی،
اور وہ اعمال جن میں تھکن یا تکلیف نہ ہو۔
مگر اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں طبیعت گھبراتی ہے، نفس ادھر نہیں جاتا، خواہش کچھ اور چاہتی ہے، اور ماحول ساتھ نہیں دیتا۔
چند مثالیں
١. محبوب چیزوں میں عبودیت
سخت گرمی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا—یہ بھی عبادت ہے۔
اپنی محبوب بیوی سے مباشرت کرنا—یہ بھی عبادت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے ہر ایک کی شہوت میں صدقہ ہے۔”
اہل و عیال پر خرچ کرنا—یہ بھی عبادت ہے، اور اس کا اجر یقینی ہے۔
یہ سب اعمال ایسے ہیں جنہیں انسان خوشی سے کرتا ہے، اور وہ اس میں رغبت بھی محسوس کرتا ہے۔
٢. مکروہ چیزوں میں عبودیت
مگر دوسری جانب:
سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا—یہ نہایت اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، کیونکہ نفس اس سے بھاگتا ہے۔
معصیت چھوڑ دینا جبکہ دل میں اس کی خواہش شدت سے موجود ہو، اور کوئی دیکھنے والا بھی نہ ہو—یہ خالص اللہ کے لئے وفاداری ہے۔
تنگی کے وقت خرچ کرنا—یہ مضبوط ایمان اور یقین کی علامت ہے۔
یہاں معلوم ہوتا ہے کہ محبت والی عبادت اور تکلیف والی عبادت کی حقیقت میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
حقیقی بندگی: دونوں حالوں میں یکساں ثابت قدمی
سب سے اعلیٰ وہ بندہ ہے جو:
خوشی میں بھی اللہ کا بندہ ہو،
تکلیف میں بھی اسی کا بندہ ہو،
نعمت میں بھی شکر کرے،
مصیبت میں بھی صبر کرے،
خواہش کی کشش میں بھی اللہ کو ترجیح دے،
اور سخت حالات میں بھی ایمان پر قائم رہے۔
ایسے ہی بندے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ” — کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟
اور دوسری قراءت میں ہے:
"عِبَادَهُ” — اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں؟
یعنی اللہ اپنی کامل کفایت، حفاظت اور دستگیری سے انہیں سنبھال لیتا ہے جو ہر حال میں اس کے بندے رہتے ہیں۔
مکروہات میں عبودیت کی برکتیں
جو بندہ تکلیف میں بھی اللہ کا بندہ بن جائے، اس کے لئے کئی عظیم نتائج ہیں:
۱. بلند درجات
کیونکہ اللہ کے ہاں منازل کی تقسیم صبر اور ثابت قدمی کے مطابق ہوتی ہے۔
۲. نفس کی تربیت
شدائد انسان کو اندر سے مضبوط، باشعور اور پاکیزہ بناتی ہیں۔
۳. ایمان میں پختگی
ابتلاء کے بعد پیدا ہونے والا یقین، پہلے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
۴. قربِ الٰہی کا خاص مقام
مشکلات میں وفاداری ہی اللہ کے قرب کا اصل زینہ ہے۔
۵. روحانی سکون
ابتلاء کے اندر عبادت کا ذائقہ عام حالات میں میسر نہ آتا۔
الحاصل نعمتوں میں عبادت آسان ہے، لیکن تکلیف کی گھڑی میں عبادت ہی اصل عبودیت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ اپنے خاص بندوں کا انتخاب کرتا ہے۔ خوش بخت وہی ہے جس کا دل ہر حال میں اللہ کے ساتھ جڑا رہے، اور جو سرّاء و ضرّاء دونوں کو راہِ بندگی کا ایک ہی دروازہ سمجھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انہی صادق بندوں میں شامل فرمائے جو راحت میں بھی عبد ہیں اور مشقت میں بھی عبد۔
ابو خالد
