خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت

از رحمت عزیز خان نومبر 11, 2025
از رحمت عزیز خان نومبر 11, 2025 0 تبصرے 138 مناظر
139

عدالت نامہ

پاکستان کی آئینی سیاست میں وقت وقت پر بڑی بحثیں اٹھتی رہیں کہ آئین کی تشریح کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ 1954 سے 1973 تک کے آئینی سفر میں یہ سوال کبھی عدلیہ کے اور کبھی انتظامیہ کے تناظر میں سامنے آتا رہا۔ جب 1973 کا آئین بنا تو سپریم کورٹ کو اس حوالے سے سب سے برتر اتھارٹی تصور کیا گیا۔ اس روایت نے اگلے پچاس برسوں میں ایک ایسے طرز کا عدالتی کلچر بنایا جس میں آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ ایک سیاسی اور آئینی طاقت بن گئی۔ یہ ایکٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بنیادی نوعیت کی آئینی و عدالتی اصلاحات کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم (ایکٹ 2025) اسی تاریخی پس منظر کو کاٹ کر ایک نئی سمت متعین کرتی ہے۔ اس کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو ایک باقاعدہ مستقل ادارے کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ عدالت براہ راست آئین کی تشریح کرے گی اور وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کرے گی۔ یہ تبدیلی صرف ایک عدالت کا اضافہ نہیں بلکہ آئینی طاقتوں کی نئی تقسیم ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کا قیام
آئین میں ایک نئی عدالت “وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court)” کے قیام کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پاکستان میں تین اعلیٰ عدلیہ یعنی عدالت عظمیٰ(سپریم کورٹ)، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت علیہ(ہائی کورٹ) پہلے سے موجود ہیں اور وفاقی آئینی عدالت ان سب سے بڑی عدالت تصور ہوگی۔ اللہ خیر کرے کہ آئندہ کون کون سی مزید عدالتیں بنیں گی۔ ویسے ایک تجویز ہے کہ ملک کو نظم نسق چلانے کے لیے مندرجہ ذیل عدالتوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے:
وفاقی سیاسی عدالت،
وفاقی انتقامی عدالت،
وفاقی انتظامی عدالت،
وفاقی اجتماعی عدالت،
وفاقی فوجی عدالت،
وفاقی جوڈیشل عدالت،
وفاقی احتسابی عدالت،
وفاقی قومی عدالت،
وفاقی صوبائی عدالت اور وفاقی درباری عدالت شامل ہیں۔ امید ہے آئندہ جو بھی آئینی ترمیم کرنی ہو تو ان تجاویز پر عمل کیا جائے۔ بہر حال یہ تو جملہ متعرضہ تھا جو خواہ مخواہ بیچ میں آگیا۔

نئی تخلیق شدہ وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح، بنیادی حقوق اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات سے متعلق مقدمات کی اصلی، اپیلی، مشاورتی اور نظرثانی کی مکمل اختیار دار عدالت ہوگی۔ اس عدالت کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا۔ چیف جسٹس کی مدتِ کار تین سال مقرر کی گئی ہے جبکہ جج صاحبان اڑسٹھ (68) سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی تقرری صدرِ مملکت، وزیرِاعظم کے مشورے سے اور جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کرے گا۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی آئینی نظام کو مستحکم کرے گی؟ یا عدالتی اتھارٹی میں ایک نئی دوائی پولرائزیشن پیدا کرے گی۔
سپریم کورٹ کے اختیارات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس (Suo Motu) اختیار ختم کر دیا گیا ہے (آرٹیکل 184 حذف کر دیا گیا)۔
سپریم کورٹ اب بنیادی طور پر صرف اپیلی عدالت کے طور پر کام کرے گی۔
آئینی تعبیرات، حکومتی تنازعات اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوں گے، جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے دیگر عدالتوں پر تو لازم ہوں گے لیکن وفاقی آئینی عدالت پر نہیں۔ یہی اس عدالت کی سب سے بڑی خوبی ہے‌۔
سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیارات کی معطلی اس بحث کا اہم نکتہ ہے۔ آرٹیکل 184 کی حذفگی کا مطلب ہے کہ اب وہ روایتی کردار جس کے باعث بڑے سیاسی تشریحی فیصلے سامنے آتے تھے، ختم ہو گیا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آئینی تشریحی قوت سپریم کورٹ سے ہٹ کر ایک نئی عدالت کے ہاتھ میں منتقل کر دی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں تبدیلیاں کی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں اب چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ دونوں شامل ہوں گے۔
دونوں عدالتوں کے سینئر ججز اور ایک مشترکہ طور پر نامزد جج بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ کمیشن کی سربراہی جس چیف جسٹس کی سینارٹی زیادہ ہوگی، وہ کرے گا۔
جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں بھی وفاقی آئینی عدالت کو شریک کرنا ظاہر کرتا ہے کہ صرف اختیارات کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ پورا عدالتی ڈھانچہ ایک نئی توازن سازی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ اب کونسل کے سربراہ وہ چیف جسٹس ہوں گے جو دونوں میں (سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت) زیادہ سینئر ہوں۔ کونسل اپنے طریقہ کار سے متعلق قواعد ساٹھ (60) دن میں مرتب کرے گی۔
ہائی کورٹ کے آئینی بنچز کی حد بندی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ آئینی کیسز کی سنائی کے لئے اب ایک واضح راستہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ مستقبل میں آئینی تشریحات کی یکسانیت اور تسلسل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گا۔
ہائی کورٹس اور آئینی بنچز
آرٹیکل 202A میں ترمیم کے مطابق:کوئی بھی ہائی کورٹ کا بنچ آئینی دائرہ کار استعمال نہیں کرے گا، سوائے اس کے جو آئینی بنچ ہو۔
ہائی کورٹ کے ججز کی تبادلے اور تقرری کے طریقہ کار کو جوڈیشل کمیشن کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
آرٹیکل 243 میں دفاعی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ اس آئینی پیکج کا اہم ترین اور شاید سب سے زیادہ متنازعہ حصہ ہیں۔ عسکری قیادت کے عہدوں کی نئی درجہ بندی اور ان عہدوں کی حیثیت کا آئینی تقدس مستقبل میں سول ملٹری تعلقات کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
دفاعی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔
آرمی چیف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دیا گیا۔
نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کی تقرری آرمی چیف کی سفارش پر وزیرِاعظم کرے گا۔
اگر کسی فوجی افسر کو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی دی جائے تو وہ عہدہ تاحیات برقرار رکھے گا۔
ان عہدوں کے حامل افراد کو “قومی ہیرو” قرار دیا گیا ہے اور ان کی برطرفی صرف آرٹیکل 47 کے مطابق ممکن ہوگی۔
یہ سب تبدیلیاں ایک غیر معمولی آئینی پیکج کی صورت رکھتی ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ آئینی اصلاحات ملک میں ادارہ جاتی توازن کو بہتر بنائیں گی یا مزید سوالات کھڑے کریں گی۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک پورے عدالتی آؤٹ لائن کو تبدیل کرنے کی یہ پہلی منظم کوشش ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے۔
دیگر اہم ترامیم بھی کی گئی ہیں۔ کئی آرٹیکلز میں لفظ “سپریم کورٹ” کی جگہ “وفاقی آئینی عدالت” شامل کیا گیا۔
آرٹیکل 260 میں “ٹیکنوکریٹ” کی نئی تعریف دی گئی ہے وہ یہ کہ “ٹیکنوکریٹ سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کم از کم سولہ سالہ تعلیم اور پندرہ سالہ پیشہ ورانہ تجربہ ہو۔”
آئین کی تیسری، چوتھی اور پانچویں شیڈولز میں بھی حلف، قواعد اور مراعات سے متعلق تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ وفاقی آئینی عدالت شامل ہو سکے۔
آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ یہ تبدیلی ایک ادارہ جاتی ارتقا تھی یا ایک نیا آئینی تجربہ۔ اس پر قانونی ماہرین کی رائے سب سے اہم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ترامیم اپوزیشن جماعتوں اور وکیلوں کے لیے کس حد تک قابل قبول ہوں گے۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود
  • نیند تدبیر سب سرِ بازار
  • وہ جو مل جاتا تو اس سے بات کرنا تھی مجھے
  • قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر
پچھلی پوسٹ
اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری

متعلقہ پوسٹس

مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)

نومبر 17, 2025

اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر

جنوری 23, 2020

خودی کا راز

مئی 11, 2020

میرے نال توں بول وے ڈھولا

نومبر 6, 2022

تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

اپریل 23, 2022

اردو زبان اور علامہ اقبال

ستمبر 12, 2025

کورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!

اپریل 11, 2021

مکان

دسمبر 23, 2021

سورہ والعصر (منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

جنگ کا خوف اور پاکستان کا مستقبل

مارچ 15, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس نے پوچھا بھی مگر

مئی 28, 2024

اٹھے ہاتھ دعاوُں والے بھر دے...

مئی 22, 2020

لہک رہی ہے کسی گُل کی...

جون 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں