594
وہ جو مل جاتا تو اس سے بات کرنا تھی مجھے
اک امانت اس کی اس کے ہات کرنا تھی مجھے
میرا غم تھا مستقل جس کی وضاحت کے لیے
عمر بھر روتے ہوئے ہر، بات کرنا تھی مجھے
بیج تھا میں اور مجھے بویا گیا تھا دشت میں
آپ اپنے واسطے برسات کرنا تھی مجھے
اپنی سانسیں کاٹ دی ہیں دھڑکنوں کو روک کر
ختم یوں بھی گردش ِ حالات کرنا تھی مجھے
اس نے لودھی غیر کی خوشیوں سے دامن بھر لیا
جس کو اپنی ہر خوشی سوغات کرنا تھی مجھے
رفیق لودھی
