خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباخواتین کا عالمی دن
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزدعا علی

خواتین کا عالمی دن

از دعا علی مارچ 14, 2021
از دعا علی مارچ 14, 2021 0 تبصرے 88 مناظر
89

خواتین کا عالمی دن

عورت کو رب العزت نے وہ مقام عطا کیا ہے جو شاید مرد کو بھی حاصل نہیں کیونکہ عورت کہنے کو تو ایک تخلیق کار ہے کیونکہ وہ اپنے بطن سے ایک انسان کو پیدا کرتی ہے لیکن یہی عورت جب کسی سے عشق کرتی ہے تو وہ ایک تخلیق بن جاتی ہے اور مرد اس کا تخلیق کار جسے وہ جس سانچے میں بھی ڈھالے ڈھل جاتی ہے۔ عورت میں رب نے سہن شکتی زیادہ رکھی ہے اسی لیے وہ اپنے بطن سے ایک انسان کو جنم دیتی ہے اور یہ سہن شکتی عورت کی انا کو دوام بخشتی ہے، قوت دیتی ہے یہاں تک کہ مرد کے مقابلے پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔
عورت کائنات کا ایک انمول تحفہ ہے۔ اللہ رب العزت نے عورت کو دنیا کی پسندیدہ ترین مخلوق قرار دیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کہا کہ ”عورت الوھی نغمہ ہے جس کی دھن پر کائنات رقصاں ہے“۔
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ملے زندگی کا سوزِ دروں
خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ جبکہ زمانہ جاہلیت میں ظہورِ اسلام سے قبل جزیرة العرب میں عورت کے لئے کوئی قابل ذکر حقوق نہ تھے اسے پستی کے ایک ایسے غار میں دھکیل دیا تھا کہ اس کی حیثیت کو ماننا تو درکنار اسکومعاشرے میں زندہ بھی رہنے کاحق تک نہ تھا عورت کی تاریخ مظلومی اور محکومی کی تاریخ تھی اس کے ارتقا ءکی کوئی توقع نہ تھی اسے کم تر سمجھا جاتا تھا معاشرے میں عورت کا مرتبہ و مقام ناپسندیدہ تھا، وہ مظلوم اور ستائی ہوئی تھی۔ قدیم تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے علاوہ سارے عالم میں عورت کی کوئی مستقل حیثیت نہیں تھی دیگر مذاہب اور اقوام نے عورت کو کبھی پنچ مخلوق قرار دیا اور کبھی اسے فساد کی جڑ تصور کرتے ہوئے قابل نفرت سمجھا۔ خواہ وہ یونان ہو یا روم،عرب ہو یا عجم،یورپ ہو،ایران ہو یا ایشیاءہر جگہ عورت مظلوم ہی رہی ہے یونانیوں کا کہنا تھا آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے،لیکن عورت کے شرکا مداوا محال ہے۔
سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ وفساد برپا کرنے والی نہیں۔ وہ ایسا خوشنما درخت ہے جو دیکھنے میں خوبصورت مگر چکھنے میں تلخ وکڑوا ہے۔ یوحنا کا قول ہے کہ ”عورت شر کی بیٹی ہے اور امن سلامتی کی دشمن ہے“ جان ڈسپنس کہتا ہے کہ ”عورت کذب کی بیٹی، دوزخ کی رکھوالی اور امن کی دشمن ہے۔
اسلام نے عورت کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرایا اسے حقیقی آزادی ،خود مختاری سے جینے کا حق اور ظلم و استحصال سے نجات دلائی اور معاشرے میں بلند مقام عطا کیا۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور اسے بے شمار حقوق عطا کئے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے عورت کا وہی رتبہ ہے جو مرد کو حاصل ہے،ارشاد ربانی ہے:ترجمہ:”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدائ) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔“
وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت اور رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔ اسلام نے بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اسے وراثت کا حقدار بھی ٹھہرایا۔ ارشاد ربانی ہے:”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے۔“
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے لئے بھی اچھی تعلیم و تربیت کو اتنا ہی اہم اور ضروری قرار دیا ہے جتنا کہ مردوں کے لیے۔ یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ عورت کو کم تر درجہ کی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت نظر انداز کر دی جائے۔
اس معاشرہ کی گری ہو ئی مخلوق کوتقدس اور احترام کے بلند مقام پر پہنچانے کے لیے،معاشرے میں اس کو حقیقی عزت اور آزادی دینے کے لیے اسلام نے اصول مقرر فرمائے۔ اللہ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی قوانین کی اپنے عمل سے وضاحت کی۔ لیکن آج مغربی تہذیب و تمدن کا راگ الاپنے والوں نے اس سے اس کی حقیقی آزادی بلکہ آزادی کی روح سلب کر لی ہے۔ اسلام ہی نے سب میں عظمت ومحبت کی شان پیدا کی۔ یعنی ان کو ماں، بہن، بیوی، بیٹی کا معزز مقام دے کر نہ صرف اس کا تقدس بحال کیا بلکہ معاشرے کی سب سے معزز ترین مخلوق قرار دیا۔
اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان کے عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا، اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔ لیکن اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لئے سینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدر ت کا کرشمہ ہے کہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی۔
عورت ایک عظیم ہستی ہے جو ہر رشتہ خلوص دل سے نبھاتی ہے وہ ایک ایسا پھول ہے جو ہر سو خوشبو بکھیرتا ہے عورت اپنا اندر بدل دیتی ہے۔ باہر بدل دیتی ہے۔ دل بدل دیتی ہے۔وجود بدل دیتی ہے۔ وہ خود سے جڑے ہوئے ہر رشتے کا خیال کرتی ہے اسے ایمانداری سے نبھاتی ہے صدیوں پہلے کی عورت اگر بے بس تھی تو آج صدیوں بعد بھی عورت محکوم اور مرد حاکم ہے۔ عورت سچے جذبوں کی اسیر ہے اس کا خمیر رب العزت نے ایسی مٹی سے گوندھا ہے جس میں صرف وفا ملتی ہے مرد اگر عورت کو پیار سے سینچے تو وہ ایک مسئلہ نہیں، محبت بن جاتی ہے۔
کیونکہ عورت کو مان،بھروسہ،عزت،یقین،پیار، فخر،مرتبہ اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے ہوتا ہے۔عورت بنی نوع کا لازمی حصہ ہے۔ نسل انسانی کی صالح بنیادوں پرنشو ونما کا انحصار اسی کے طرز عمل پر ہے۔
دنیا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہے کہ”عورت ایک مسئلہ ہے“
لیکن اس حقیقت کا ادراک صرف ان مردوں کو ہی ہے کہ جو عورت کے مقام کو پہچانتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ”عورت مسئلہ نہیں ،بلکہ عورت محبت ہے“۔عورت مرد کی محبت کے سوا کچھ نہیں چاہتی،یہ بھی عورت کی حیا و وداری کی ایک مثال ہے کہ وہ ایک ہی دہلیز پر ساری عمر گزار دیتی ہے پر جب مرد اس کی وفا کی قدر نہیں کرتا توعورت مایوس ہوجاتی ہے اور اس مایوسی میں محبت بھی بھول جاتی ہے اورخود کو انا کی سولی پر چڑھا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خالی کشکول لیے مرد سے بار بار محبت بھیک میں بھی مانگنے کو تیار ہوجاتی ہے لیکن اپنے ٹھکرائے جانے پر، اپنی بے قدری پروہ اپنی ہی محبت قربان کر دیتی ہے۔اور اپنے ہی ہاتھوں سے کشکول توڑ دیتی ہے،کیونکہ عورت میں ٹھہرا ہوا تلاطم بھی ہے،موجوں کی روانی بھی ہے،دریا کی طغیانی بھی ہے،عورت میں حیا بھی ہے وفا بھی ہے،کبھی وہ زانی اور کبھی مریم بھی ہے۔
عورت مسئلہ،محبت،جسم،جذبہ،جال،آزادی،مقابلہ،عاجزی،پل،زندگی،افسانہ،حقیقت،معشوق،عاشق،استاد،نرم ونازک،جسم سے ماورا،چمن،تتلی،پیاسی،پیار،پیاس،ساحل سمندر،نمکین،حسین تلاطم،غم،رنج،الم سب عورت ہی تو ہے ۔بیٹی ہے تو رحمت ِ پروردگار، بیوی ہے تو الفت ایثار کی دیوی ہے وہ ،ماں کی صورت پیکر عزم ومحبت اور پیروں تلے اس کے جنت ہے،اس کا جو بھی روپ ہو، عورت یقیناً خوب ہے۔

دعا علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!
  • چچا چھکن نے تصویر ٹانگی
  • رشتوں کی خاموش زبان – بھائی بہن کا پیار
  • آم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
دعا علی

اگلی پوسٹ
لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!
پچھلی پوسٹ
اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا

متعلقہ پوسٹس

خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی

نومبر 9, 2025

نوٹ اصلی ہے مگر آدمی بے وقوف

جنوری 5, 2022

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

اپریل 27, 2020

محبت کی ریت پر

دسمبر 2, 2024

سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات

مارچ 28, 2022

مِصری کی ڈلی

جنوری 16, 2020

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

اندازِ محبت

نومبر 24, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹک ٹاک کالم

جنوری 20, 2021

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

غرض کے رشتے ہیں

جون 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں