122
خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی
آنکھ میں جو نمی لہرائی مرے ساتھ رہی
آخری وقت سبھی چھوڑ گئے تنہا مجھے
آخری وقت یہ تنہائی مرے ساتھ رہی
میں پکاری کہ میں تنہا ہوں سرِ دشتِ حیات
آپ کی یاد چلی آئی مرے ساتھ رہی
یوں ہے کہ داغِ محبت یہ کبھی دھل نہ سکا
اُس گلی میں ہوئی رسوائی مرے ساتھ رہی
اپنے ہونے میں ہی غرقاب لئے پھرتی رہی
زخم کی سوچ کی گہرائی مرے ساتھ رہی
خواب در خواب میں اس نور میں ضم ہوتی گئی
اس کے نروان کی یکتائی مرے ساتھ رہی
دان کی درد کی دیوی نے مجھے ایسی وفا
عمر بھر میری ہی کہلائی مرے ساتھ رہی
بشریٰ شہزادی
