105
تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے
چلا گیا وہ اداسی کے نام کر کے مجھے
وہ شامِ غم وہ ترے ہجرِ نا تمام کی شام
وہ شام ڈھل گئی آخر سلام کر کے مجھے
چلے گی کس پہ یہ آخر برہنہ دھار مری
وہ چھپ گیا ہے کہاں بے نیام کر کے مجھے
گھٹا رہا ہے مرے دام جس طرح وہ غلام
خرید لے گا کسی دن غلام کر کے مجھے
یہ کس نے میرے خیالات کی گرہ کھولی
سوار کون ہوا بے لگام کر کے مجھے
بشریٰ شہزادی
