381
کچھ چیزیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں
چائے کی ٹوٹی پیالی
احمد ہمیش
مجھے اٹھالو
مجھے کسی یادگار جگہ پر رکھ دو
میں تم سے الگ نہیں ہوں
میں تو خود ان ہونٹوں پر ادھوری رہی
جنہیں تم چوم نہ سکے
میں تو خود ان ہاتھوں سے چھوٹ گئی
جنہیں تم تھام نہ سکے
کچھ چیزیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں
چائے کی ٹوٹی پیالی
احمد ہمیش
مجھے اٹھالو
مجھے کسی یادگار جگہ پر رکھ دو
میں تم سے الگ نہیں ہوں
میں تو خود ان ہونٹوں پر ادھوری رہی
جنہیں تم چوم نہ سکے
میں تو خود ان ہاتھوں سے چھوٹ گئی
جنہیں تم تھام نہ سکے