106
جدائی ختم ہوئی جگ ہنسائی ختم ہوئی
بہاؤ دیکھ کے چشموں سے کائی ختم ہوئی
کہیں بہار نے سرسبز کر دیا مجھ کو
کہیں خزاں سے مری خود نمائی ختم ہوئی
ہوائے شام کسی تشنگی کے درپے تھی
ہماری آنکھ سے جب نینوائی ختم ہوئی
کچھ اس طرح سے بھی ردِ عمل دکھایا گیا
میں بے وفا جو ہوا بے وفائی ختم ہوئی
وہ لم یزل کسی تمثیل میں نہیں آیا
خدا بناتے بناتے خدائی ختم ہوئی
وہاں سے آگے فقط لامکاں کا رستہ ہے
جہاں سے تیرے گدا کی چٹائی ختم ہوئی
تجھے یہ رنج ترا نام لکھ نہیں پایا
مجھے یہ غم کہ مری روشنائی ختم ہوئی
ثنائے سیدِ کونین کی طرف آئیں
غزل پہ جن کی ہنر آزمائی ختم ہوئی
میں آسماں کو بھی کوہِ گراں سمجھتا تھا
تمھاری چھت پہ پہنچ کر چڑھائی ختم ہوئی
علی صابر رضوی
