خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٹھاکر دوارہ
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

ٹھاکر دوارہ

از قاضی عبد الستار فروری 24, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 24, 2022 0 تبصرے 71 مناظر
72

بڑے باغ کے دھورے پر ڈھول تو سانجھ سے بج رہے تھے لیکن اب ان کی گدے کھائی آواز میں لیزم کی تولی گوٹ بھی ٹانکی جانے لگی۔ پتمبر پاسی نے چلم منہ سے نکال کر کان کھڑے کیے اور کہزلی۔ اب گدے کھائی آواز پر لگی تو گوٹ کے اوپر مدراپاسی کی چہچہاتی آواز کے گول گول ٹھپے بھی پڑنے لگے تھے۔ پتمبر نے چلم مانچی پاس ہی دھری نیائی میں جھونک دی اور اپنےبھاری گھٹنوں پر جو جہازی پلنگ کے تیل پلائے پایوں کی طرح ٹھوس تھے، دونوں ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا تو اس کے سر کا مریٹھا چھپر کے بانس سے لڑگیا۔

ساتھ ہی تدواری سے بڑ کئو کی مہتاری نکلی جو اونچے ٹھاٹھ اور چوڑے ہاڑ کی ہٹی کٹی ادھیڑ عورت تھی۔ اس کے پیروں میں کالے پرمٹے کالہنگا اور سر پر تول کالمبا چوڑا اوڑھنا لہریں لے رہا تھا اور دونوں کالے ہاتھوں پر پیتل کی تھالی دھری تھی۔ تھالی میں دھرے پیتل کے ڈھکے لوٹے کے پاس ہی مٹی کا چراغ جل رہا تھا اور تلچوری کے ڈھیر پر گڑ کی سنہری ڈلیاں چمک رہی تھیں اور اس کے دونوں کندھوں سے لگی دونوں بہویں چل رہی تھیں جو لال پیلی دھوتیوں میں سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی تھیں لیکن ان کے چاروں ہاتھ باہر تھے۔ چاندی اور لاکھ سے جڑےہوئے ہاتھوں کے ایک جوڑے پر کمان اور پانچ تیر رکھے تھے اور دوسرا جوڑا مٹی کی ایک مٹکی سنبھالےہوئے تھا۔

پتمبر سرنہوڑا کر چھپر سے نکلا اور بیچوں بیچ آنگن کھڑا ہوگیا۔ بڑکئو کی مہتاری نے تھالی اس کے چہرے کے سامنے تین بار نچاکر روک لی۔ پتمبر نے گڑ کی ڈلی اٹھاکر منہ میں ڈال لی۔ بڑکئو کی مہتاری نے پتل ہٹاکر لوٹے سے رنگ کا ایک چلو بھرا اور پتمبر کے نئے لنکلاٹ کے چوبندے پر چھڑک دیا اور وہ اس طرح سرخ ہوگیا جیسے اس نے اپنے تیر سے شکار کیےہوئے زخمی بڑیلے کو دونوں بازوؤں میں بھر کر داب لیا ہو اور خونم خون ہوگیا۔ پتمبر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چندرماں سر کے اوپر آچکا تھا۔ اس نے بڑی بہو کے ہاتھ سے کمان لے کر ماتھے سے لگائی۔ چھوٹی بہو کی ہتھیلی سے ایک تیر اٹھاکر ہونٹوں سے چوما اور دونوں ہاتھوں سے مٹکی اٹھاکر منہ میں انڈیل لی اور وہ تینوں عورتیں مٹی کی ڈھلی مورتیوں کی طرح کھڑی گھٹ گھٹ کی آوازیں سنتی رہیں۔ جب مٹکی خالی ہوگئی اور چھوٹی بہو نےسنبھال لی تو بڑکئو مہتاری نے پتمبر کے چارپائی جیسے چوڑےچکلے سینے پر ہاتھ پھیر کر کہا۔

’’اب کی ہولی ہم کا دے دیو‘‘

’’دیا‘‘

اور دونوں بہوؤں کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور دوسرے ترواہے میں کھڑے ہوئے ہل کی مٹھیا پکڑ کر پرنام کیا۔ چار جوڑے لمبے چوڑے بیلوں کے کندھے پر تھپکیاں دیں۔ ہاتھی ایسی بندھی ہوئی مندرائی بھینس کے این پر انگلیاں پھیریں اور باہری دروازے کے کپاٹ سے لگالوہے سے منڈھا اورتیل سے سینچا ہوا سات ہاتھ کا لٹھ اٹھاکر چوما اور کندھے پر رکھ کر باہر نکلا۔ دہلیز سے اترا تو ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اپنے پاؤں پرائے معلوم ہونےلگے اورکھوپڑی میں آندھی چلنےلگی۔ دور پاس سے پالاگن اور جے جے کارکی آوازیں سبیرا کرتی چڑیوں کی چہکار بن گئیں اور وہ جھومتا جھامتا بڑے باغ کی دانتی پر آگیا جہاں اس کے بھائی بھتیجے جانے بوجھے سچے یاردوست اس کاانتظار کر رہے تھے۔ اس نے جاتے ہی ایک لونڈے کے ہاتھ سے مشعل چھین لی اور نئی پرانی اور سوکھی تازی لکڑیوں کی چھوٹی سی پہاڑی میں جھونک کر نعرہ لگایا،’’جے ھولسکارانی کی‘‘

اور لمبے چوڑے ڈیل ڈول پر لال دھوتی اور چمرودھے جوتے پہنے مدورا لٹو کی طرح ناچنے لگا اور ڈھول تاشے اور لیزم اور جھانجھ سب ایک ساتھ مل کر آوازیں انڈیلنےلگے۔ جیسے ساون بھادوں میں ہتھیا نکھت برس رہا ہو اور وہ گردن گردن پانی میں کھڑا ہو اور پانی بڑھتا جارہاہو اور ہاتھ پاؤں جواب دیتے جارہے ہوں۔ جب وہ ’’ہوری‘‘ گاتےگاتے ڈوبنےلگاتوہاتھوں کے چپو اسے بہا لے گیے۔ نکال کر لے گیے اور اسے نہیں معلوم پھر کیا ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو وہ اپنی تدواری کے پلنگ پر لیٹا تھا اور سارے آنگن میں کڑی دھوپ چھائی تھی اور اس کے نیچے چھپروں میں اور ترواہوں میں نرا آدمی اچھل رہا تھا۔ نری عورتیں اچھل رہی تھیں۔ نرےلڑکےکود پھاند رہے تھے اور معاملہ رنگ سےاترکر کیچڑ اور گوبر پر آچکا تھا۔

ابھی وہ اپنے اندر کے بھاری پن سے جوجھ رہا تھا کہ ایک طرف سے درگا نکلا اوردارو کاادھ سیر اکلہڑ اس کے منہ سے لگادیا۔ اور پھر وہ لیپ دیا گیا۔ پوت دیا گیا۔ نہلا دیا گیا۔ پھر کندھوں پر اٹھالیا گیا اور گاؤں کے گلیاروں کو چھان دیا گیا اور گھروں کو متھلیا گیا اور جب دوپہر ڈھلنے لگی تو اپنے دوارے سے پہنچا۔ کنویں پر منجھلؤ اور چھٹکؤ نہا رہے تھے اور صابن بہا رہے تھے اور دروازہ اندر سے بند تھا۔ وہ چھپر کے نیچے کھٹیا پر ڈھیر ہوگیا۔ بڑی دیر کے بعد کسی نے اس کاانگوٹھا پکڑ کر ہلادیا۔ اس نے دھواں دھار آنکھیں کھول دیں۔ سامنے بڑکئو کی مہتاری کھڑی تھی۔ لال لال اوڑھنی لال کرتی لال لہنگا بالوں میں تیل آنکھوں میں کاجل دانتوں میں مسی اور ہونٹوں پر ہنسی۔ اس نے امس کر ایک بار دیکھا۔ ہنسی باچھوں سےنکل کر کانوں تک پہنچ گئی تھی۔

’’چلو پانی دھرا ہے نہالیو‘‘ وہ کھٹیا سےاس طرح جیسے ہاتھی بیٹھ کر اٹھتا ہے۔ ایک ایک جوڑ کو سہج سہج سنبھال سنبھال کر چلا اور کنویں کی جگت پر بیٹھ گیا۔سانجھ ہو رہی تھی لیکن دھوپ میں دھار باقی تھی۔ آدھی دھوتی باندھ کر اور آدھی لپیٹ کر اٹھا۔ دروازے پر بڑکئو کی مہتاری راہ دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑا کر تدواری کے پیچھے لے گئی،’’آج یادھوتی باندھو۔کرتا پہنو۔۔۔ چادر باندھو۔۔۔ ایک کندھے پر دھنئی (کمان) اور ایک پر تیر سجاؤ اور ہم کا لئے کے دوارے چلو۔ تم تال دیو ہم ناچیں۔‘‘

’’دوارے‘‘ جیسے کمان کو کان تک کھینچ کر چھوڑ دیا گیا ہو۔

’’ہاں۔۔۔ مالک کے دوارے ٹھاکر دوارے۔‘‘اور جیسے پوری کوٹھری کی فضا برچھی کی نوک پر تل گئی۔

’’بھاگیہ وان۔۔۔ مالک کو مریں پانچ برس ہوئے گئیں۔‘‘

’’ہاں ہمار گھر ماں بھی پانچ موتیں ہوئے گئیں۔‘‘

’’پانچ موتیں؟‘‘

ہاں۔۔۔ پانچ موتیں۔۔۔ بڑی بھینس مری پہلے۔ پھر لال جوڑ کر بڑی بدھیا مری۔ پھر بڑکئو مرے۔۔۔ پھر سنجھلؤ مرے۔۔۔ پھر منجھلؤ کی دلہن مری پانچ ہوئے گئیں۔‘‘

’’مالک کا پورا دوارہ کرائے پر اٹھ گوا۔ کہوں گودام ہے۔ کہوں ہسپتال ہے۔ کہوں دپھتر ہے۔‘‘

’’مل دوارہ تو ہے۔۔۔ او تو کوؤنائیں اٹھائے لئے گوا۔۔۔‘‘

’’واجگہ تو ہے جہاں دادا پر دادا ناچت رہیں۔ تیج تہوار کے دن سب اپنی جگہ پر آوت ہیں۔۔۔ سب پھیر کرت ہیں۔ سنو۔۔۔ بڑکئو مر گیے، مل ہمرے لیے جندہ ہیں۔ تمرے لیے جندہ ہیں۔۔۔ تم ہم کا بڑکئو کی مہتاری کاہے کہت ہو۔‘‘

’’مل بڑکئو کی مہتاری یونائیں ہوئے سکت۔۔۔ یونائیں ہوسکت ۔‘‘ اور وہ باہر جانےکے لیے مڑنےلگا تو بڑکئو کی مہتاری نے اس کی دھوتی پکڑلی۔’’بڑے پاسی کے پوت ہو۔ رات کا بچن دیت ہو اور سبیرے چھین لیت ہو۔‘‘ تدواری سے گزرتے ہوئے یہ جملہ لاٹھی کی طرح اس کے کان پر لگا۔ وہ لڑکھڑاگیا۔ لیکن پھر سنبھل کر پورے قدموں سےزینے کی طرف چلا چھپر میں دونوں بہوئیں گھونگھٹ کاڑھے کھڑی تھیں۔ اس نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا،’’کوئی آوے تو کہہ دینا نائیں ہیں۔۔۔ کہو ں ہولی ملے گئے‘‘

زینےکا دروازہ اتنے زور سے بند کیا جیسے بڑکئو کی مہتاری کے منہ پر لٹھ مار دیا ہو۔ تینوں عورتیں کھڑی اس کے پیروں سے دھچکتی سیڑھیاں گنتی رہیں۔ وہ بنگلے میں برے جہازی پلنگ پر ڈھیر ہوگیا۔ بڑکئو کی مہتاری نے پھر اس کے کان میں کاٹ لیا۔

’’پاسی کے پوت۔‘‘

’’ہنھ۔۔۔ کوئی ٹھاکر کہہ کے دیکھے تو سینے پر چڑھ کے نٹی سے خون پی لیوں۔‘‘ وہ ابلتا رہا۔ کھولتا رہا۔ لمبے لمبے سانس بھرتا رہا۔ جب بے چینی اس کے تلووں سے ٹپکنےلگی تو وہ منڈیر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ نیچے سارادریا پور بچھاتھا۔ داناپور راج کاتخت گانوں۔راج باسیوں کاکھرا گاؤں جو ایک ہی چاچا بابا کی اولادمیں تھے۔ دن میں نوکری کے نام پر دانا پور راج کی طرف لاٹھیاں اٹھاتے اور کمانیں کڑکاتےاور رات میں رہزنی کرتے اور ڈاکے ڈالتے۔ جب پکڑ ہی لیے جاتے تو دانا پور راج ان کی ضمانت کرتا اور مقدمے لڑاتا۔ اگرسزا ہوجاتی تو ان کی بیوی بچوں کی ایسی رکھوالی کرتاجیسے وہ گھر میں نہیں سسرال میں ہوں۔ کیسا دن تھا وہ بھی۔ سبیرے جمینداری فیل ہونے کی ڈگی بجی اور سانجھ ہوتے ہوتے ’’بابا‘‘ مار ڈالے گیے۔ ابھی پولیس کی ہاہاکار مچ رہی تھی کہ ٹھاکر نواب علی کی سواری آگئی۔ ہاتھی سےاترتے ہی مقتول دلاور اسی کے بیٹے پتمبر پاسی کی طلبی ہوئی۔ وہ جیسے ہی پاؤں چھونے کو جھکا اسے کندھوں سے پکڑ لیا۔

’’پتمبر‘‘

’’مالک‘‘

’’تمہارے مقتول باپ کامقدمہ ہمارا ہے۔ یہ کٹھار تمہارا ہے۔ بڑا باغ تمہارا ہے۔ دریاپور کی سرکاری آراضی تمہاری ہے۔ تمہارے باپ کی جگہ ہمارے پلنگ کا پہرہ بھی تمہارا ہے۔‘‘ اتنی بہت سی چیزیں ایک ساتھ پاکر وہ بوکھلانےبھی نہیں پایا تھا کہ ٹھاکر کھڑی سواری سدھار گیے۔اور اس شام جب وہ دریاپور کا پردھان چن لیا گیا تو بندوق چھوڑتے اور گولے داغتے ہجوم کے ساتھ سرکار کو سلام کرنے دوارے پہنچا۔ دالان پر پہرہ کھڑا ہوچکا تھا لیکن ’’ہال‘‘ کے پردوں سے آوازئی کہ پتمبر کو اندر بھیج دو۔

ٹھاکر کے سامنے خالی گلاس اور بھری بوتل رکھی تھی۔

’’مبارک ہو‘‘

’’سرکار‘‘اس کے منھ سے اور کچھ نکلا ہی نہیں۔

’’آج سے تمہاری پہرے داری موقوف۔‘‘

’’سرکار‘‘

’’پلنگ کا پہرے دار گاؤں کی پردھانتا نہیں کرسکتا۔‘‘

’’سرکار‘‘

’’اور تم پردھانتا چھوڑ بھی نہیں سکتے کہ اگر ہم پر اس سے بھی برا وقت آگیا تو کم از کم ایک پردھان تو ہمارے ساتھ ہوگا۔‘‘

’’شراب پیتے ہو؟‘‘انہوں نے گلاس بھر لیا۔

’’مالک‘‘

’’مت پیا کرو شراب سوت برداشت نہیں کرتی۔ ہم اس لیے پیتے ہیں کہ ہمیں اس کی سوت نہیں لانا ہے۔ شادی اس لیے نہیں کی کہ بچے پیدا ہوں گے اور جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے نشہ گھٹتا چلاجائے گااورشراب بوڑھی ہوتی چلی جائے گی۔ تم جاسکتےہو۔‘‘

’’مالک‘‘

’’داناپور راج میں ٹھاکر نواب علی کا کوئی دشمن نہیں ہے۔ تمہارا پہرہ ایک رسم تھا۔ بہت سی رسموں کی طرح آج یہ رسم بھی اٹھا دی گئی۔‘‘

’’سپاہی‘‘

’’دریاپور کے پردھان پتمبر جی کو باہر لے جاؤ۔ مٹھائی کھلاؤ حقہ پلاؤ اوررخصت کردو۔‘‘

وہ کھڑا کانپ رہا تھا کہ ایک مضبوط ہاتھ نے اسے شانے سے پکڑ کرکمرے سے باہر کردیا۔ اس نےکڑوی مٹھائی کھائی اور میٹھا حقہ پی لیا اور معلوم نہیں کیسے اپنے گھر پہنچ گیا اور پھر پردھانتا کی پہلی ہولی آئی۔ سورج بیٹھتے بیٹھتے وہ اپنے پریوار کے ساتھ گرہی پہنچ گیا۔ بہت سے سوانگ آرہے تھے اور جارہے تھے۔ جب سب چلے گیے تو اس کی عورتوں کو اندر اور مردوں کو باہر بلایا گیا اور پان حقے کی تواضع کی گئی اور جب رات ادھیانے لگی تو سرکار برآمد ہوئے۔

’’پردھان پتمبر۔۔۔ تمہارا اور تمہاری عورتوں کا یہ ناچ ہم کو پسند نہیں رہا۔ دنیا سنےگی تمہارے خلاف ہوجائے گی۔ تم کو ووٹ نہیں دے گی۔ تم کو پردھانتا سے اتار دے گی۔‘‘

’’ناچ توپرکھوں سےہوتا آیا ہے۔۔۔ پردھانتاتو آج آئی ہے۔۔۔ پردھان چنے جاتے ہیں پتمبر پیدا ہوتا ہے۔‘‘

وہ سرجھکائے بیٹھے رہے۔ سٹک کے گھونٹ لیتے رہے اور تالی کی ٹھیک دیتا رہا اور عورتیں ناچتی رہیں اور پچھلے برسوں سے زیادہ دیر تک اور مستی سے ناچتی رہیں۔ اس نے اپنےگالوں پر نمی محسوس کی۔ آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ ساراگاؤں سوچکاتھا۔ پتمبر جاگ چکا تھا۔ جس تیزی سے سیڑھیوں پر چڑھا اسی تیزی سے اترا۔ آنگن میں تینوں عورتیں ایک ہی پلنگ پر سر جوڑے بیٹھی تھیں۔ وہ اندر گیا۔ لال کناری کی نئی دھوتی باندھی۔ ململ کا کرتا پہنا۔ بھاگلپوری چادر کمر میں لپیٹی اورلال انگوچھے کامریٹھا سر پر کس لیا۔ دونوں ہاتھوں سے کمان اٹھاکر چڑھائی اورچوم کر داہنے بازو پر لگائی۔ باپ کے بنائے تیروں کاترکش پشت پر سجایا اور نری کا جوتا پہن کر چرمر کرتا باہرنکلا۔

’’اٹھو بڑکئو کی مہتاری دوارے چلو۔‘‘ وہ کوک بھرے کھلونے کی طرح اس کے ساتھ ہولیں۔ دروازے نکلتے نکلتے اس نے بہوؤں کو منع کیا لیکن وہ نہ مانیں۔ کسی کو دروازہ بند کرنے کی تاکید کرکے وہ سڑک پر ہولیا۔

چار جوڑ پیروں میں پہیے لگے تھے اور سڑک اس کی یادوں کی طرح گھٹتی جارہی تھی۔ پھر دانا پور آگیا۔ گڑھی آگئی۔ اس کے سواگت کے لیے پھاٹک اپنے دونوں پٹ کھولے کھڑا تھا۔ محل سرائے اور دیوان خانے کے بیچ کا پختہ فرش خالی پڑا تھا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح سیڑھیوں پر چڑھنے سے پہلے جوتے اتار دیے۔ دیوان خانےکے دروازے کے جاگتے شیشوں کے پیچھے ہسپتال کے سازوسامان نے اس کاسلام کیا۔ پھر وہ الٹے پیروں گھوما اورترچھا ہوکر دونوں پیر کھول دیے اور کمر میں خم دے کر تالی بجائی اور عورتیں ناچنے لگیں۔ ناچتی رہیں۔ جب ہوش آیا تو ان کے چاروں طرف بھیڑ جمع تھی اور سورج کی کرن پھوٹ رہی تھی۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خونی لہریں،محبت اور طالبان
  • رشتوں کے درمیان
  • معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !
  • شمس معدوم ہے تاروں میں ضیا ہے تو سہی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
گرم لہو میں غلطاں
پچھلی پوسٹ
دوجا جواز گر مرا پہلا جواز ہے

متعلقہ پوسٹس

عشق اک جادو ہے

اپریل 16, 2025

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

جنوری 23, 2020

بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی

جنوری 14, 2021

ملنے نہ کبھی آیا جو ایک زمانے سے

جولائی 20, 2021

عکس ھو سکتا ھوں

جولائی 24, 2020

قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے

مارچ 4, 2020

افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ

دسمبر 13, 2025

سنو اے شاہِ دل میرے

فروری 21, 2021

بس گزارش یہی ہے خوابوں سے

اپریل 23, 2022

چند تصویرِبُتاں

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا...

جون 21, 2020

سوچوں دن رات

اگست 6, 2020

یوم آزادی اور آزادی

اگست 22, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں