463
تیری خوشی کے واسطے میں بے وفا ہوا
پر میرے بعد میری محبت کا کیا ہوا
کچھ اس طرح سے جان بدن سے نکل گئی
جیسے قفس سے کوئی پرندہ رہا ہوا
دونوں کے بیچ فاصلے اب اتنے بڑھ گئے
اس کا خدا بھی میرے خدا سے جدا ہوا
اک التجا ہے ہونٹوں کی دہلیز پر پڑی
مدت سے آنکھ میں ہے اک آنسو رکا ہوا
یہ سطح آب پر ہے کہانی لکھی ہوئی
کشتی کے ڈوبنے کا سبب نا خدا ہوا
پہلے برہنہ ہو کے جسے ناچنا پڑا
پھر اس کو بادشاہ سے خلعت عطا ہوا
پھر یوں ہوا کہ خواہش دنیا بھی مر گئی
دست سوال جیسے ہی دست دعا ہوا
سید عدید اس کے لیے بھی دعا کرو
اس قبر پر کوئی نہیں کتبہ لگا ہوا
سید عدید
