387
کسی کے دل سے یا پھر دیدۂ تر سے نکلنا تھا
میں گریہ کی طرح تھا مجھ کو اندر سے نکلنا تھا
تلاشِ یار سے شکوہ نہ صحرا سے شکایت ہے
مری قسمت میں تھا مجھ کو بھرے گھر سے نکلنا تھا
جسے کمزور سمجھے ہو جسے تم کاٹ آئے ہو
مری اونچی اڑانوں کو اسی پَر سے نکلنا تھا
بہت عرصہ لگا دل کو مری آنکھوں تک آنے میں
محبت کی طرح اس کو بھی پتھر سے نکلنا تھا
مجھے اس آگ کے دریا میں تھوڑی دیر رہنا تھا
مجھے اس آنکھ کے نیلے سمندر سے نکلنا تھا
