373
ہم سایے سے طلب کروں پانی کے بعد کیا
رہتا ہے ہوش نقل مکانی کے بعد کیا
یہ کیسی توڑ پھوڑ ہے شہر وجود میں
آتنک مچ گیا ہے جوانی کے بعد کیا
پانی کے پاؤں کاٹنے پہ تل گئے ہو تم
دریا میں بچ رہے گا روانی کے بعد کیا
باتوں کے ساتھ منہ سے ٹپکنے لگا ہے خوں
مر جاوں گا میں ہجر بیانی کے بعد کیا
ان کو بتاؤں گا جنہیں حوروں سے عشق ہے
دراصل ہوگا عالم فانی کے بعد کیا
میں دیکھتا ہوں آنکھ میں خوابوں کی میتیں
تم دیکھتے ہو اشک فشانی کے بعد کیا
شعروں پہ ظلم کرتے ہیں جو جانتے نہیں
کرنا ہے کام مصرع ثانی کے بعد کیا
کیوں لفظ لفظ کھودتے ہو شعر کو کبیرؔ
شاعر نکالنا ہے معانی کے بعد کیا
ڈاکٹر کبیر اطہر
