103
تجھ سے وابستہ ہر اک یاد بھلا دی جائے
دل کی تختی سے یہ تحریر مٹا دی جائے
اس کو تنہائی کا احساس نہ ہو جلتے ہوئے
آخری شمع بھی کمرے کی بجھا دی جائے
یوں تو سب مرثیے پڑھتے ہو نا بر نامِ حسین
پھر یہ ڈر بھی ہے کہ گردن نہ اڑا دی جائے
یہ ہوا مجھ کو نہ دھمکائے دوبارہ اس سے
دل میں اب تیری عمارت بھی گرا دی جائے
اور رسوا نہ کرو پا بہ رسن شہر کے بیچ
اب اسیرِ غمِ ہجراں کو سزا دی جائے
کب سے بیٹھے ہو یہی بات لئے تم بھی جلال
کیوں نہ اب یہ کسی اور سمت بڑھا دی جائے
محمد حذیفہ جلال
