105
کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں
یہ ہجر دریا ہے دریا کے پار کوئی نہیں
بہت دِلوں میں پنپتی ہے اسکی یاد مگر
ہمارے دل کی طرح سازگار کوئی نہیں
ابھی تلک وہ ہرن چاٹتا ہے زخم اپنے
وہ خود شکار ہے اس کا شکار کوئی نہیں
جو پوچھتے ہیں مجھے میری نیند کی بابت
سو یہ وہ ناؤ ہے جس پر سوار کوئی نہیں
تری کمی کا خلا ہے جہاں وہاں دل میں
ستارہ کوئی نہیں ہے مدار کوئی نہیں
یہ کیا پہیلی ہے تنہائی کی سہیلی ہے
کہ یار کوئی نہیں غم گسار کوئی نہیں
ہم اپنی اپنی جگہ بے وفا تو ہیں دونوں
یہ اور بات کہ اب شرمسار کوئی نہیں
یہ کس عذاب میں اب مبتلا ہیں دیوانے
سکوں میں کوئی نہیں بے قرار کوئی نہیں
یہ دل ہمیشہ اُسی آگ میں فنا ہوگا
وہ روشنی ہے مرا اختیار کوئی نہیں
ابھی بھی پاؤں میں زنجیر تیرے نام کی ہے
تُو اک قفس ہے جہاں سے فرار کوئی نہیں
بشریٰ شہزادی
