33
کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں
یہ ہجر دریا ہے دریا کے پار کوئی نہیں
بہت دِلوں میں پنپتی ہے اسکی یاد مگر
ہمارے دل کی طرح سازگار کوئی نہیں
ابھی تلک وہ ہرن چاٹتا ہے زخم اپنے
وہ خود شکار ہے اس کا شکار کوئی نہیں
جو پوچھتے ہیں مجھے میری نیند کی بابت
سو یہ وہ ناؤ ہے جس پر سوار کوئی نہیں
تری کمی کا خلا ہے جہاں وہاں دل میں
ستارہ کوئی نہیں ہے مدار کوئی نہیں
یہ کیا پہیلی ہے تنہائی کی سہیلی ہے
کہ یار کوئی نہیں غم گسار کوئی نہیں
ہم اپنی اپنی جگہ بے وفا تو ہیں دونوں
یہ اور بات کہ اب شرمسار کوئی نہیں
یہ کس عذاب میں اب مبتلا ہیں دیوانے
سکوں میں کوئی نہیں بے قرار کوئی نہیں
یہ دل ہمیشہ اُسی آگ میں فنا ہوگا
وہ روشنی ہے مرا اختیار کوئی نہیں
ابھی بھی پاؤں میں زنجیر تیرے نام کی ہے
تُو اک قفس ہے جہاں سے فرار کوئی نہیں
بشریٰ شہزادی
