107
کب تلک چولہے جلائیں گی ہماری عورتیں
ایک دن گھر بھی جلا دیں گی کنواری عورتیں
روشنی کے ہاتھوں سے چھوتے ہیں ان کو آدمی
کچھ نہیں محسوس کر پاتیں بچاری عورتیں
دیوتا جس روز خلوت میں انہیں بلوائے گا
دیویاں بن جائیں گی اس دن پجاری عورتیں
جس قدر مشکیزے بھرواتے ہو تم صحرائیو
سینے سے دریا نکالیں گی تمھاری عورتیں
عورتیں بدلی ہیں پھر بھی ذائقہ بدلا نہیں
ایک جیسی کیوں بنائیں تم نے ساری عورتیں
اس قدر مجبور ہوتی ہیں گزارے کے لئے
دل کو بھی کاسہ بتاتی ہیں بھکاری عورتیں
ایک شب اور ایک بستر، دونوں کا اک آدمی
ایک بازی اور لگائیں گی جواری عورتیں
حسن کے آگے سبھی کچھ فطرتاَ مغلوب ہے
تیر و ترکش بھی نہیں رکھتیں شکاری عورتیں
جل رہا ہے آدمی کا دل انہی کے واسطے
روشنی کے رتھ پہ کرتی ہیں سواری عورتیں
بشریٰ شہزادی
