9
کب تلک چولہے جلائیں گی ہماری عورتیں
ایک دن گھر بھی جلا دیں گی کنواری عورتیں
روشنی کے ہاتھوں سے چھوتے ہیں ان کو آدمی
کچھ نہیں محسوس کر پاتیں بچاری عورتیں
دیوتا جس روز خلوت میں انہیں بلوائے گا
دیویاں بن جائیں گی اس دن پجاری عورتیں
جس قدر مشکیزے بھرواتے ہو تم صحرائیو
سینے سے دریا نکالیں گی تمھاری عورتیں
عورتیں بدلی ہیں پھر بھی ذائقہ بدلا نہیں
ایک جیسی کیوں بنائیں تم نے ساری عورتیں
اس قدر مجبور ہوتی ہیں گزارے کے لئے
دل کو بھی کاسہ بتاتی ہیں بھکاری عورتیں
ایک شب اور ایک بستر، دونوں کا اک آدمی
ایک بازی اور لگائیں گی جواری عورتیں
حسن کے آگے سبھی کچھ فطرتاَ مغلوب ہے
تیر و ترکش بھی نہیں رکھتیں شکاری عورتیں
جل رہا ہے آدمی کا دل انہی کے واسطے
روشنی کے رتھ پہ کرتی ہیں سواری عورتیں
بشریٰ شہزادی
