’’بدچلن۔۔‘‘
پہلی بار ٹوہ بازی کی عادت میں کچھ سنا ،اور میں نے اُس پر سوچا بھی تھا۔
’’ناشتہ دے دو۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
شرجیل کی آواز پر میں نے ساتھ والی بالکونی پر ایک نگاہ ڈالی،اور تیزی سے باورچی خانے کا رُخ کیا۔
’’آج کوئی خبرنامہ نہیں؟‘‘
’’شاید عبیرہ کی شخصیت کا رعب تھا کہ اُس کے لیے ’’بدچلن‘‘ کا چٹخارے دار لفظ سُن کر بھی میں آگے نشر نا کر سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری شادی کو پندرہ سال ہو چکے تھے۔زندگی ایک جیسی ہو کر رہ گئی تھی۔اِس بڑی سی عمارت میں دو دو بیڈ روم کے درجنوں فلیٹس تھے۔جن کی بالکونیاں ہی نہیں دیورایں بھی جڑی ہوئی تھیں۔ہمارے دائیں طرف باجی کلثوم کا گھرانا تھا۔جن کاکچھ بھی چھپا ہوا ہونا مشکل تھا۔مجھ سے عمر میں کافی بڑی تھیں۔ایک بیٹی تھی جسے بیاہ کر اب دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سےبےزار رہتے۔جب تک کہ عبیرہ لوگ بائیں طرف کے فلیٹ میں نہیں آ بسے تھے۔۔میری صورتِ حال بھی ایسی ہی تھی۔
وہ یونی ورسٹی میں پڑھاتی تھی۔ روز ایک خوبصورت ساری میں ملبوس گھر سے جایا کرتی۔اُس کے آنے سے نیم خواندہ لوگوں کے بیچ گفتگو کا موضوع آ گیا۔۔اور قسمت دیکھو ،مجھے وہ سنائی بھی دیتی۔
عبیرہ سے پہلے سب بات کرنا چاہتے تھے۔۔پھر اُس کی مختلف روش دیکھ کر کوئی بات نہیں چاہتا تھا۔وہ سیدھے گھر سے جاتی،سب کو سلام کرتی۔خوبصورت نیم گھنگھریالے بالوں کو جانے کیسے لپیٹی کہ کچھ لٹیں اِدھر اُدھر لہراتی رہتیں۔ ہیل کبھی نا پہنتی۔۔بنا بیل بوٹوں کے سادے اور ہلکے رنگ ۔۔ہمہ وقت اُس کے چہرے پربے اعتنائی کی طرف جاتی، سادگی کا تاثر پکارہتا۔۔
اب ایف اے تو میں نے بھی کر رکھا تھا ۔خواتین کے ڈائجسٹ پڑھتے پڑھتے خود کو تعلیم یافتہ بھی مانا لیاتھا۔اردگرد کے لوگوں کو تلقین بھی کر دیا کرتی تھی۔۔مگر یہ کون سا بگولا اچانک عبیرہ کی شکل میں آ کھڑا ہوا تھا۔اُس کا ایک چودہ پندرہ برس کا بیٹا تھا۔گویاعمر تو میری جتنی ہی رہی ہو گی۔۔میں نے پہلےہی روز حساب لگایا لیا تھا۔کوئی اتنا بھی سادہ کیسے ہو سکتا ہے؟اور اُس سادگی میں اتنی ہی کشش ۔۔۔کیسے۔۔؟
اِس’’ کیسے ‘‘نے میری ٹوہ بازی کی عادت کو مزید توانائی بخشی۔
ہمارے فلیٹ کے چھوٹے سے اسٹور کی دیوار پار عبیرہ کا بیڈروم تھا ،جس میں اُن سے پہلے کے کرایہ داروں نے جا بجا کیل ٹھونک کر چھید بنا رکھے تھے۔جو پہلے ریت کے جھڑنے سے مجھے کوفت میں مبتلا کرتے ،مگراب بہت اچھے لگ رہے تھے۔عبیرہ اپنی زندگی جی رہی تھی ،اور پتا چلا میں بھی اُسی کی زندگی جینے لگی تھی۔
خود کو اچھا کہنے کے لیے دوسرے کو غلط ثابت کرنا کیوں ضروری ہے؟ بس ایک لگن لگ گئی ۔ بالکونی کی دیوار کے ساتھ سخت سردی میں، تو کبھی چھوٹے سے اسٹور میں دم گھٹنے کی حد تک تنگی میں کھڑے رہنا مجھے عبیرہ اور سلیم کی کہانی میں دور تک لے گیا۔حسد میں اٹھایا ہوا قدم بندگلی مڑ گیا۔پتا چلا وہ انتہائی مجبوری میں یہاں منتقل ہوئے تھے۔
عبیرہ اور سلیم کی پسند کی شادی تھی۔سلیم ایم اے فارسی ہونے کے ساتھ ،خوبرو بھی تھا۔غالب اور اقبال کی شاعری گھول کر پی رکھی تھی۔گفتگو کرتا تو سحر طاری ہو جاتا۔اِس پر بے حد اللہ والا بھی تھا۔عبیرہ کو اُس کی یہ باتیں بھا گئی تھیں۔وہ امیر باپ کی بیٹی تھی۔۔اور آج یہاں اِس کرائے کے فلیٹ میں۔۔دونوں کی مختلف سرگوشیوں نے یہاں تک کی کہانی میں اور بھی اسرار بھر دیا تھا۔
کل رات سلیم کہہ رہا تھا ’’حقیقت نہیں ،دیکھنے والی آنکھ کا تناظر بدل جاتا ہے۔۔۔یہ تو تم تھیں جسے میری خوبیاں دکھائی دے گئیں۔۔مگر میں بہت شرمندہ ہوں کہ ۔۔۔‘‘
شرجیل کمبل اٹھانے خود چلے آئے تو ناچار مجھے اسٹور سے باہر نکلنا پڑا۔سلیم کس بات پر شرمندہ تھا۔۔رات بھر مجھے کروٹیں بدلنی پڑیں۔صبح روانگی سے قبل عبیرہ بالکونی میں کھڑے ہو کر مدھم مدھم گفتگو کرنا نا بھولتی۔
شرجیل ہمیشہ بلند اور دو ٹوک بات کیا کرتے تھے۔دبی دبائی تمنائیں بھاگی دوڑی چلی آئیں۔دھیمے لہجے میں بات کرتا ہیرو ۔۔ہیروئین کی زلفیں سلجھاتا ،بند لبوں میں مسکراتا ہوا۔۔۔خواتیں ڈائجسٹ کے تمام ہیرو مجھے سلیم میں دکھائی دینے لگے۔
دوسری طرف شرجیل کو میری کوئی تبدیلی دکھائی نا دی۔پہلے زیادہ بولنے کا شکوہ زبان پر رہتا۔عبیرہ چلی جاتی، تو سلیم بیٹے اور فون کے ساتھ مصروف ہو جاتا۔ وہ ہر بار بالکونی میں آ کر بات کرتا۔۔اپنے اُسی دھیمے اور مناسب انداز سے۔یہ بھی پتا چلا، وہ اللہ کے بہت قریب ہے۔
اُن کا بیٹا بیمار تھا۔۔اور علاج کے لیے وہ رقم اکھٹی کر رہے تھے۔۔اُس رات عبیرہ کی سسکیاں جانے کیوں مجھے بری نا لگیں۔۔مگر اُس کے بیٹے کا سوچ کر میں نے خود کو سرزنش کرنے کی کوشش کی۔
پہلے مجھے شکایت تھی کہ نعیم اسکول ،اکیڈمی اور دوستوں کے درمیان مجھے وقت نہیں دیتا۔۔مگر اب اُس کی مصروفیت اچھی لگ رہی تھی۔شرجیل ایک ہفتے کے لیے گاؤں جانا چاہتے تھے۔ میرے ہنگامہ نا کرنے پر سرسری سا حیران ہو کے چلے گئے۔
دعا کی ساس سسر بیٹے کو زیادہ دن روک لیں،میں عبیرہ کی کہانی اور حسد میں تھی،
اُسے غلط دیکھنے کی خواہش تھی۔۔وہ بھی بالکونی میں فون تھامے کہہ رہی تھی۔ اپنی اچھائی سے پہلے دوسرے کی برائی کاعلم ہونا ضروری ہے،دھوکے کا پہلا قدم اِسی بیچ پروان چڑھتا ہے۔
وہ رات بہت کچھ عیاں کرنے والی تھی۔بیٹے کے سو جانے کے بعد میں اسٹور میں دیوار پار سرگوشیوں کی طرف کھنچی چلی گئی۔
دوسری جناب عبیرہ کہہ رہی تھی۔’’۔۔تو تم میرے علاوہ بھی کسی کو دیکھتے ہو؟محبت میں محبّ پر یہ مقا م بھی وارد ہونے لگا۔‘‘
سلیم کی سرگوشی میرے کانوں نے نہیں، دل نے بہ خوبی سُن لی تھی۔
’’صد شکر ایک انجکشن کی رقم ہو گئی ،مگر۔۔۔‘‘
اُس ’’مگر‘‘ کے بعد اُن کی زندگی دُھرائی جانے لگی۔دو نفوس ،تیسرے سے بےخبر اپنا ماضی جی رہے تھے۔دو بج گئے تھے۔رات اپنی انتہا سے ہاتھ ملا رہی تھی۔لوہے کے ٹرنک پر دو کھیس بچھائے ٹانگیں سکیڑے میرا جسم اکڑ چکا تھا۔اِس کے بعد دوسری جانب خاموشی کی وہ تمام صدائیں میرے دل تک پہنچیں ،جو کانوں کی رسائی سے دور تھیں۔
گذشتہ روز شرجیل کو میرا کوئی فون نا گیا تو کال ملا لی،مگر حیرانی کااظہار نا کیا۔یوں کوئی ساتھ رہتے رہتے ساتھ نہیں رہتا ۔۔دوسرے کو پتا چل بھی رہا ہو تو آگے بڑھ کے پتا کرتا نہیں۔
’’ہاں ! ٹھیک ہوں۔۔امّاں ابّا کیسے ہیں؟۔۔۔۔اور ۔۔۔‘‘
میرے سرسری جواب پر شرجیل نے پیچھے سے اپنی ماں کی آواز کو فوقیت دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔
کلثوم آپا کو بدہضمی ہوئی،اُن کےفالتو وقت کابکر اکہیں اور مصروف تھا۔
صبح جسم تھکن سے چور تھا،مگر میں خود اپنے ساتھ نہیںتھی۔دماغ ہنوز کسی غیر مرّئی نکتے میں اٹکا ہوا تھا۔
گذشتہ شب سلیم اور عبیرہ کی زندگی کا خلاصہ مجھ تک پہنچ گیا تھا۔
دونوںیونیورسٹی کے ساتھی تھے۔سلیم صلح جُو اور دین کے قریب تھا۔نرمی سے بات کرنے والا،عورت کی عزت کرتاہوا سب کا دوست ۔۔وہ خوبی جس نے عبیرہ کو اُس کے قریب کیا ،اُس کا اللہ کی طرف رحجان تھا۔سلیقے سے گفتگو کرتا ہوا،بردبار انسان ۔ ایک جیتا جاگتا ،ارد گرد بستا ،چلتاپھرتا ولی تھا۔۔اور عبیرہ جو کہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں تھی،اُس کی اچھائیوں کی اسیر ہو کر چلی آتی۔
سلیم کے والدین نہیں تھے۔چچا کے گھر رہتا تھا۔لاکھ مخالفت کے باوجود عبیرہ کے والد نےبیٹی کی رضاکو اہمیت دیتے ہوئے ناصرف شادی کر دی ،بلکہ سلیم کے قدم جمنے تک، اپنے ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
سلیم وہ ولی تھا جسے دنیا کی اور دنیا کو اُس کی ضرورت نہیں تھی۔وہ جہاں ملازمت کے لیے جاتا،انکار ہو جاتا۔کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جب مجھے کبھی فارسی سیکھنے کی ضرورت ہوئی بلا لوں گا۔یہاں تک کہ تنگ آمد بجنگ آمد،اُس نے ایک اسکول میں ملازمت کر لی، عبیرہ جو کہ ایم اے اکنامکس تھی۔اُسے ایک اچھی ملازمت مل گئی۔
۔۔۔قصّہ مختصر عبیرہ کے والد کی وفات کے بعد ماں اور بہن بھائی نےاُسے گھر سے جانے کا کہہ دیا ،کہ
اب انھیں دوسرے بچوں کی بھی شادیاں کرنی تھیں۔سلیم کے بہ قول بات ٹھیک تھی۔بارہ برس کم تو نہیں ہوتے۔۔عبیرہ البتہ خفا تھی۔۔اور وعدہ کیا ،اُس گھر میں واپس نہیں جائے گی۔چار برس ایک اچھی جگہ گھر لے کر رہتے رہے۔سلیم کی اتنے برسوں کوئی بہتر ملازمت نا ہونے کے باوجود دونوں کی محبت بوسیدہ نا ہوئی۔۔مگر۔۔
یہاں ایک ’’مگر ‘‘انھیں اِس چھوٹے علاقے میں لے آیا۔اُن کا بیٹا کسی ایسی بیماری میں جکڑا گیا کہ
جمع شدہ رقم خرچ ہو گئی۔سلیم کی نوکری بھی نہیںتھی۔۔اور جس روز عبیرہ مجبور ہو کے اپنے بھائی اور ماں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئی،اُسےاچھی خاصی تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔۔اور پھروہ اِس فلیٹ میں آ گئے۔
’’میں کچھ بھی کروں ،مگر تمھیں پیسے لاکر دوں گا۔اللہ راضی ہو جاتا ہے،بندے نہیں ہوتے۔‘‘
’’میں نے کچھ کہا ،تو نہیں۔‘‘
’’تمھارا کچھ نا کہنا ،ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔‘‘
’’سلیم!میں تھکی ہوئی ہوں،آج میر ادل کر رہا ہے کہ کوئی مجھے وہ کہے جو میں سب سے کہتی ہوں۔۔‘‘
کچھ پل خاموشی کی نذر ہوئے،سلیم کی طرف سے اصرار نا آیا۔۔مگر عبیرہ کی سرگوشی ،مَیں بامشکل سُن پائی۔
’’کوئی تو کہہ دے۔۔فکر نا کرو،میں ہوں ،نا۔۔‘‘
سلیم کا جواب نہیں ،بلکہ کھٹر پٹر کی آواز سنائی دی۔
’’سلیم ۔۔سنو!‘‘
اُس رات کا شاخسانہ تھا ،یا کچھ اور ۔۔صبح عبیرہ اور سلیم کی بالکونی میںصرف سانسیں سنائی دیں،الفاظ ،میرے دل نے قائم کر لیے۔سلیم عبیرہ سے کہہ رہا ہو گا،
’’فکر نا کرو،میں ہوں نا!اُس کی لٹوں کو سنوارا ہو گا۔‘‘
نعیم کو ناشتہ بنا کر دیتے ،اسکول رخصت کرتے ،سیڑھیوںپر عبیرہ کے مکمل سلجھے بال دیکھ کر حیرانی ہوئی۔چہرے کے ارد گرد جھولتے بال سلیقے سے دائیں بائیں ہو چکے تھے۔بالکونی میں سانسوں کی
زبانی سُنی کہانی ،میرے دل نے جسے مکمل کیا تھا ،نا جانے کیوں عبیرہ کی ہیل والی جوتی کی ٹِک ٹِک سے ٹکرا کر مجھ تک نامکمل لوٹتی رہی،عبیرہ کی گہرے رنگ کی ساری کا پلو سفید لمبی سی گاڑی میں رنگ بھرتا چلا گیا ،جس میں وہ سرعت سے بیٹھتے ہوئے اُوپر دیکھنا نا بھولی۔میں نے تقریباََ بھاگتے ہوئے بلڈنگ سے باہر نکل کر عبیرہ کی نگاہوں کا تعاقب کرنا چاہا۔ ہلکی نیلی شال بالکونی کے ریلنگ سے سرکتی دکھائی دی۔ہاں!کل ہی تو یہ شال مجھے ذرا سا آگے جھک کر بائیں فلیٹ کی بالکونی میںسلیم کے کندھے پر دکھائی دی تھی۔
اُس دن کو اپنے شانوں پہ جمائے شام تک میراوجود شل ہو نے لگا تھا۔پل بھر کو نا سوچا میں کون سا بوجھ اٹھائے پھر رہی ہوں۔دن کو بے چین عبیرہ کا انتظار کرنا،بھاگ بھاگ کر بالکونی میں سلیم کو دیکھنا،وہ اپنی زندگی جی رہا تھا،اور آج ایک سچ میرے سامنے سینہ تانے کھڑا تھا۔میں سلیم کی سرگوشیوں کی اسیر ہو گئی تھی۔اپنی بیوی سے محبت کرنے والےسلیم کی اسیر ہو گئی تھی۔
شرجیل کی کال آ رہی تھی،جسے میں کوشش کے باوجود اٹھا نا سکی۔
زندگی یک لخت سناٹوں کی محبوبہ ہو گئی۔کسی کو پتا بھی نہیں ،اور میں کسی کی ہو کر، کہیں کی نا رہی۔شغل بازی مجھے کہاں لے گئی۔نعیم کو مارے باندھے کھانا دے کر اکیڈمی بھیجا۔وہ خوش ،میں خوش،شرجیل خوش۔ایک دو دن میں شرجیل نے لوٹ آنا تھا۔اُس کا میسج آیا تھا۔۔اُس کے لفظ چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے،کہ میری خاموشی اس کو کتنی بھائی ہے۔
’’تم باتیں کرتی ہو ،تو گویا بلبل چہکتی ہو۔‘‘سولہ سال پہلے میری منگنی کے روز شرجیل نے چپکے سے گجرے پہناتے ہوئے میری خاموشی پربولنےکا اصرار کیا رگا۔
’’حق تلفی ،ایک نیا تعارف قائم کرتی ہے۔‘‘
سہ پہر کو میں اپنے ہی گھر میں بولائی پھر رہی تھی۔۔کہ بالکونی سے سلیم کی دلفریب آواز او ر مدھم سی ہنسی سنائی دی۔میں جھٹ سے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی۔
’’جانتا ہوں۔۔مگر صائمہ ،میں محبتوں میں نئی یاد نہیں بناتا۔۔۔۔ہا۔۔جانتی ہو تو کوشش کیوں کرتی ہو۔۔۔ہمم۔۔ہاں سُن تو لیتا ہوں۔۔لیکن ہر لفظ اپنانے کے لیے نہیں ہوتا۔۔۔ہوں۔۔۔ہا ہاہا۔۔‘‘
سلیم کی آواز دور ہوتی چلی گئی،مگر میرے پیر زمین چھوڑنے کو تیّار نہیں تھے۔
میں تھی،وہ ٹرنک اور دوسری طرف کی سرگوشیاں تھیں۔۔مگر آج آواز سننے کے لیے مجھے ٹھنڈی دیوار سے کان نا لگانا پڑا۔سب واضح سنائی دے رہا تھا۔
’’تمھیں خود کو اچھا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بر ا کہنے کی ضرورت کیو ں پیش آتی ہے؟‘‘
سلیم کا جملہ اُس کی آواز کے درد میں کئی معنی پیش کر رہا تھا۔مجھے الفاظ سے زیادہ سلیم کا درد سنائی دیا۔
کچھ پل خاموشی کے بعد آج سلیم کی نہیں عبیرہ کی سرگوشی ابھری۔
’’ہمم!ٹھیک کہتے ہو۔‘‘
’’اوہ!معاف کر دو،میں اِس مشکل وقت میںتمھارے لیے کچھ کر نہیں پا رہا ۔اِس لیے بس تمھیں جہاں سے آسانی مل رہی ہے،میں چاہتا ہوں ،ہو جائے،مل جائے۔بس خود کو تمھارے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
دسمبر کے مہینہ تھا، میرے ہاتھ بھیگ گئے۔
’’ہمم!کوئی بات نہیں۔‘‘عبیرہ کی سرگوشی ابھری۔
’’دیکھو!شاہ صاحب اچھے آدمی ہیں،اتنی مدد کی۔اب ہمارے بیٹے کے آپریشن کا سارا خرچ بھی اٹھانے کو تیّار ہیں۔۔تمھارے لیے گاڑی بھیجنے لگے ہیں۔ایسے میں اگر زیادہ کام کے لیے رو کتے ہیں تو کیا ۔۔اب مفت میں تو کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا،نا۔‘‘
خاموشی۔۔عبیرہ کی آواز سنائی نا دی۔
’’۔۔اور ایسے میں جب تم اتنا کام کر رہی ہو،تو میں تمھیں تنہا کیسے چھوڑ دوں؟‘‘
’’اچھا !ہاتھ تو چھوڑو۔مجھے نیند آ رہی ہے۔‘‘
’’۔۔تو سو جاؤ۔میں تمھیں دیکھتا رہتا ہوں۔‘‘
’’میں یہ جگہ چھوڑ دوں گی۔۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے۔بچے کاآپریشن ہو جائے۔۔میں جلد ہی کوئی ملازمت تلاش کر لوں گا۔۔توچھوڑ دینا۔۔مگر۔۔‘‘
خود کو اپنے بستر تک لے کے آنے کے لیے مجھ سےاپنے ہی جذبات کا وزن اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔
بستر پر لیٹتے ہوئے شرجیل کہیں نہیں تھا۔
صبح سویرے میں ’’سلیم کے ’’مگر‘‘سے بے نیاز عبیرہ کے دروازے پر تھی۔
’’سلیم ایک دو روز تک شرجیل واپس آ جائیں گے۔عبیرہ بھی لوٹ آئے گی۔‘‘
میں نے سلیم کے کندھے سے اپنا سر اٹھایا۔
’’دیکھو!صوفیہ تمھیں میںنے پہلے ہی بتایا تھا کہ میں عبیرہ سے محبت میں خیانت نہیں کرتا،وہ ہمارے بیٹے کے آپریشن کے لیے کینڈا گئی ہے۔۔مگر تم اتنی ڈھیر ساری محبت لے کے آ گئیں۔میں تمھارا دل کیسے توڑ سکتا تھا۔۔مگر۔۔ بس اللہ کو سب پتا ہے۔۔ہم کتنے مجبور اور بے بس ہیں۔‘‘
سلیم نے میر اسر اپنے کاندھے پر کیا رکھا ،مجھے لگا عبیرہ میرے سامنے زمین پر ایک ننھی سی چیونٹی کی مانند رینگ رہی ہے۔
شرجیل لوٹ آئے۔۔میری خاموشی پر حیرانی نا ظاہر کرتے ہوئے ،سراہا۔
’ تم کافی بردبار ہو گئ ہو۔‘‘
عبیرہ لوٹ آئی۔اُن کابیٹا بھلا چنگا ہو گیا۔ایک ماہ گز ر گیا۔میںچاہ کر بھی سلیم سے دور نا رہ سکی۔
سلیم خوش،میں خوش،شرجیل خوش،نعیم خوش،کیونکہ میں اپنے شوہر اوربچے کو اب کم ہی دستیا ب تھی۔
عبیرہ خوش تھی،یا نہیں،اب مجھے اس کا پیچھاکرنے اور سننے کی ضرورت نہیں تھی۔۔مگر اُس روز اپنی ہی ترنگ میںچلی جا رہی تھی کہ کسی نے مجھے پیچھے سے ہلکی سی آواز دی۔
’’آپ کو مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟میں سبزی لینے نکلی تھی۔‘‘
میں اور عبیرہ کالونی کے چھوٹے سے پارک کے بینچ پر بیٹھے تھے۔
’’میں ایسا کہنا نہیں چاہتی تھی،مگر صوفیہ ایک سوراخ کے ہمیشہ دو درازے ہوتے ہیں۔‘‘
مجھے جھٹکا لگا،جسم کانپ اٹھا۔
آج بھی عبیرہ نے گہرے رنگ کی ساری کے ساتھ ہیل پہن رکھی تھی،یخ بستہ ہوا اپنا آپ منوانے سے قاصر ہوئے جا رہی تھی۔عبیرہ نے میرے ہاتھ تھامے۔گویا دونوں میاں بیوی کی کچھ عادات ایک سی تھیں۔
’’صوفیہ حقیقت کا تعلق کھوج اور تحقیق سے ہے۔‘‘
’’۔۔اور حقیقت کیا ہوتی ہے؟‘‘
میری آواز بھی لرز رہی تھی۔
’’حقیقت کا تعلق ،تحقیق سے ہے،گمان سے نہیں۔‘‘
وہ قطیعت سے بولی۔تو میں نے جرأت کی۔
’’۔۔اور دھوکے کی حقیقت کیا ہوئی؟‘‘
’’جس کا پتا چل جائے وہ دھوکا۔۔‘‘
’’۔۔اور جس کا پتا نا چلے۔۔۔؟‘‘
’’جس کا پتا نا چلے۔۔وہ ۔۔وہ ترقی ہے۔‘‘
میری آنکھ بھر آ ئی تو عبیرہ نے مجھے گلے لگاتے ہوئے ایک کاغذ کا پرزہ ہاتھ میں تھما دیا۔
پارک کے دروازے پر ہاتھ رکھےفٹ پاتھ پر دور جاتی عبیرہ کی لمبی ہیل کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔میں نے کاغذ کا ٹکڑا کھولا تو اُس پر ایک لائن لکھی تھی ۔میں نےدھندلی آنکھوں سے پڑھنے کی کوشش کی۔
’’ قیمت چیز نہیں،خریدار کی طلب طے کرتی ہے۔
ختم شُد
عندلیب بھٹی
