معاشرے میں دین اور دینداری کی کمزوریوں کا سماجی تجزیہ
دین اور دینداری کسی بھی معاشرے کی اخلاقی روح اور فکری بنیاد ہوتی ہے۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑنے لگے تو اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا سماج فکری انتشار، اخلاقی زوال اور اجتماعی بے سمتی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج مسلم معاشروں کو درپیش بحران محض بیرونی سازشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہماری اپنی داخلی کمزوریوں میں بھی گہری پیوست ہیں۔
1۔ داخلی کمزوریاں: زوال کی بنیادی وجہ
سب سے پہلی اور بنیادی کمزوری خود مسلمانوں کی اپنی فکری و عملی حالت ہے۔ دنیا پرستی، شہرت پرستی اور شہوت پرستی نے دینی اقدار کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔ دین جو کبھی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا تھا، اب محض رسمی عبادات یا محدود مذہبی شناخت تک سمیٹ دیا گیا ہے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی نے تقویٰ، ایثار اور اخلاقی ذمہ داری جیسے بنیادی اسلامی اصولوں کو کمزور کر دیا ہے۔
یہ صورتِ حال اس وقت مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب دین کو ذاتی مفادات، سماجی رتبے یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسے میں دین اصلاح کے بجائے تقسیم اور تصادم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
2۔ فکری غفلت اور دینی شعور کی کمی
مسلم معاشرے میں ایک بڑی کمزوری فکری غفلت اور دینی بصیرت کی کمی ہے۔ قرآن و سنت کی گہری سمجھ کے بجائے سنی سنائی باتوں، جذباتی نعروں اور فرقہ وارانہ تعصبات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دین کا اصل پیغام—عدل، وحدت، رحمت اور انسانیت—پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
یہی فکری کمزوری مسلمانوں کو آسانی سے بیرونی پروپیگنڈے، گمراہ کن نظریات اور دشمن کی سازشوں کا شکار بنا دیتی ہے۔
3۔ فرقہ واریت اور تکفیریت: امت کی داخلی شکست
مسلمانوں کا مختلف فرقوں میں بٹ جانا اور ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کا رجحان دین و دینداری کے زوال کی واضح علامت ہے۔ جب اختلافِ رائے کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا دیا جائے تو اتحاد ختم ہو جاتا ہے اور امت اپنی اجتماعی قوت کھو بیٹھتی ہے۔
یہ فرقہ واریت اکثر لاعلمی، تعصب اور بعض نام نہاد مذہبی رہنماؤں کے ذاتی مفادات کا نتیجہ ہوتی ہے، جو دین کے نام پر نفرت پھیلا کر اپنی حیثیت برقرار رکھتے ہیں۔
4۔ مذہبی قیادت کا بحران
کسی بھی معاشرے میں علماء اور دینی رہنماؤں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ لیکن جب اجتماعی مراکز میں چاپلوس، مکار، منافق نما عناصر کو اثر و رسوخ حاصل ہو جائے تو دین کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد حق گوئی کے بجائے طاقت اور مفاد کا ساتھ دیتے ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور دین سے دوری بڑھتی ہے۔
یہ بحران اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب سچ بولنے والے علماء کو دیوار سے لگا دیا جائے اور مصلحت پسند عناصر کو منبر و محراب پر جگہ دے دی جائے۔
5۔ بیرونی سازشیں: ایک حقیقت مگر مکمل سبب نہیں
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ عالمِ کفر و نفاق اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔ فکری یلغار، ثقافتی حملے، میڈیا کے ذریعے کردار کشی اور سیاسی عدم استحکام ان سازشوں کے اہم ہتھیار ہیں۔ تاہم یہ سازشیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب مسلمان خود غفلت، تفرقے اور کمزوری کا شکار ہوں۔
تاریخ گواہ ہے کہ باخبر، متحد اور بااخلاق امت کو کوئی بیرونی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
6۔ اصلاح کی راہ: بیداری، بصیرت اور اتحاد
اس سنگین صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ خود احتسابی، فکری بیداری اور دینی بصیرت کا فروغ ہے۔ دین کو دوبارہ زندگی کے مرکز میں لانا ہوگا، نہ کہ اسے محض جذبات یا رسوم تک محدود رکھنا ہوگا۔ اختلاف کے آداب سیکھنے، اتحاد کو فروغ دینے اور اخلاقی اقدار کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
نتیجہ اور دعا
جب تک مسلمان اپنی داخلی کمزوریوں کو پہچان کر ان کی اصلاح نہیں کرتے، بیرونی خطرات کا مقابلہ ممکن نہیں۔ دین و دینداری کی مضبوطی کا دار و مدار فرد، معاشرہ اور قیادت—تینوں کی اصلاح پر ہے۔
آخر میں بارگاہِ خداوندی میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت، اخلاص اور اتحاد عطا فرمائے، ہمارے اعمال کو ہماری عاقبت کے لیے بہتر بنا دے، اور ہمیں دینِ حق کے سچے علمبردار بننے کی توفیق نصیب فرمائے۔
محمد حسین بہشتی
