خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامنقظہ نواز
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

نقظہ نواز

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2026 0 تبصرے 62 مناظر
63

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

( مختصر مگر اہم بات )( نقظہ نواز )( چوتھی کہانی )

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی ” مختصر مگر اہم بات ” کی کہانی بھی پچھلی کہانیوں کی طرح ہمارے لیئے بڑی اہم ہے اور اس کہانی میں بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا آپ جانتے ہیں کہ ماچس کی تیلی میں مصالحہ بہت تھوڑا ہوتا ہے لیکن پورے شہر کو آگ لگانے کے لیئے کافی ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی میں کیا ہوا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا ایسا عمل جو حکم خداوندی کے خلاف ہو وہ بروز محشر ہمارے ساری نیکیوں پر بھاری پڑ سکتا ہے اور وہ عمل ہمیں جہنم میں لیجانے کے لیئے کافی ہوگا بالکل اسی طرح زندگی میں کیا ہوا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل جو نیکی کا ہو وہ ہمارے لیئے بخشش کا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ ہمارا رب بڑا نقطہ نواز ہے نہ جانے ہمیں کس نقطہ پر اپنے رحمت کے دروازے کھولتے ہوئے بخشش کے پروانے جاری کردے اور نہ جانے کس نقطہ پر ہماری پکڑ کر کے ہمیں جہنم میں داخل کرنے کے احکامات جاری کردے اسی لیئے کہا گیا کہ زندگی میں نیکیاں کرتے رہنا چاہیئے جبکہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک بہت مالدار اور رئیس آدمی رہتا تھا جس کا نام غالباً شیخ یاسر تھا ایک دن اس نے ایک خواب دیکھا اس خواب میں کسی کہنے والے نے اس سے کہا کہ تمہارے گھر کے سامنے ایک پھل فروش ہے یعنی فروٹ بیچنے والا اسے عمرہ کروادو وہ شخص جب صبح اٹھا تو اس نے اس خواب کو ان دیکھا کردیا لیکن دوسری رات اسے پھر یہ ہی خواب دیکھنے کو ملا اس شخص نے پھر اس خواب کو ان دیکھا کردیا لیکن جب شیخ یاسر نے تیسری بار یہ خواب دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ مجھے اس خواب کے بارے میں معلوم کرنا چاہیئے لہذہ اپنے محلے کے امام مسجد کے پاس پہنچا اور ساری حقیقت بیان کی تو امام مسجد نے انہیں کہا کہ اگر تین مرتبہ آپ کو یہ بات خواب کے ذریعے کہی گئی تو یقیناً اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ویسے بھی کافی نوازا ہوا ہے اگر آپ اس شخص کو عمرہ کروا دیتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے لہذہ شیخ یاسر اس پھل فروش کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ میں تمہیں عمرہ کے لیئے لے کر جانا چاہتا ہوں وہ پھل فروش یہ بات سن کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ صاحب میں کہاں گناہگار بندہ جو ایک وقت کی نماز تک نہیں پڑھتا اور کہاں عمرے کی سعادت لیکن شیخ یاسر نے اسے سمجھایا اور تسلی دی کہ تمہیں کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں ہے تمہارا سارا خرچہ میں برداشت کروں گا تو اس نے کہا کہ پھر میرے پیچھے میرے بیوی بچوں کا گزارا کیسے ہوگا تو شیخ نے کہا کہ یہ میری زمہ داری ہے مسلسل سمجھانے پر وہ شخص راضی ہوگیا اور یوں شیخ یاسر اس پھل فروش کو لے کر مکہ مکرمہ کی طرف عمرے کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے روانہ ہوگیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب عمرے کی ادائیگی کے مقررہ دن پورے ہوگئے اور جس دن ان دونوں کی واپسی تھی اور وہ دونوں حرم شریف میں موجود تھے تو پھل فروش نے شیخ یاسر سے کہا کہ نہ جانے زندگی میں پھر یہاں کبھی آنے کا موقع ملے نہ ملے کیوں نہ میں ایک بار دو رکعت نماز پڑھ لوں تو شیخ نے خوش ہوکر کہا کہ کیوں نہیں لہذہ اس پھل فروش نے نیت کی اور نماز پڑھنے لگا جب دوسری رکعت کے سجدے میں گیا تو سجدہ طویل ہوگیا اور جب کچھ زیادہ وقت لگا تو شیخ یاسر نے آواز لگائی اٹھو ہمیں جانا ہوگا لیکن وہ پھل فروش سجدے سے نہیں اٹھا کیوں کہ اس کی روح سجدے کی حالت میں پرواز کرگئی تھی یہ منظر دیکھ کر لوگوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہوگئی اور لوگوں کے منہ سے سبحان اللہ کی صدائیں گونجنے لگیں شیخ یاسر حیران و پریشاں کھڑا دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ مجھے تین راتوں تک مسلسل خواب میں یہ تلقین کی گئی کہ اس شخص کو عمرہ کروادوں اور یہ شیخ صاحب نماز تک نہیں پڑھتا تھا آخر اللہ کے نزدیک یہ اتنا محبوب کیوں تھا ؟ یہ سوال اس کے ذہن میں گردش کرتا رہا اور اسی سوال کو لیئے جب وہ واپس جدہ پہنچا اور اس پھل فروش کے گھر جاکر اس کی بیوی بچوں کو یہ خبر سنائی تو اس کی بیوی بھی حیران ہوگئی کہ اس کے شوہر کو اتنا بڑا رتبہ کیسے حاصل ہوا شیخ یاسر نے پوچھا کہ وہ زندگی میں یا تو کوئی نہ کوئی ایسا نیک عمل ضرور کرتا تھا جو اس کے لیئے اتنے بڑے مقام کا باعث بنا لیکن اس راز تک وہ پہنچ نہ پائے ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک عورت جو معزور تھی اور اس کی ایک چھوٹی سی بچی تھی وہ اس پھل فروش کا گھر ڈھونڈتے ہوئے پہنچی اتفاق ایسا تھا کہ اس وقت شیخ یاسر بھی وہیں موجود تھا تب اس عورت نے پھل فروش کی بیوی کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگی کہ تمہارا شوہر بڑا نیک دل انسان تھا وہ روزانہ میرے گھر کے باہر راشن رکھ کر دروازے پر دستک دیتا اور چلا جاتا کبھی اندر نہیں آتا تھا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی کہ میرے رب اس شخص کو اعلی مقام عطا کرنا جو میرے اور میری بچی کا اتنا خیال کرتا ہے اس عورت کی یہ بات سن کر شیخ یاسر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ سمجھ گیا کہ اس کی یہ نیکی اس کو یہ مقام فلا گئی اور اس کی بیوی کے سامنے بھی اپنے شوہر یعنی پھل فروش کی اس نیکی کا راز کھلا تو وہ بھی رونے لگی اور کہنے لگی کہ میں ہمیشہ اس سے یہ ہی شکوہ کرتی رہی کہ گھر کا گزارا نہیں ہوتا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میرا شوہر تو ایک نیک دل انسان ہونے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا مقرب اور محبوب بندہ بن چکا تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے سے راضی ہو جاتا ہے تو اسے دنیا میں زیادہ وقت نہیں رہنے دیتا بلکہ اپنے پاس بلا لیتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ اس کا محبوب بندہ ہوتا ہے جو اس کی مخلوق کا خیال رکھے اور خاص طور پر یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھے جیسے اس پھل فروش نے کیا یہ ہی سبق اور بڑی اہم بات تھی جو ہمیں آج کی کہانی سے سیکھنے کو ملتی ہے بیشک ہمراہ رب بڑا نقطہ نواز ہے یہ اس کی مصلحت اور منشاء پر منحصر ہے کہ وہ ہماری زندگی میں کیئے ہوئے کونسے نیک عمل پر خوش ہوکر ہمیں کوئی بڑا مقام عطا کردے اپنا محبوب بندہ بناکر اپنے خاص بندوں میں شامل کردے یا پھر ہمارے کیئے ہوئے سارے نیک اعمال کے مقابلہ میں کسی ایک اور چھوٹے سے چھوٹے سے گناہ کو ہمارے سارے نیک اعمال پر بھاری کرکے ہماری نیکیوں کو ہمارے ہی منہ پر مارتے ہوئے ہمیں جہنم واصل کردے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بڑی نعمت ہے بس اس زندگی کو ہمیں اس پروردگار کے احکامات اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے گزارنی چاہئے کیونکہ یہ زندگی مستقل رہنے والی چیز نہیں ہے بلکہ عارضی ہے جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو پھر ایک سیکنڈ کا بھی مزید وقت نہیں ملتا لہذہ اللہ رب العزت نے جتنا وقت ہمارے لیئے مقرر کیا ہے اسے اس کی نعمت سمجھ کر اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گزاریں گے تو یقیناً وہ رب بڑا غفور بھی ہے اور رحیم بھی وہ ہمیں کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا نہ زندگی میں اور نہ ہی محشر میں آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا جتنا بھی وقت عطا کیا ہے اسے اس رب العالمین کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا محبوب بندہ بناکر اپنے خاص بندوں میں شامل کردے مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔

محمد یوسف میاں برکاتی 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٍ بے عمل ٹرینر
  • غلام سے امامِ امت تک
  • وجود ایک وہم ہے
  • جب میں چھوٹا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!
پچھلی پوسٹ
ہم کون

متعلقہ پوسٹس

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے ہیں؟

مارچ 23, 2026

مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ...

جون 13, 2021

اعتماد کا فن

دسمبر 22, 2024

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019

ولی دکنی اُردو غزل کا باوا آدم ؟

جنوری 25, 2026

سرنگ

جون 9, 2020

اے خاصہ ء خاصانِ رسل شاہِ مدینہ

دسمبر 20, 2019

گرم لہو میں غلطاں

فروری 24, 2022

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019

طلاق کے اہم شرعی مسائل

نومبر 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں