۱
وہ شخص جیسے ہی سڑک پار کرنے کے لیے پاؤں آگے بڑھاتا ، کوئی گاڑی زن سے گزرتی،وہ گھبرا کے پیچھے ہٹ جاتا۔ کبھی کبھی فریقین میں سے کوئی بھی غلط نہیں ہو تا۔ پہلی بار چودھری شیر علی کو یہ بات سمجھ لگی ۔
وہ ہلکی ہلکی پھوہار میں ریستوران کی چھتری تلے بچھی کرسیوں پر بیٹھا موسم کی رنگینی کے ساتھ ساتھ ذرنش اعوان کو سوچ رہا تھا۔۔ کہ اُس کی توجہ سڑک پار کرنے کی کوشش کرنے والے پر ٹھہر گئی۔ کچھ دیر غیر اردای طور پر اجنبی کو دیکھتے رہنے پرشیر علی کو حیرانی ہوئی، اُس شخص کے چہرے پر جھنجھلاہٹ کے کوئی آثار پیدا نہیں ہو رہے تھے۔
ویسے توشیر علی مکمل چودھری تھا ،مگر یو کے میں گزارے دس سال کبھی کبھار ساتھ آ کھڑے ہوتے ۔اِس وقت بھی کچھ ایسا ہی تھا۔اُس نے بیتے برسوں سے جان چھڑانے کے لیےوہی کیا جو اکثر کیا کرتا۔۔فوراََ جگہ ندلنے کے لیے اٹھ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
بارش کی وجہ سے کچے پر پاؤں رکھتے ہوئے اُس کا توازن برقرار نا رہ سکا۔ دوسری طرف سے گاڑی زن سے گزری اوراُسی وقت ۔۔ دو ہاتھوں نے شیر علی کو سڑک کی طرف گرنے سے بچا لیا۔ پل دو پل میں کیا
۲
سے کیا ہو گیا۔اوسان بحال ہونے پر اُس نے سر اُٹھا کے دیکھا ،سامنے وہی شخص تھا۔ جس کی کوشش دیکھ کر وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ حالا نکہ بیرون ملک کی تعلیم کی وجہ سے وہ چونکا تو تھا مگر کیا کہیں کہ ٹھٹکنے سے پہلےچودھراہٹ غالب آ گئی ۔
کچھ دیر بعد چودھری شیر علی کے ساتھ وہ اجنبی بھی گاڑی میں بیٹھا محو سفر تھا۔
’’ تُم کون ہو؟‘‘
’’میرا نام جمیل علی ہے۔‘‘ تحمل سے جواب آیا۔
شیر علی ایک بار پھر چونک گیا، اجنبی کے چہرے کا اطمینان جیسے اُس کےنقوش کا حصّہ ہو۔
جمیل نام بتانے پر ملازمین کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ پھیلی گئی۔ شیر علی نے بھی ہلکے تبسم کے ساتھ اُس کا جائزہ لیا۔
جمیل گندمی ،سانولے اور تیکھے نین نقش کا حامل کِسی حد تک دیہاتی سا تھا۔ کُرتا پاجائمہ اور ہاتھ میں ایک درمیانا سفری بیگ تھا۔ ہاں مگراُس کے چہرے کا معصوم سا اطمینان چونکا دینے والا تھا۔
’’اچھا!تو کہاں جاؤ گے؟ڈرائیور تمھیں چھوڑ آئے گا۔‘‘
جمیل نے اپنے بوسیدہ سے بیگ کی جیب سے ایک کاغذ نکال کے شیر علی کو دکھایا۔
‘’’قصور ۔۔ ہمم۔۔اچھا یہ زیادہ دور نہیں۔ تُم میرے ساتھ چلو!کچھ کھانا وانا کھاؤ،پھر تمھیں گاڑی چھوڑ دے گی۔‘‘
جمیل نے بنا متاثر ہوئے ایک بار اثبات میں سر ہلایا تو شیر علی سمیت اُس کا دستِ راست بھی چونک گیا۔ جمیل کے چہرا بنا تاثرکے سپاٹ تھا۔
۳
‘’’میں چودھری شیر علی ہوں۔ ہم زمیندار ہوتے ہیں۔ تُم دیکھنا ہماری زمینیں۔۔ایکڑوں پر پھیلی ہوئی
ہیں۔‘‘
‘’’جی ۔۔ میں دیکھوں گا۔‘‘
شیر علی سمیت ایک بار پھر سب کو جھٹکا لگا۔ جمیل کی طرف ایک سادگی تھی ۔۔ایک اطمینان تھا۔
‘’’۔۔اچھاتو تم نے اپنے بارے میں نہیں بتایا۔ کہاں سے آ رہے ہو ،کہاں جا رہے ہو؟کیا کرتے ہو؟‘‘
‘’’یہ سب توآپ نے بھی نہیں بتایا۔‘‘
‘’’میں نے بتایاہےمیرا نام ۔۔۔‘‘
’’ہاں وہ تو ٹھیک ہے،مگر کہاں سے آ رہے ہیں ،کہاں جا رہے ہیں،،بس اپنی زمینوں کا بتایا ہے۔‘‘
جملے کیسے بھی تھے۔۔مگر جمیل کے منہ سے نکلتے ہوئے سادگی میں ڈھل جاتے۔
‘’’میں تو شکار پر گیا تھا۔۔۔‘‘جانے کیوں ،شیر علی کے دل میں،جمیل کے چہرے پر اپنا رعب دیکھنے کی خواہش جاگ اٹھی،جب کہ وہ ایک غیر اہم انسان تھا۔
اِس سے پہلے کہ یہ یو کے کا شیر علی۔۔ چودھری پر غالب آتا۔۔ ہنسی کا سامان پیدا ہو گیا۔ مقابلے کی فضا تو تب ہی ختم ہو گئی، جب جمیل کے واجبی سے کپڑے اور بوسیدہ سفری بیگ کو دیکھا گیا تھا۔۔
اِس بار اُس کے بیان نے سرکس کے مداری کا سماں باندھ دیا۔
’’میں نوکری کے لیے جا رہا ہوں۔۔اور پاگل خانے سے آ رہا ہوں۔ چار سال بعد مجھے جانےکی اجازت ملی ہے۔۔ یہ میرے پاس سرٹفیکیٹ بھی ہے۔‘‘
۴
جمیل نے بیگ سے ایک بوسیدہ کاغذ نکالنے کی کوشش کی۔۔ابھی وہ آدھا بیگ میں ہی تھا کہ شیر علی نے جمیل کی طرف اور پھر مسکرا کر صفدر ناٹے کودیکھا ۔ وہ مالک کا اشارہ پا کرسمجھ گیا کہ اب بات اُس نےبڑھانی ہے۔ ناٹا دبی مسکراہٹ کے ساتھ جمیل سے مخاطب ہوا۔
’’اچھا!ااا۔۔تو تم پاگل ہو۔۔مطلب تھے۔‘‘
’’پاگل ہوتا نہیں۔۔ بنا دیا جاتا ہے۔‘‘
’’۔۔ تو اب تُم پاگل نہیں ہو؟‘‘
شیر علی نے پوچھا۔
’’پہلے بھی نہیں تھا۔‘‘
’’۔۔پھر چار سال پاگل خانے میں کیوں تھے؟‘‘
’’ جب کِسی کی عقل کو تشفی نا ملے تو دوسرا اُسےپاگل ہی لگتا ہے۔‘‘
اب کے شیر علی آدھے سے زیادہ جمیل کی طرف مُڑ چکا تھا۔ یونیورسٹی کی ساری کتابیں ذرنش سمیت سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
’’یہ ہی تو المیہ ہے، چودھری شیر علی کہ تمھیں اپنے صحیح کا توپتا ہے؟مگر دوسرے کا درست بھی تمھارے پاس آ کر غلط ہو جاتا ہے۔۔کیوں۔۔؟اِس ’’کیوں‘‘پر کبھی غور نہیں کیا۔‘‘
’’آپ کیا سوچ رہے ہیں؟بہت بہت شکریہ۔۔ مجھے ساتھ لے کے چلے آئے۔‘‘
’’جمیل میرے گارڈ زبھی قریب تھے۔۔ مگر میرے پھسلنے پر تُم اتنی جلدی مجھ تک پہنچ گئے؟‘‘
’’سر !آپ مجھ سے پوچھ رہے ہی ،یا بتا رہے ہیں؟‘‘
۵
ٹن۔۔ ٹن ۔۔ ٹن۔۔ کچھ بتانے اور سمجھ نا آنے کے کے بیچ کے ٹل کھڑکنے لگے۔ وہ ادھ ادھورا شیر علی پھر سے کسممسانے لگا۔ اب یو کے کی یونیورسٹی کے احاطے میں بیٹھے مسلسل علمی گفتگو کرتا شیرعلی، چودھری پر مکمل حاوی ہو چکا تھا۔
اِس کے بعد شیر علی نے خاموشی سے اُس نکتے کی طرف توجّہ مرکوز کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ بے چین ہو کر اِس موسم میں گھر سے دور نہر کے سنسنان راستے پر نکل آیا تھا۔
’’آخر ۔۔مسئلہ کدھر ہے؟ کیا میں ایک لڑکی کے لیے بے بس ہو رہا ہوں،یا چودھری شیر علی ہار جیت کے دائرے میں آ گیا۔۔ نہیں نہیں۔۔ ذرنش سے محبت کا تعلق کِسی فتح سے نہیں ہو سکتا۔۔تو پھر وہ ذرنش جو وعدوں کو جینا چاہتی تھی۔ اُسے کیوں مجھ سے الجھن ہے؟‘‘
’’خود سے خود کے سوال اور جواب کبھی مضمون مکمل نہیں کرتے ۔۔ اور اگر پیش لفظ پر نام بھی کِسی اور کا ہو تو بات کرنا سب سے اہم ہے۔۔ وہ جس میں دولوگ شامل ہوں اُس کا فیصلہ کوئی ایک کیسے کر سکتا ہے۔۔ایسے میں۔۔ فیصلے نہیں فاصلے ہوتے ہیں۔۔‘‘
جمیل نے بس ایک نظر شیر کو دیکھ کر دوبارہ سر جھکا لیا تھا۔ شیر نے جمیل کی طرف دیکھا اور دیکھ کر کیا دیکھا کہ وہاں ابھی بھی اطمینان اور سکوت تھا۔
گزرےایک گھنٹے میں شیر علی جانے کتنی بار چونکا تھا۔۔ جمیل کے ساتھ بات شروع ہونے کے بعد اُس نے کئی مدراج طے کیے۔۔ ہمدردی،حیرانی ،مذاق،تفاخر سے لے کر مسیحا تک کا سفر طے ہوا۔۔
گاڑی گھر کے سامنے رُکی تو شیر علی نے خود کو کہتے سنا۔
۶
’’جمیل علی۔۔ کیا تُم میرے دوست بنو گے؟‘‘
شیر کے پیچھے کھڑے صفدر ناٹے کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ شیر علی اور درخواست۔۔اور وہ بھی دوستی کی گزارش کے ساتھ ۔۔۔ایک پاگل سے۔۔۔؟
’’صفدر!جمیل کے لیے ڈیرے پر بہترین کمرہ کھلواؤ۔ یہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔‘‘
’’چودھری جی کا دماغ کہیں پاگل کے ساتھ ہی تونہیں ہل گیا ؟ کہیں اُس نے کوئی جادو ٹونہ۔۔؟‘‘
صفدر ناٹے کی بڑبڑاہٹ اور گھبراہٹ دیدنی تھی۔۔ اردگرد کے ملازمین نے اُسے ملاحظہ فرمایا اور خوش ہوئے۔
’’چودھری جی۔۔پاگل خانے سے آیا ہے۔۔اجنبی ہے۔۔اور ۔۔ مجھے تو پاگل ہی لگتا ہے۔۔ جادو ٹونا کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔۔اور ۔۔‘‘
شیر علی سب طے کر چکا تھا۔کھانا شروع ہوتے ہی جمیل کا شکریہ وصول کرنے کے فوراً بعد اُس نے سوچ سمجھ کر ٹھہرے ہوے لہجے میں کہا۔
’’تُم نے جواب نہیں دیا؟‘‘
’’آپ کو جب یقین ہے کہ میں انکار نہیں کروں گا تو پھرپہلا سوال کیا،تو دوسرے اصرار کی گنجائش کہاں بچتی ہے۔‘‘
شیر علی کو لگا وہ پوچھے گا کہ کِس بات کا جواب۔۔ اور یوں جمیل کے جواب نے اُس کو اپنی رائے میں مزید پختہ کر دیا تو وہ کھل کے مسکرایا۔
’’ویسے میرے سبھی دوست اچھے ہیں۔ میں بھی اُن کا بہترین دوست ہوں۔‘‘
۷
جمیل علی نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا، تو شیر جتنا اُسے سمجھ سکا تھا اُس کی تشفی نا ہوئی۔
’’خاموشی ہر بار اقرار تو نہیں ہو سکتی۔۔؟‘‘
شیر کا جملہ سن کر پہلی بار جمیلہ ہلکا سا مسکرایا۔۔تو شیر علی کو ایک دھکا سا لگا۔۔’’تو کیا یہ سب کو بے وقوف سمجھتا ہے یا ۔۔ غیر اہم۔۔۔‘‘
۔۔۔اور آنے والے وقت نے اُسے بتایا کہ اُس کی دوسری بات درست تھی۔
’’چودھری جی اہم یہ نہیں کہ آپ کِسی کے کتنے اچھے دوست ہیں۔۔‘‘
’’۔۔تو۔۔ اہم کیا ہے؟‘‘
شیر علی کولگا کہ ذرنش کیالجھن وہ غلط کر چکا۔۔ایک عام سے انسان کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
’’۔۔۔یہی کہ آپ میرے ۔۔۔کتنے اچھے دوست ہیں۔۔‘‘
شیر کی دُم پر جیسے جمیل نے پاؤں رکھا تھا۔اُسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا کہ جمیل نے اپنا جملہ مکمل کر کے شیر علی کو کنارے لگنے میں کمک فراہم کی۔
’’جیسے کہ اہم یہ نہیں کہ میں پاگل خانے سے آیا ہوں۔۔یا کہیں اور سے۔۔دیوانہ ہوں یا نہیں۔۔خاص تو یہ ہے کہ میں آپ کے لیے کتنا فرزانہ ثابت ہوتا ہوں۔‘‘
’’اوہ! کیا یہ شخص دوسرے کے ذہن تک رسائی رکھتا ہے۔‘‘
شیر علی نے ایک گہری سانس لے کے خود کو اپنے فیصلے پر سراہتے ہوئے جمیل سے کہا۔
’’اچھا! تو جمیل میری ایک دوست ہے۔۔ہمارے بیچ سب اچھا تھا۔۔مگر اچانک وہ مجھ سے خفا رہنے لگی
۸
ہے۔ تُم کوئی حل بتا سکتے ہو۔۔ اور یہ کہ وہ یہاں آ جائے۔۔‘‘
جمیل کے چہرے پر کوئی تجسّس نا دیکھ کر شیر کو حیرانی نا ہوئی۔اتنا تو وہ بھی سمجھ ہی چکا تھا۔۔ سامنے سے آئے سوال پر وہ مسکرا یا۔
’’۔۔وہ کہاں سے یہاں نہیں آ رہیں؟ ۔۔ اور اقرار کب سے انکار میں تبدیل ہوا؟‘‘
’’میں اور ذرنش یو کے میں ساتھ پڑھتے تھے۔۔ مجھے یہاں آئے چھ ماہ ہوئے ہیں۔۔ اور تب سے ہی وہ خفا رہنے لگی ہے ۔۔اور نا ہی یہاں آنا چاہتی ہے۔‘‘
’’۔۔تو یہ اُن کا حق ہے کہ وہ جہاں رہنا چاہیں اُسی ملک میں رہیں۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو، مگر یہاں نا آنے کی وجہ ملک نہیں بلکہ میں ہوں،مجھ سے ناراضی ہے۔۔ جب کہ پہلے وہ آنے پر تیّار تھی۔‘‘
’’۔۔ تو آپ اُن سے خفگی کی وجہ پوچھیں۔۔میں اِس سلسلے میں کیا کروں گا؟‘‘
’’جمیل! میں پوچھ چکا ہوں۔‘‘
’’۔۔پھر کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔۔آپ اُس وجہ کو درست کر دیں۔ ‘‘
’’ہا۔۔وہ کہتی ہے کہ میں یہاں آ کر بدل گیا ہوں۔۔اب تم ہی کہو ،میں اِس وجہ کو کیسےٹھیک کروں؟‘‘
’’کیا آپ نہیں بدلے؟‘‘
’’ بدلتا تو اُس کا معاملہ تمھارے سامنے رکھتا؟‘‘
’’ٹھیک ہے، میں بات کروں گا۔۔ویسے جو مجھے کہا وہی اُنھیں بھی کہہ دیتے۔‘‘
’’میں نے کہا تھا ۔۔مگر وہ اپنی بات پرقائم ہے۔‘‘
۹
شیر علی نے فوراًذرنش کو کال ملائی اور اسپیکر کھول کر جمیل کا تعارف اپنا دوست کہہ کر کروایا۔
کچھ دیر رسمی بات چیت کے بعد جمیل نے سیدھے ہی پوچھ لیا۔
‘’’آپ نے وعدہ کر کے یہاں آنے سے انکار کر دیا۔‘‘
شیر اور ذرنش دونوں کو اتھی صاف بات کی امید نہیں تھی۔۔ شیر علی نے ایم فِل کی طالبہ کو جمیل کے سامنے اپنی کہی گئی بات دھرانے کا حوصلہ نا دیکھا۔
’’انھوں نے کہا کہ آپ کولگتا ہے کہ یہ بدل گئے ہیں۔۔ میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ کِس نوعیّت کی تبدیلی پائی۔۔۔ مگراِن کے بارے میں پہلے جو رائے تھی وہ بھی آپ نے قائم کی۔۔اور اب جو کہی وہ بھی آپ کی رائے ہے۔۔ تو کیسے پتا کہ آپ پہلے صحیح تھیں کہ اب ۔۔ اور کیوں نا۔۔ یہ کہا جائے کہ آپ بدل
گئیں؟۔۔ اور اگر یہ رائے آپ نے اِن کے کِسی عمل کی بنیاد پر بنائی تو پھر جب پہلے اچھی رائے تھی توتب بھی اِنھی کے عمل سے بنی تھی نا۔۔ اِس کے بعد آپ نے اتنی دور سے اُن کے کِسی عمل کو کیسے غلط مان لیا۔۔۔اور ۔۔ بات یہ بھی ہے کہ۔۔‘‘
شیر علی نے ذرنش کے تپتے چہرے کودیکھ کے جلدی سے فون کا اسپکیر بند کیا۔۔ مگر یہ کیا کہ ذرنش نے کال ہی بند کر دی۔ذرنش ایسی غیر اخلاقی حرکت کبھی نہیں کرسکتی تھی۔۔ یعنی وہ کس قدر غصّہ تھی۔
شیر علی نے ایک بار پھر اپنے فیصلے میں چٹخ پٹخ محسوس کی۔۔اُسے پتا چل گیا تھا کہ جمیل ایک قابل مگرجان سے مار دینے کی حد تک سیدھی بات کرتا ہے۔
رات گئے شیر علی سوچ رہا تھا کہ جمیل کو کیسے رُخصت کرے۔وہ جھوٹا پڑ رہا تھا۔اُس نے تو
۱۰
کہا تھا کہ اہم یہ ہے کہ وہ اُس کا کیسا دوست ہے۔‘‘
’’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جمیل کا سوچے گا۔اب ذرنش مجھ سے بات بھی نہیں کرےگی۔اُسے پہلے ہی میرے اندر کا وڈیرا دکھائی دینا بند نہیں ہوتا۔۔۔ہمم ،صفدر سے کہتاہوں اِس کو چلتا کرے۔ میں چودھری شیر علی ایک راہ گیر کے جھانسے میں آ گیا۔ ابّا تو پہلے ہی ذرنش کے الٹ بات کرتے رہتے ہیں۔انھیں میرے اندر کا چودھری مردہ نظر آتا ہے۔‘‘
شہر علی نے طیش میں اپنی ہتھیلی پہ مُکّا مارا۔۔اور اپنی غلطی کا ذرنش کو قصور وارمانا۔
’’نا ذرنش مجھے وڈیرا وڈیرا کہہ کے بات کرتی نا ہی میںیہ غلطی کرتا۔ایک پاگل خانے سے نکلے انسان
کو اپنے برابر بیٹھا لیا۔۔ہاں! شاید میں ذرنش کو متاثر کرنا چاہتا تھا۔‘‘
شیر علی نے خود کو بے قصور مان کر ذرنش کو خوب براماناہی تھا کہ فون پر میسیج کی بیل بجی۔ وہ ذرنش کا پیغام تھا۔
’’ شاید۔۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔ میں اگلے ہفتے آ رہی ہوں۔ کچھ وقت ساتھ گزار کے فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘
ذرنش نے خود کو غلط کہہ دیا تھا۔۔ یہ کمال تھا۔۔جو کبھی سوچا نہیں جا سکتا تھا ،مگر بہر حال ہو چکا تھا۔۔اور شیر علی ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کر کے خوش ہوا۔
ذرنش کو شکریہ اور لگاوٹ کا میسج بھیج کر وہ دھڑام سے بستر پر گرنے کے سے انداز سے لیٹ گیا۔۔اِس کے بعد خوشی پر حیرانی نے تب غلبہ کیا۔۔جب اُسے ادراک ہوا کہ جمیل کو ملے اُسے ایک دن بھی نہیں ہوا تھا مگر اُس نے کتنی بار اُس کے لیے فیصلے بدلے تھے۔
صبح جمیل سے اُس کی ملاقات ڈیرے کے باہر بنے باغیچے میں ہوئی۔وہ سادہ چارپائی پر درخت
۱۱
کے نیچے اپنے ازلی سکون کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔ سر کے نیچے ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیے گنگنا رہا تھا۔اُس کی آواز میں ایک ایسا درد اور ٹھہراؤ تھا کہ شیر علی نے خود کو یو کے کے درختوں تلے اپنی کِسی پسندیدہ کتاب کے ہمراہ پایا۔
’’وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا۔۔۔۔۔
جمیل مدھم سُر میں جاری تھا۔ شیر کی نظر اُس کے سینے پر دھرے ایک کاغذ پر پڑی۔ یوکے کہیں پیچھے رہ گیا۔ وڈیرے نے غیر اخلاقی حرکت دھڑلے سے کی۔ کاغذ اُٹھا کے پلٹا۔۔اُسی وقت جمیل نے آنکھیں کھول کے اُسے دیکھا اور اٹھ کے بیٹھ گیا۔جب کہ شیر علی کاغذ کوتکتے ساکت کھڑا تھا۔
’’یہ ۔۔یہ ۔۔تُم تصویر کشی بھی کر تے ہو؟‘‘
شیر علی نے کاغذ پر اپنا بہترین عکس دیکھ کر حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات میں جواب دیا۔
’’ہاں! جی۔۔ کرتا رہتا ہوں۔‘‘
شیر علی نے کاغذ پر خود کو کل شام کا کھانا کھاتے دیکھا۔۔ سیلفی سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی۔ پینسل کی ایک ایک لائن سے وڈیرے کی تسکین ہوئی۔ ۔اور جمیل نے جب تکیے کے نیچے سے تین اور اسکیچ نکال کے اُس کے سامنے رکھے تو اُس کی طبیعت بشاش ہو گئی۔۔وہ اُس کی مخترلف انداز میں بنائی گئی، تصویریں تھیں۔
’’ایک دو روز تک ذرنش آ جائے گی۔‘‘
جمیل نے اطمینان سے ہلکی مسکراہٹ سے اثبات میں سر ہلایا۔
’’مجھے کام کیا کرنا ہو گا؟‘‘
’’اتنا بڑا کام تو کر دیا۔۔‘‘ شیر علی نے مسرور ہوتے ہوئے خود کو شاباش دی۔ تیسر روز ذرنش رات کا کھانا شیر علی کے ساتھ کھا رہی تھی۔۔
چند دن اِدھر اُدھر گھومتے گزرے۔ وہ ڈیرے اور باغیچوں میں جمیل کے ساتھ بھی گپیں لگاتی۔۔ جمیل نے ذرنش کی فرمائش پراُس کے بھی اسکیچ بنا کے دیے۔۔ شیر علی نے ذرنش کو اتنا مسکراتے اور لہک میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔اور جس روز وہ ذرنش سے اپنی شادی کی بات کرنے والا تھا۔۔ صبح ذرنش اور شیر علی جمیل کے بنائےاسکیچ دیکھ رہےتھے۔۔ تبھی وہ چونک کر ایک کاغذ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے بولی۔
’’دیکھو!تمھیں نہیں لگتا کہ ساری تصویر تمھاری ہیں، مگر آنکھوں کے پیچھے جو عکس ہے وہ تمھارا نہیں لگتا۔۔یہ کسی اور کا ہے۔‘‘
شیر علی نے لاپروہی سے کاغذ ایک طرف پھینکنے کے سے انداز سے رکھ کر ذرنش کے قریب ہوتے ہوئے
کہا۔۔
’’چھوڑو بھی ۔۔وہ ایک عام سا انسان ہے۔۔ پیشہ ور نہیں ہے۔‘‘
ذرنش نے کاغذ دوبارہ اٹھا کر دیکھا۔
’’ویسے کتنی خطرناک چمک ہے ،یہاں آنکھوں میں۔۔‘‘
’’تم بھی کیا لے بیٹھ گئیں۔‘‘ذرنش نے ایک نظر شیر علی کو اپنے قریب ہوتے دیکھ کراُسے غور سے دیکھا اور پھر رات کو شیر علی ذرنش سے اپنی شادی کی بات کرتا کہ ذرنش نے اپنے جانے کی بات کر دی ۔۔۔اور ناصرف اپنی بلکہ جمیل کو اپنے ساتھ لے جانے کا کہہ دیا۔
۱۳
اُس کے بعد جو ہوا اُس پر سب سے زیادہ صفدر ناٹا خوش تھا۔
ایک کمرے میں ذرنش اور دوسرے میں جمیل علی بند تھے۔
آپ نے مجھے قید کیوں کیا ہے؟‘‘
’’چلو!شکر ہے تمھیں بھی سوال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تمھارا سکون اب کدھر گیا۔۔ میری منگیتر کو اپنے بس میں کر لیا۔۔اب تمھارے اصول کہاں گئے۔۔ کس قدر شاطر انسان ہو۔کیسے دوغلے ہو۔‘‘
’’۔۔۔ جمیل نے کھڑکی میں لگی لوہے کی سلاخوں کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے کہا۔
’’۔۔۔لیکن آپ توکہتے تھے کہ میں سادہ انسان ہوں۔ کوئی چاپلوسی نہیں۔ میں تو اب بھی وہی ہوں۔۔ میرا عمل گواہ ہے کہ میں اب بھی وہی ہوں ۔۔ میں نے میڈم کو بھی کچھ نہیں کہا۔۔انھوں نے اپنا ارداہ کیوں بدلا۔۔میں نہیں جانتا۔۔اور آپ نے اپنی رائے کیوں بدلی ۔۔ میں یہ بھی نہیں جانتا۔۔ ہاں! مجھے اتنا پتا ہے کہ اوّل روز سے میں جیسا تھا ویسا ہی ہوں۔۔۔توپھر سادہ سے شاطر کیسے ہو گیا۔‘‘
شیرعلی روز جمیل کے سامنے اِس کمرے میں کھڑا ہو کر اُسے لعن طعن کرنے آتا تھا۔۔مگر آج چڑ کر صفدر کو ایک اشارہ کرتے ہوئے جانے لگا تھا کہ اُس کی نظر زمین پر رکھے ایک کاغذ پرٹھہر گئی۔
’’۔۔۔ تو تُم ابھی بھی تصویریں بنا رہے ہو؟ یقیناً میری توہو نہیں سکتیں۔۔‘‘
’’آپ ہی۔۔ کی ہے۔‘‘
جمیل کے جواب پر شیر نے صفدر کو اشارہ کیا۔اُس نے کاغذ اٹھا کر شیر علی کو دیا۔ یہ شیرعلی کی ہی تصویر تھی جو جمیل نے سلاخوں کے پیچھے سے بنائی تھی۔
۱۴
’’ہا ہا۔۔ شاید تم نے اپنا غصّہ نکالا ہے۔اِس میں توایسے لگتا ہے کہ میں سلاخوں کے پیچھے ہوں۔۔تُم نہیں۔۔‘‘
جمیل نے سکون پرور لہجے میں کہا۔
’’ہاں! جہاں سے میں دیکھتا ہوں،وہاں سے آپ سلاخوں کے پیچھے دکھائی دیتے ہو ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شُد
عندلیب بھٹی
