124
جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا
چہرہ دیکھنے والوں نے دل چیر دیا
کچھ تیرے الفاظ بھی نشتر جیسے تھے
کچھ تیرے متوالوں نے دل چیر دیا
لوگوں کی تو عادت ہے باتیں کرنا
بس تیری پڑتالوں نے دل چیر دیا
مدت بعد ہُوا جب گاؤں جانا تو
خالی گھر کے جالوں نے دل چیر دیا
مجبوری کا قصہ چل مَیں مان گئی
لیکن تیری چالوں نے دل چیر دیا
پیاس کی شدت نے مارا صحراؤں میں
اور پاؤں کے چھالوں نے دل چیر دیا
بھوکے بچوں کی نظروں میں پوشیدہ
کچھ معصوم سوالوں نے دل چیر دیا
منزّہ سیّد
