خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 27, 2023
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 27, 2023 0 تبصرے 75 مناظر
76

٢١ اکتوبر ٢٠١٩ءکا دن،میں گورنمنٹ کالج، میر پورہ میں نو تعینات تھا۔چھٹی کے وقت پرنسپل صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دراز قد ،کلین شیو، خوش پوش نوجوان ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا بیگ تھامے دفتر میں وارد ہوا۔ میرے لیے وہ بالکل اجنبی تھا لہذا واجبی سا سلام اور مصافحہ کرنے کے بعد وہ صوفے پر ہی تشریف فرما ہو گیا۔میں نے بھی کوئی خاص التفات نہ کی۔ بعد ازاں جب ہم ہاسٹل کی طرف آئے تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہی آگیا۔ کمرے میں سامان وغیرہ رکھا تب میرے ساتھی ملک مبشر احمد نے اس ہنس مکھ نوجوان کا تعارف کچھ یوں کروایا: "یہ ثاقب صاحب ہیں میرے ایم فل کے ہم جماعت اور مڈل اسکول میرپورہ میں جونیئر سائنس مدرس آبائی تعلق کیل سے ہے اور رہائشی مظفرآباد کے ہیں۔”
ثاقب اقبال سے یہ پہلا تعارف تھا۔ ثاقب ہمارے ساتھ ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھا اس لیے بہت قریب رہنے کا موقع ملا۔ سویرے اسکول جانا اور چھٹی کے بعد واپس آنا، کھانا کھا کر اور نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ اسکول کی طرف جانا اور تدریسی فرائض سر انجام دینا ثاقب کے معمولات میں تھا۔ ثاقب اقبال مغل آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کی تحصیل شاردہ کے گاؤں کیل میں ٦ اگست ١٩٨٩ء کو محمد اقبال مغل کے گھر تولد ہوئے۔ کیل نکہ کے مسجد اسکول سے پرائمری تک کی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ مڈل اسکول کیل سے آٹھویں جماعت میں کام یابی حاصل کی۔ بوائز انٹر کالج کیل سے دسویں اور بعد ازاں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں کام یابی سمیٹی۔ ثاقب اقبال کے سنجیدہ مزاج اور تابع فرماں ہونے کی بنا پر اساتذہ کو ہمیشہ عزیز رہے۔ بشیر الدین چغتائی صاحب جو ثاقب کے کالج میں استاد رہے ان کے شرافت اور تابع فرمانی کے گواہ ہیں۔ ثاقب پڑھائی میں زیادہ قابل ذکر نہ تھا مگر محنت سے جی نہ چرانے والے یہ طالب علم کام یابی کے زینے طے کرتا چلا گیا۔
٢٠٠٧ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد شہرِ اقتدار مظفراباد کا رخ کیا۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج،مظفراباد میں داخلہ لیا اور ٢٠٠٩ء میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کر لی۔ ایک سال کے وقفے کے بعد آزاد جموں کشمیر یونی ورسٹی میں کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری کے لیے جت گئے اور ٢٠١٢ء میں ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز مکمل کر لی۔ سفر ابھی مکمل نہ ہوا اور تشنگی کم نہ ہوئی کہ اسی ادارے سے ماسٹر آف فلاسفی بھی ٢٠١٥ء میں کام یابی سے مکمل کر لی۔ایم فل کی تکمیل کے بعد باقاعدہ عملی زندگی میں قدم رکھا اور ایک سال تک جامعہ آزاد جموں کشمیر کے نیلم کیمپس میں بہ طور جز وقتی لیکچررخدمات سر انجام دیں۔ ٢٠١٧ء میں پاکستان کے بہترین تعلیمی ادارے قائد اعظم یونی ورسٹی، اسلام اباد میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے میدان میں اترے۔ ٢٠١٨ء میں آزاد کشمیر میں اساتذہ کی تعیناتی کے لیے این ٹی ایس کا نفاذ ہوا۔ اس امتحان میں شامل ہو کر اپنی محنتِ شاقہ کی بدولت یہاں بھی کام یابی سمیٹی۔ اکتوبر ٢٠١٨ء میں محکمہ تعلیم آزاد کشمیر میں جونیئرمدرس کی حیثیت سے نئے سفر کی شروعات کیں۔گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول، میرپورہ میں ابتدائی تعیناتی ہوئی۔ ثاقب اقبال نے اپنی قابلیت کی بدولت طلبہ پر اس قدر محنت کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے پیشے کے ساتھ اتنا مخلص ہے۔ چھٹی کے بعد شام کے اوقات میں بھی طلبہ کو بلانا اور ان پر جی جان سے محنت کرنا ثاقب کی اضافی خوبیوں میں شامل رہا۔ میرا اور ثاقب اقبال کا ایک ساتھ جتنا بھی وقت گزرا وہ اتنا شان دار گزرا کہ بیان سے باہر ہے۔ہوسٹل میں کھانا بنانے کا معاملہ ہو،چائے تیار کرنی ہو، چشمے سے پانی لانے کی بات ہو، چہل قدمی کرنے جانے کا وقت ہو یا پھر یا پھر کھیل کا موقع ہر دم اس شخص کو مستعدی سے کام کرتے دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی مکمل توجہ،اسکول کے فلاحی اور ترقیاتی کاموں میں اور طلبہ کی کام یابی کے لیے ثاقب کو ہمیشہ فکر مند دیکھا۔ اہلِ محلہ کی مشکلات کو حل کرنا ثاقب کی سرشت میں شامل تھا۔ جیسا کہ جمعے کا وہ دن جب ہم لوگ مسجد میں نماز جمعہ ادا کر کے واپس آئے۔ ثاقب اور ملک مبشر خریداری کے لیے بازار کی طرف ہو لیے جب کہ میں اور بشیر الدین صاحب ہاسٹل کی طرف آگئے۔ کافی وقت گزر گیا جب ان کی واپسی نہ ہوئی تو باہر نکل کر دیکھا دور محلے کے ایک گھر میں آگ بھڑک رہی تھی۔ آگ دیکھ کر میں نے کہا کہ ضرور ثاقب اور مبشر ادھر چلے گئے ہیں بشیر صاحب نے کہا ایسا نہیں ہو گا۔ میں بشیر صاحب کے ہم راہ جب ادھر کا رخ کیا تو دونوں کو اس جلتے ہوئے گھر میں آگ بجھانے والوں کی صف میں پایا۔یہ ہم دردی اور خدا ترسی کا ایک واقعہ ہے۔اس طرح کہ کئی واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ محلے سے کوئی آدمی آدھی رات کو آجاتا کہ فلاں جگہ آن لائن داخلہ بھیجنا ہے یا پرنٹ نکالنا ہے۔ ثاقب خندہ پیشانی سے اس کا کام کرنے نکل پڑتا اور اپنا لیپ ٹاپ کھول کر اس کی مشکل کا حل تلاش کرتا۔حتیٰ کہ اس کے چلے جانے کے بعد بھی جو کبھی کالج میں کمپوٹر کے کسی مسئلے میں الجھتے تو ثاقب اقبال یا ملک مبشر ہی ہوتے جو فون پر اس مسئلے کو حل کرتے۔ ثاقب اقبال وہ سیمابی صفت انسان ہے جو ستاروں سے اگے جہاں کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ اس کے مسلک میں یہ بات نہیں کہ بنا سعی کے کچھ حاصل ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں وہ ہمہ دم سرگرداں نظر آیا۔کم و بیش آٹھ مرتبہ آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن میں شمولیت کی درخواست دی مگر شومئی قسمت کے کچھ عناصر نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات پر عدالت سے حکم امتناعی جاری کروا دیا۔ اس طرح ثاقب دو مرتبہ شامل امتحان ہو کر بالترتیب ٥٦ اور ٧٣ نمبرز لینے کے باوجود منتخب نہ ہو سکا۔ وجہ اس اسامی پر حکم امتناعی۔یہی نہیں بلکہ منزل کی تلاش میں آزاد کشمیر کی تین بڑی جامعات باغ، پونچھ اور کوٹلی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود سفارش نہ ہونے کی بنا پر نظر انداز ہونے والا یہ نوجوان اتنا با ہمت رہا کہ اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ لیکچرر کے لیے ٢٠٢٢ء میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات میں شمولیت کے لیے درخواست دی۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے کئی لوگوں نے اس دوڑ میں ہنر آزمایا لیکن صرف ایک امیدوار کا انتخاب عمل میں آیا جو ثاقب اقبال تھا۔ ہمارے ایک ساتھی نے جب یہ سنا کہ ثاقب خوش قسمت رہا کہ اس کا تقرر ہوا تو میرا یہ جواب تھا کہ بخت سے بڑھ کر اس کی شبانہ روز محنت کا یہ ثمر ہے کہ اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی لگن اور کوشش کو کبھی ماند نہ پڑنے دیا۔ثاقب اقبال کی محنت کی بابت اس کے ہم جماعت ملک مبشر احمد کا کہنا ہے کہ وہ جماعت میں بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ محنت کرتا۔ کبھی کسی پرچے یا مشق کے معاملے میں اس نے غفلت نہ برتی۔ گورنمنٹ مڈل اسکول،میر پورہ میں اس کی سرگرمیاں دیکھ کر بھی مجھے اس کے محنتی ہونے کا ٹھیک طور پہ اندازہ ہو گیا۔ امتحانی پرچے بنانا، کمپوز کرنا اور پھر ان کو بہتر انداز میں طلبہ کو دینا، داخلوں کے لیے اشتہار بنوانا حتیٰ کہ اسکول کے ہر ہر معاملے میں اس کی دل چسپی اس کے محنتی ہونے کی غماز ٹھہری۔ثاقب نے زندگی میں ہارنا نہیں سیکھا اور اس کی یہی ادا مجھے بہت بھائی۔ میں نے اپنے تئیں ثاقب کی شخصیت پر یہ چند سطور قلم بند کیں۔ دعا گو ہوں کہ ڈاکٹر ثاقب اقبال لیکچرر کے عہدے سے ترقیاب ہو کر مزید آگے بڑھے اور زندگی میں ہمیشہ کام یابیاں سمیٹے آمین۔احمد ندیم قاسمی مرحوم کا یہ شعر ثاقب کے حوصلے کی نذر:

قعرِ دریا میں بھی آ نکلے گی سورج کی کرن
مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مجھے خبر ہے کہ پلکیں
  • غزل کے اشعار
  • اجنبی آنکھیں
  • مصوّر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آرٹسٹ کی موت
پچھلی پوسٹ
میں تم سے محبت کرتی ہوں

متعلقہ پوسٹس

میں جب اس کےلئے بیتاب ہوا کرتا تھا

جولائی 31, 2022

دیوتاؤں کے دیوتا

اکتوبر 2, 2020

شجرِ ثمر بار، فرہاد احمد فگار

جولائی 31, 2022

پاک فوج اور ہم

مارچ 25, 2022

اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں سے نسبت

دسمبر 6, 2024

ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا

مارچ 19, 2022

پاکستان کہاں ہے؟

اپریل 9, 2023

تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے

مارچ 26, 2020

ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ کر

فروری 10, 2021

ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پنجرے

مئی 21, 2025

ہزار طعنے سنے گا،خجِل نہیں ہو...

مئی 4, 2020

مولانا مجھے آپ سے شکایت ہے

ستمبر 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں