خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادیوتاؤں کے دیوتا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

دیوتاؤں کے دیوتا

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2020 0 تبصرے 43 مناظر
44

دیوتاؤں کے دیوتا

اماوس کی رات تھی۔ دھرتی گھور اندھیرے کی کالی چادر اوڑھے دبکی بیٹھی تھی۔ اندھیرا اتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ سر سبز درخت جن بھوت کی پرچھائیں لگتے تھے۔ پہاڑی کے اوپر واقع شہر کا سب سے پرانا مندر کالی گھٹا کی طرح سناٹے اور خوف میں ڈوبا ہوا کھڑا تھا۔ تاریکی اتنی کہ مندر کے فانوس بھی شکست خوردہ دکھائی دیتے تھے۔ اس کے روشن دانوں سے چھنتی ہوئی روشنی خوف میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی۔ آج کل اس مندر میں انسانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔

مندر کے سب سے بڑے ہال میں کئی قمقمے روشن تھے جن کی ملگجی سی روشنی میں ایک اجلاس جاری تھا۔ اس میں تمام لافانی دیوتا شریک تھے۔ دیوتاؤں کے دیوتا کی پیشانی پر چمکتے ہوئے پسینے کے قطرے اس کی پریشانی کو عیاں کر رہے تھے۔ دھرتی پر موجود کشمکش کی وجہ سے دن بدن مسائل بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ خاموشی کو توڑتے ہوئے صنم اکبر بولا ”اب اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ ہمارے ہما کو تو مار دیا گیا ہے۔“ یہ دربار شام ڈھلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ آج کل دیوتاؤں کی یہ محفل روزانہ سجتی تھی۔ ان میں سے ایک بولا ”دھرتی کو پھر کسی اوتار کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھیج دیں یا پھر خود ہی کسی اور روپ میں پدھاریں۔“ لیکن اس تجویز سے کوئی بھی متفق نہ تھا۔ موجودہ حالات میں صنم اکبر خود بھی متامل تھا۔

کافی بحث و تمحیض کے بعد بھی کوئی حل نہ مل سکا تو صنم اکبر نے آج کی محفل کو برخاست کرتے ہوئے غصے سے فرمان جاری کیا ”ققنس کو میرے پاس بھیجا جائے۔“ اور بڑبڑاتے ہوئے اپنی خواب گاہ کی طرف چل پڑا۔ ”میں خداؤں کا خدا ہوں۔ میرا ترکش خالی نہیں۔ اس میں بہت سے تیر موجود ہیں۔“

اگلی صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی دھرتی کے سب سے بڑے چمن میں ققنس کے نغمے گونج اٹھے۔ اس کی منقار میں موجود تین سو ساٹھ سوراخوں سے طرح طرح کے راگ ابلنا شروع ہو گئے۔ کیا چرند کیا پرند، کیا حیوان کیا انسان، سب اس کی طرف کھنچے چلے آرہے تھے۔ لوگوں کے حواس گم ہو گئے۔ دیو مالائی گیتوں نے ان پر وجد طاری کر دیا۔ سورج نصف النہار پر تھا اور لوگوں کو اپنے گھر بار اور کاروبار کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ققنس نے دوپہر کو کچھ وقفہ کیا تو لوگوں کو بھی گھر بار کا خیال آیا۔

شام ہوئی تو راگ کے ٹھاٹ اور مدھر گیت پھر ہواؤں کے دوش پر رچنا شروع ہو گئے۔ پوری دھرتی کے پرندے اپنے آشیانے چھوڑ کر اس کی طرف اڑان بھرنے لگے۔ دیوتاؤں کے پیرو کاروں نے دانا دنکا بھی بکھیرنا شروع کر دیا۔ ققنس لوگوں میں مقبول ہوتا چلا گیا۔ اس کی آواز ایسی سحر انگیز تھی کہ وہ لوگ جو راگ رنگ کی شیدائی نہیں تھے وہ بھی اس کی طرف کھنچے چلے آئے۔ اس کے گیت زبان زد عام ہو گئے۔ اس کے راگوں نے مردہ دلوں کو زندہ کر دیا۔

لوگ اپنے مسائل بھول گئے۔ تمام انسان اس کے مدھر گیتوں میں کھو گئے۔ اسی چمنستان میں ققنس کا ایک مندر بنا دیا گیا۔ دیوتاؤں کے پجاری اور پروہت بھی اس کی مالا جپنا شروع ہو گئے۔ صبح کا آغاز بھور سمے کے راگ للت سے ہوتا۔ پھر بسنتی چولا پہنے راگ بہار سر سبز و شاداب خطے کو گل و گلزار کر دیتا۔ ملہار شروع ہو تا تو مچلتی بوندیں ٹپکنا شروع ہو جاتیں۔ سانجھ بیلے مالکونس اور آدھی رات کے مہمان درباری کی تانین لوگوں کو مدھرتا پلاتی، مدہوش کیے رکھتیں۔

کئی سال گزر گئے۔ اب راتوں کو جب راگ درباری کانہڑا روایتی شان و شکوہ کے باوجود اپنے اندر موجود یاسیت بکھیرتا تو لوگوں کی اداسی واپس آنا شروع ہو جاتی۔ انسانوں کی ناتمام امنگیں اور مایوسیاں دوبارہ تازہ ہو جاتیں۔ لوگ کب تک صرف دیوتاؤں کے بھجن، راگ اور گیت سن کر گزارا کرتے۔ دیوتاؤں کے مندر پھر آباد ہو گئے تھے اور انسانوں کے گھروں کی ویرانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ پھر ساری دولت دیوتاؤں کے چرنوں میں ڈھیر ہونا شروع ہو گئی تھی۔

کئی سالوں سے ققنس راگ رنگ بکھیر رہا تھا لیکن دن بدن دھرتی پر فتور بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ گیت انسانوں اور چرند پرند کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔ پت جھڑ کا موسم آیا تو درخت سوکھ گئے۔ سردی بڑھی تو ایک دن ققنس اپنی فطرت کے مطابق سوکھی لکڑیاں جمع کر کے لے آیا۔ انسانوں کی بے بسی، بھوک، افلاس اور غربت دیکھ کر ہما کو مارنے والے بھی آج گھات لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اس مصیبت سے جان چھڑوائی تھی۔ اب دیوتاؤں کا یہ چیلا ساری دولت سمیٹ کر ان کے مندر آباد کر رہا تھا۔

ققنس بھی سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے لکڑیوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر گانا شروع کیا تو ایک شکاری نے تاک کر تیر چلا یا۔ نشانہ چوک گیا۔ ققنس کا جنوں بھی انگڑائی لینے لگا اور اس نے دیپک راگ شروع کر دیا۔ ہر طرف آگ لگ گئی۔ چمن جلنا شروع ہو گیا۔ لوگوں نے تیر کمان سیدھے کر کے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ اتنے بڑے پرندے کو تیروں کے وار زخمی کر رہے تھے لیکن وہ مرا نہیں تھا۔ راگ جاری تھا۔ آگ بھی پھیلتی جارہی تھی۔ بالآخر وہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا۔ سارا چمن جل گیا تھا۔ ہرطرف راکھ ہی راکھ تھی۔ انسانوں اور جانوروں کی جلی ہوئی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس کا کوئی فرد مارا نہ گیا ہو۔ لیکن انسانوں نے پھر بھی کلمہ شکر ادا کیا۔ اب انہوں نے دوبارہ اپنے گھروں اور کاروبار کو سنوارنا شروع کر دیا۔

سردیوں کی بارش آئی اور ساری راکھ بھی بہہ گئی۔ لوگوں کو پتا بھی نہ چلا اور اس بارش سے را کہ میں ایک انڈا پیدا ہوا جس سے ایک اور ققنس نے جنم لے لیا۔ ایک صبح لوگ جاگے تو اس کے گیت نئے درختوں کی شاخوں میں گونج رہے تھے۔ پورا ملک ہی امڈ آیا اور اس پر تیر برسانا شروع کر دیے۔ جدھر تیروں کی بوچھاڑ ہوتی وہ ادھر سے اڑ کر دوسری شاخ پر جا بیٹھتا۔ ماہر شکاریوں کے تیر بھی نشانے پر نہیں لگ رہے تھے۔ لوگ بھڑک اٹھے اور پہاڑی پر واقع دیوتاؤں کے مندر پر حملہ آور ہو گئے۔ در و دیوار تباہ کر کے اندر گھسے تو تمام دیوتاؤں کے استھان خالی تھے۔

اس کے بعد پھر کبھی ققنس کی آواز سنائی نہ دی۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عرش بریں پرقیام اعلیٰ ہے
  • آنکھ سے دور جائیے
  • اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات
  • ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!
پچھلی پوسٹ
کاش ہم استاد بن جائیں

متعلقہ پوسٹس

بے آواز

جون 21, 2020

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

میاں، بیوی اور واہگہ

اپریل 9, 2018

کھول دو

اکتوبر 16, 2019

دو سیاح

جنوری 11, 2020

ہم کو جہانِ شوق کا منظر

فروری 26, 2025

ایسی پستی ایسی بلندی

جون 19, 2023

اب کے منظر سے ہٹا دوں اس کو

جنوری 22, 2022

مجھ کو مجھ سے بھی نہاں رکھا گیا ہے

اکتوبر 26, 2025

کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے

نومبر 27, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کھمبیاں جمع چھچھورے اور میڈیا انفلوئنسرز

نومبر 16, 2025

رنگ برنگی عینکیں !

جولائی 12, 2021

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 14, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں