خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں

از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2025 0 تبصرے 59 مناظر
60

سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
ایک وقت تھا کہ بات کرنے سے پہلے لوگ سوچتے تھے، بولنے سے پہلے توقف کرتے تھے اور لکھنے سے پہلے کئی بار لفظوں کا وزن تولتے تھے۔ مگر آج کی دنیا میں بولنا آسان ہو گیا ہے اور سمجھنا مشکل۔ ایک زمانے میں شور صرف بازاروں اور میلوں میں ہوتا تھا، لیکن آج یہ شور ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل کی اسکرین تک آ پہنچا ہے۔ اب ہر شخص بول رہا ہے مگر کم لوگ سمجھ رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے آپ کو نمایاں کر رہا ہے مگر کم لوگ اپنے اندر جھانک رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے بظاہر دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے مگر ذہنوں کے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ پہلے علم گفتگو سے پہچانا جاتا تھا، اب انداز گفتگو سے پہچانا جاتا ہے۔ پہلے بات کو اس کے مضمون کے ذریعے پرکھا جاتا تھا، اب پیش کرنے والے کے چہرے کے تاثرات معیار بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاموش نہیں آئی بلکہ قدم بہ قدم ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ بنتی گئی۔

وِلاگرز کی ایک نئی دنیا کھل چکی ہے جہاں کیمرہ ہی معیار سمجھا جاتا ہے۔ جو کل تک ایک سطری رائے دینے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا آج وہ قوم کی فکری سمت کا فیصلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ تحقیق، مطالعہ اور مشاہدہ پیچھے رہ گئے ہیں اور لمحاتی تاثر نے دانشور کی جگہ سنبھال لی ہے۔ دکھ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شور میں وہ آوازیں دب جاتی ہیں جو اصل میں رہنمائی کا حق رکھتی ہیں۔ وہ آوازیں جن میں تحقیق کی خوشبو، علم کی سنجیدگی اور معاشرتی بصیرت ہوتی ہے وہ چیختے ہوئے نعروں کے سامنے بے آواز ہو جاتی ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر حقیقت اور رائے کے درمیان فرق دھندلا گیا ہے۔ ایک عام خبر بھی جذباتی انداز میں پیش کی جائے تو سنجیدہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں کبھی جھوٹ سچ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور کبھی سچ بھی اتنا کمزور دکھائی دیتا ہے کہ لوگ اسے قبول کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ سطحیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ذہن معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں مگر سمجھ تک نہیں پہنچ پاتے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو نے چند صفحات کی کتاب پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ لمحاتی تجزیہ گہرے تجزیے کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

ایک دور تھا جب استاد، محقق اور ادیب معاشرے کی فکری سمت طے کرتے تھے۔ گفتگو کتابوں سے نکلتی تھی اور کتابوں میں ہی مکمل ہوتی تھی۔ مگر اب سوال بھی ویڈیو میں ہے اور جواب بھی ویڈیو میں۔ ایک متاثر کن آواز، ایک خوبصورت اسٹوڈیو یا ایک تیز جملہ کسی کو عقل مند ثابت کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ سوچ کی دنیا کو کمزور کر رہا ہے۔ علم کا سفر برداشت مانگتا ہے مگر آج کے صارف کے پاس چند منٹ بھی نہیں۔

اس کے باوجود امید زندہ ہے اور شاید ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اس ہجوم میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اپنے لفظوں کو امانت سمجھتے ہیں۔ جو اپنی تحریر کو ذمہ داری سمجھ کر لکھتے ہیں۔ جو تحقیق کے بغیر کسی بات کو آگے نہیں بڑھاتے۔ یہ لوگ کم ضرور ہیں مگر ان کی موجودگی ہی معاشرے کا اصل سرمایہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم شور کے بیچ سے انہی آوازوں کو پہچانیں۔ ہم فرق سمجھ سکیں کہ کون صرف بول رہا ہے اور کون بات بھی کر رہا ہے۔

قارئین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر معاشرہ اعلیٰ معیار کو قبول کرے، اگر وہ تحقیق اور سنجیدگی کو اہمیت دے تو سطحی مواد خود ہی اپنی جگہ کھو دیتا ہے۔ اگر ہم گہرائی کو قدر بنائیں تو تحریر اور تقریر میں گہرائی دوبارہ پیدا ہونے لگے گی۔ اگر ہم تحقیق کی روشنی کو ترجیح دیں تو آنے والی نسلیں شور میں نہیں بلکہ علم کے چراغ کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔

سوشل میڈیا ایک طاقت ہے اور طاقت کبھی اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ یہی پلیٹ فارم فکری بلندی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اگر ہم چاہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کو شور کا اسیر نہ بنائیں۔ ہم اپنی آنکھ کو دھوکے سے بچائیں اور اپنے ذہن کو سطحیت کا قیدی نہ بننے دیں۔

وہ قومیں جو اپنی سنجیدہ آوازیں کھو دیتی ہیں وہ راستے بھی کھو دیتی ہیں۔ اور وہ قومیں جو اپنے اہل فکر کو پہچان لیتی ہیں وہ تاریخ میں اپنا راستہ خود بناتی ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں۔ شور والے راستے کے یا شعور والے راستے کے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فیصلہ تو کرنا ہے
  • آنندی
  • مشکل وقت میں کیا کریں؟
  • جو کتابِ زیست کا باب تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیڈٹ کالج وانا
پچھلی پوسٹ
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)

متعلقہ پوسٹس

سہیلی

دسمبر 1, 2019

پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر

مارچ 25, 2026

سرگشتہ بہت رہنا ، کوئی بات نہ کرنا!

نومبر 5, 2020

دریائے نیلوفر کی خلوت

جنوری 11, 2025

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

مئی 23, 2020

بوئے خلوص ، عظمتِ انسان کھینچ کر

اکتوبر 24, 2025

وقت کی قید میں

جنوری 17, 2025

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

مئی 17, 2024

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ ملا تھا اور بس کچھ...

مارچ 31, 2020

راستا دیکھ رہا ہوں

جون 11, 2024

پھر الجھنوں میں عجب دِل کا...

نومبر 5, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں