532
وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
واہمہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
دھڑکنوں کا ساز تھا بجتا رہا
رابطہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
اک سرے سے دوسرے تک زندگی
سلسلہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
جا ملے تھے قافلوں سے قافلے
فاصلہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
منزلیں پر پیچ تھیں پر خار تھیں
بس خدا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
جل رہا تھا ایک گھر مجبور تھی
حادثہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
نیند تھی جو خواب میں تحلیل تھی
آئینہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
ثمینہ گُل
