482
مان جاؤ ناں
یہ مانا کہ ترے اک بھی اشارے کے بنا
کچھ بھی نہیں ممکن
کوئی تجسیم نہیں ہوگی
کوئی تکمیل نہیں ہوگی
کوئی بھی کُن تری طاقت سے زیادہ ہو نہیں سکتا
یہ سورج چاند اور تارے
تری بس کُن کے باعث ہی نکلتے ہیں
طلوع ہو کر سفر اپنا مکمل کرکے جاتے ہیں
یہاں ہر ایک تنکے کو تراہی بس سہارا ہے
کہیں نمرود سے فرعون سے شداد سے بندے
کہیں سرکش بھگوڑےہیں
بڑے ہی ناتواں نکلے
بڑے دعوے دھرے ہی رہ گئے سب کے
مگر مولا تری رحمت سمندر ہے
تری عظمت بلندی ہے
تری الفت عبادت ہے
تری راحت تری چاہت
محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آقا
مرے مولا مری یہ بات سُن لے
اور ہمیں بس معاف کردے
تراتخلیق کردہ یہ جہاں
تصویر کرنا ہے
ابھی تو رنگ بھرنے ہیں
ابھی تیری تجلی سے اندھیرے دور کرنے ہیں
تجھے پانا تو باقی ہے
ہمیں اپنی پناہ دے دے
ہمیں اپنی پناہ دے دے
ثمینہ گُل
