415
پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ
پھول بن کر بکھر گئے ہم لوگ
یہ محبت بھی کیا عجب مے ہے
ہینگڈ اوور نہیں ہوئے ہم لوگ
تیری آنکھوں کی خیر ہو پیارے
تیرے ہوتے ہوئے بجھے ہم لوگ
اپنا ہنسنا بھی دیکھتا کوئی
جھاڑیوں میں کھلے رہے ہم لوگ
صرف مٹی سے سب نہیں بنتے
روشنی سے دیا ہوئے ہم لوگ
پھول کانٹوں میں کیا تمیز کریں
دو قدم بھی نہیں چلے ہم لوگ
شاید اس واسطے وبا آئی
جینے لائق نہیں رہے ہم لوگ
آنسو آنسو ہیں سب کے سانجھے ہیں
بارشوں میں نہیں ہنسے ہم لوگ
اس نے یوں ہی ادھر کو دیکھ لیا
تیز ہوتے ہوئے تھمے ہم لوگ
ساتھ چلنے کو یوں نہ کہہ ہم سے
چل پڑیں گے کھڑے کھڑے ہم لوگ
دھوپ دینے کے دن ہی آ نہ سکے
گٹھریوں میں بندھے رہے ہم لوگ
اب ستائش کی کس کو خواہش ہے
اب تو جوتے پہن چکے ہم لوگ
عمر بھر منفرد رہے آرش
سارا رستہ نہیں رکے ہم لوگ
سرفراز آرش

1 تبصرہ
لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی
جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ