103
گھر کی دیوار پہ کیوں لکھا کہ گھر خالی ہے
اتنی وحشت سے بھرا ہے یہ کدھر خالی ہے
آپ محسوس نہ کر پائیں گے میرے دکھ کو
شام ہونے کو ہے اور سارا شجر خالی ہے
تیری مرضی ہے تو چاہے تو کرے دل آباد
اک ترے واسطے یہ بار دگر خالی ہے
میں نے خوں سے نہیں اشکوں سے لکھا تھا وہ خط
اس میں لکھا تو بہت کچھ تھا ، مگر خالی ہے
اب بھلا کیسے پڑے گی مرے دن میں برکت
آپ کے پیار سے جو میری سحر خالی ہے
کوئی جاتا ہی نہیں دشت سیاحت کے لئے
ایک مدت سے تو یہ راہ گزر خالی ہے
گھر کہاں بنتا ہے آرائش اشیاء سے اثر
جس میں بہنیں نہیں ہوتی ہیں وہ گھر خالی ہے
عدنان اثر
