خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسڑک – جو خون اگلتی ہے
آپکا اردو باباابو فہداردو تحاریراردو تراجم

سڑک – جو خون اگلتی ہے

از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022
از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022 0 تبصرے 53 مناظر
54

فوجی افسرنے جب پیغام پڑھا توحیرتوںکے سمندر میں غرق ہوگیا۔ پیغام اور پیغام بر کو تشویش زدہ نظروں سے دیکھا۔”یہ آدمی توبالکل تازہ دم ہے ، نہ لباس پر کچھ غبار اور نہ ہی جسم پر تکان کے کچھ آثار“اس نے پیغام بر کوایک بار پھر سر سے پاؤں تک دیکھا۔
اس کے من میں ہر پل بڑھتی ہوئی حیرتیں شکوک وشبہات میں بدلنے لگیں” سڑک خون اگل رہی ہے“ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا !!۔ یقینا یہ آدمی پاگل ہے۔ اس نے دھیرے سے بیل بجائی اور ہمیشہ سے دروازے پر کھڑا ہوا فوجی اندر داخل ہوا۔
”اسے یہاں سے لے جاﺅ“
اس نے رسیور اٹھایااور ذہنی امراض کے اسپتال کا نمبر ڈائل کیاپیغام برکچھ بھی سمجھے بغیرفوجی کے ساتھ چل دیا ”سڑک خون اگل رہی ہے“ وہ زیر لب مسکرایاپھر یکا یک اس پر ہنسی کا دورہ پڑگیا ”پاگل“
”کیا ہوا سر!؟؟“ دروازے پرہمیشہ سے کھڑا ہوافوجی تیزی سے اس کی طرف لپکا۔
” اپنی پشت پردروازہ بند کردو۔“
پھروہ استراحت کے لئے چلا گیا مجنونانہ پیغام کو بھلانے کی کوشش کی۔ رفتہ رفتہ اس کے حواس بحال ہونے لگے پھر اچانک فو ن بج اٹھا اور تادیر بجتا رہااس نے بے دلی کے ساتھ رسیور اٹھایا۔ دوسری طرف سے بولنے والا جلدی جلدی بول رہا تھا اور خون اگلنے والی سڑک سے متعلق اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ ”کیا وہ پاگل بھاگ گیا؟“ اس کا ذہن فوری طور پر بے وقوف سے پیغام بر کی طرف گیا اس نے ایک بار پھر بیل بجائی۔
”وہ آدمی کہاں ہے جس کو تو یہاں سے لے گیا تھا؟“ فوجی کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے سوال کیا۔
”وہ نظر بند ہے “
اس کی حیرتوں کی ہانڈی میں جیسے ابال آگیاہاتھ کے اشارے سے اس کو جانے کے لیے کہا۔ اور پھر سے فون پر بات کرنے لگا۔ دوسری طرف سے بولنے والا کوئی ذی حیثیت آدمی تھا۔ ”یہ غیر ممکن ہے کہ دوسری طرف سے بات کرنے والا وہی پاگل ہو“اس نے رسیور رکھ دیا اور خود سے جائے واردات کا معائینہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اس مجنونانہ پیغام کی بچشم خود تصدیق کرسکے۔وہ فورا ًہی نکل کھڑا ہوا ہمیشہ سے دروازے پر کھڑے ہوئے فوجی نے سیلیوٹ مارا۔ اس کو حکم دیا کہ جلدی سے فوجیوں گاڑی میں بھراجائےفوجی نے ایک بار پھر سیلیوٹ مارااور حکم کی بجا آوری کے لئے دوڑپڑا۔
جب وہ بیرونی دروازے پر پہونچا تو اس نے دیکھا کہ گاڑی فوجیوں کو لئے تیار کھڑی ہے۔فوجی گاڑی کے ڈرائیور نے اسے دیکھتے ہی سیلیوٹ مارا۔ مگر وہ اس سے اور اس کے سیلیوٹ سے بالکل بے پرواہ تھا۔ اسے تو خون اگلنے والی سڑک پر جانے کی جلدی تھی۔ ڈرائیو ر چلنے کے لئے تیار تھا اس نے اپنی پیٹھ پیچھے سے کھسر پسرکی آوازیںسنیں ۔گاڑی میں بیٹھے ہوئے فوجیوں کو زور سے ڈانٹاچہ مے گویاں یک لخت بند ہوگئیں
گاڑی چلنے لگی تھوڑی دیر بعدگاڑی کی رفتار کم ہوگئی اور پھر مسافرگاڑیوں کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کے درمیان گاڑی بالکل رک گئی فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ دوڑکر جائیں اور ٹریفک جام ہونے کی وجہ دریافت کریں حکم کی بجا آوری کے لیے کئی فوجیوں نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی اس اثنا میں کئی بوجھل لمحے گزر گئے۔ وہ خیالوں میں کھوگیا۔ شاندار آفس، آرام دہ کرسی، تازہ ہوا اور دروازے پر مستعد کھڑا ہوا فوجی وہ حکم کرتا ہے اور وہ الف لیلہ کے جن کی طرح چشم زدن میں حکم بجالاتا ہے اس کے ذہن کے پردے پر مختلف سین گردش کرنے لگے واپس لوٹنے والے فوجی نے سیلیوٹ مارا اور زمین پر اس کے جوتے کی رگڑ کی آوازسے اس کا خیال ٹوٹ گیا۔
” ٹریفک جام کی کیا وجہ ہے؟“
فوجی پر عجیب وغریب حالت طاری تھی وہ کچھ بھی نہیں سن سکا اس نے پھر پوچھا فوجی نے سراٹھایا مگر اس سے کوئی جواب نہ بن پایااور بدستور گم صم کھڑا اپنے پیروں تلے زمین کو تکتا رہا”کیا کہہ رہے ہو؟“اس باروہ اس کے بالکل قریب آکر چیخا۔
”بولتے کیوں نہیں؟“
فوجی اور بھی زیادہ حیرت زدہ ہوگیا اور اس کے منہ سے مردہ الفاظ نکلے۔
”سڑک خون اگل رہی ہے۔“
تمہاری مت ماری گئی ہے۔ لعنت ہے تمہاری عقلوں پر ایسی کون سی سڑک ہے جو خون اگل رہی ہے۔ کیا تم بالکل بدھو ہو؟!!
اس کی لعن طعن نے فوجی کومزید حیرت زدہ کردیامگر وہ بدستور خاموش رہاگم صم اور بے حس وحرکت اس کو جتنی بھی صلواتیں یاد تھیں،اپنے سامنے کھڑے گم صم فوجی کے سرپر اگل دیں۔
”جو کچھ تونے وہاں دیکھا ، تفصیل سے بیان کر“
فوجی کی ابلتی ہوئی بے حس وحرکت آنکھیں فضا میں معلق تھیں اسے لگا کہ یہ مرچکا ہے
گاڑی وہیں چھوڑکرآگے بڑھنے لگاتا کہ پتہ لگا سکے کہ ٹریفک کس وجہ سے جام ہے راہ میں اپنے فوجیوںکو واپس لوٹتے ہوئے پایاوہ سب حیرتوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھےاس کا شک کافور ہوگیااس نے تقریبا چیختے ہوئے سب کو رکنے کے لیے کہاگاڑی میں موجود دیگر فوجیوں کو بھی جمع کیاان سب کو جلد سے جلد پوری طرح تیار رہنے کاحکم دیاتمام فوجیوں نے اسلحے نکال لئے اورچہرے کی طرف شیشے لگے ہوئے ہیلمیٹ پہن لئے
مسافر گاڑیوں میں بیٹھے لوگ ، جنگی لباس پہنے ہوئے فوجیوں کو تحیر کے ساتھ دیکھ رہے تھے اوران کے لیے احسان مندی کے جذبات سے لبریز کلمات کہہ رہے تھےیہاں تک کہ وہ گاڑیوںکی سب سے آگے والی قطارتک پہونچ گیافوجیوں کے ایک دستہ نے راستہ جام کر رکھا تھا،انہوں نے اپنے جسموں سے پیچھے رکی ہوئی گاڑیوں اور سامنے موج مارتی ہوئی سڑک کے درمیان قدرے فاصلہ بنا رکھا تھاوہ اونچی آواز کے ساتھ چلا رہا تھااورفوجیوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہواآگے بڑھ رہا تھایہاں تک کہ سب سے آگے نکل آیاچند ثانیے تک ادھر ادھر غور سے دیکھتا رہا اور پھرزورسے چلایا” اے شیطانو !یہ سب کیا ہورہا ہے؟!!“سڑک پر خون بہہ رہا تھا”سڑک خون اگل رہی ہے“خون کے رنگ نے اس کے اندرون میں عجیب وغریب احساس جگا دیاایک انجانا خوف اس کے پورے وجود پر طاری ہوگیااسباق ، ہدایات اور احکام، جن کا تجربہ اس نے اپنے کام کے دوران کیا تھا سب کے مختلف رنگ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوگئےپھر وہ پوری طاقت سے چلایافوجیوں کی طرف سے اس بار بھی مکمل سکوت تھااس نے الرٹ ہوجانے کا حکم دیافوجی خون کے دریا میں جو ان کو چاروں طرف سے گھیر ے میں لے رہا تھا بے خطر کود پڑےان کے ہاتھ سرعت اور مہارت کے ساتھ کام کررہے تھےمگر خون اور زیادہ ابلنے لگافوجیوںکو لگا کہ وہ خون میں پوری طرح لت پت ہیں اور اس میں ڈوبے جار ہے ہیںجیسے وہ زخمی ہوں اور خون ان سے بہہ رہا ہو
آفیسرخون اگلتی ہوئی سڑک چھوڑ کر بھاگ کھڑاہوا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف دوڑاڈرائیور کودفترچلنے کی ہدایت کی ہمیشہ سے دروازے پر کھڑے ہوئے فوجی نے سیلیوٹ مارااس کو حکم دیاکہ تمام فوجی گاڑی میں بیٹھ جائیںدروازے پر ہمیشہ سے کھڑے رہنے والا فوجی حکم بجالانے کے لیے دوڑ پڑا
دفتر میںاپنی کرسی پر بیٹھااور مشاہدات تحریر کرنے لگاباہر سے آنے والی چیخ وپکار کی آوازیں اس کے کان کے پردے پھاڑے دے رہی تھیں اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا خون جس نے سڑک کو بھر دیا تھا، دفتر کے احاطہ کی طرف بڑھ رہا تھاوہ بجلی کی سی سرعت سے دفترسے نکل گیافوجیوں کو ادھر ادھر پھیل جانے کا حکم دیا فوجیوں کی حالت دیکھ کر گھبراگیا دفتر کے احاطے میںخون کے فوارے پھوٹ رہے تھے وہ تیزی سے فون کی طرف دوڑا تاکہ کہیں سے مدد مانگ سکےمگر کہیںکوئی سننے والا اور مدد کو آنے والا نہیں تھااسے محسوس ہوا جیسے وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ گیا ہےجبکہ خون اس کے دفتر کو چاروںطرف سے گھیرے میں لے رہا تھایہاں تک کہ خون نے اس کو نگل لیا

ابو فہد ندوی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں
  • چالیسواں دن
  • باتیں کریں 
  • صنف لاغر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ابو فہد ندوی

اگلی پوسٹ
بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل
پچھلی پوسٹ
بہت سردی ہے

متعلقہ پوسٹس

سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

ستمبر 23, 2025

توبۃ النصوح – فصل سوم

اکتوبر 28, 2020

بیگو

جنوری 24, 2020

اب عشق میں ہوں جان بَلَب

نومبر 4, 2025

ہم نے پایا گمان سے بڑھ کر

مئی 31, 2024

زمینی فیصلوں کو آسمانوں میں نہیں کرتے

جون 8, 2020

جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا

مارچ 19, 2022

غم کی کِس شکل میں

نومبر 11, 2025

صرف ایک آواز

مئی 10, 2019

08مارچ : عالمی یوم ِ خواتین!

مارچ 6, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنون لطیفہ

جنوری 2, 2020

ریشم کا کیڑا

مئی 19, 2020

جذبات

فروری 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں