خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسڑک – جو خون اگلتی ہے
آپکا اردو باباابو فہداردو تحاریراردو تراجم

سڑک – جو خون اگلتی ہے

از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022
از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022 0 تبصرے 120 مناظر
121

فوجی افسرنے جب پیغام پڑھا توحیرتوںکے سمندر میں غرق ہوگیا۔ پیغام اور پیغام بر کو تشویش زدہ نظروں سے دیکھا۔”یہ آدمی توبالکل تازہ دم ہے ، نہ لباس پر کچھ غبار اور نہ ہی جسم پر تکان کے کچھ آثار“اس نے پیغام بر کوایک بار پھر سر سے پاؤں تک دیکھا۔
اس کے من میں ہر پل بڑھتی ہوئی حیرتیں شکوک وشبہات میں بدلنے لگیں” سڑک خون اگل رہی ہے“ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا !!۔ یقینا یہ آدمی پاگل ہے۔ اس نے دھیرے سے بیل بجائی اور ہمیشہ سے دروازے پر کھڑا ہوا فوجی اندر داخل ہوا۔
”اسے یہاں سے لے جاﺅ“
اس نے رسیور اٹھایااور ذہنی امراض کے اسپتال کا نمبر ڈائل کیاپیغام برکچھ بھی سمجھے بغیرفوجی کے ساتھ چل دیا ”سڑک خون اگل رہی ہے“ وہ زیر لب مسکرایاپھر یکا یک اس پر ہنسی کا دورہ پڑگیا ”پاگل“
”کیا ہوا سر!؟؟“ دروازے پرہمیشہ سے کھڑا ہوافوجی تیزی سے اس کی طرف لپکا۔
” اپنی پشت پردروازہ بند کردو۔“
پھروہ استراحت کے لئے چلا گیا مجنونانہ پیغام کو بھلانے کی کوشش کی۔ رفتہ رفتہ اس کے حواس بحال ہونے لگے پھر اچانک فو ن بج اٹھا اور تادیر بجتا رہااس نے بے دلی کے ساتھ رسیور اٹھایا۔ دوسری طرف سے بولنے والا جلدی جلدی بول رہا تھا اور خون اگلنے والی سڑک سے متعلق اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ ”کیا وہ پاگل بھاگ گیا؟“ اس کا ذہن فوری طور پر بے وقوف سے پیغام بر کی طرف گیا اس نے ایک بار پھر بیل بجائی۔
”وہ آدمی کہاں ہے جس کو تو یہاں سے لے گیا تھا؟“ فوجی کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے سوال کیا۔
”وہ نظر بند ہے “
اس کی حیرتوں کی ہانڈی میں جیسے ابال آگیاہاتھ کے اشارے سے اس کو جانے کے لیے کہا۔ اور پھر سے فون پر بات کرنے لگا۔ دوسری طرف سے بولنے والا کوئی ذی حیثیت آدمی تھا۔ ”یہ غیر ممکن ہے کہ دوسری طرف سے بات کرنے والا وہی پاگل ہو“اس نے رسیور رکھ دیا اور خود سے جائے واردات کا معائینہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اس مجنونانہ پیغام کی بچشم خود تصدیق کرسکے۔وہ فورا ًہی نکل کھڑا ہوا ہمیشہ سے دروازے پر کھڑے ہوئے فوجی نے سیلیوٹ مارا۔ اس کو حکم دیا کہ جلدی سے فوجیوں گاڑی میں بھراجائےفوجی نے ایک بار پھر سیلیوٹ مارااور حکم کی بجا آوری کے لئے دوڑپڑا۔
جب وہ بیرونی دروازے پر پہونچا تو اس نے دیکھا کہ گاڑی فوجیوں کو لئے تیار کھڑی ہے۔فوجی گاڑی کے ڈرائیور نے اسے دیکھتے ہی سیلیوٹ مارا۔ مگر وہ اس سے اور اس کے سیلیوٹ سے بالکل بے پرواہ تھا۔ اسے تو خون اگلنے والی سڑک پر جانے کی جلدی تھی۔ ڈرائیو ر چلنے کے لئے تیار تھا اس نے اپنی پیٹھ پیچھے سے کھسر پسرکی آوازیںسنیں ۔گاڑی میں بیٹھے ہوئے فوجیوں کو زور سے ڈانٹاچہ مے گویاں یک لخت بند ہوگئیں
گاڑی چلنے لگی تھوڑی دیر بعدگاڑی کی رفتار کم ہوگئی اور پھر مسافرگاڑیوں کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کے درمیان گاڑی بالکل رک گئی فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ دوڑکر جائیں اور ٹریفک جام ہونے کی وجہ دریافت کریں حکم کی بجا آوری کے لیے کئی فوجیوں نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی اس اثنا میں کئی بوجھل لمحے گزر گئے۔ وہ خیالوں میں کھوگیا۔ شاندار آفس، آرام دہ کرسی، تازہ ہوا اور دروازے پر مستعد کھڑا ہوا فوجی وہ حکم کرتا ہے اور وہ الف لیلہ کے جن کی طرح چشم زدن میں حکم بجالاتا ہے اس کے ذہن کے پردے پر مختلف سین گردش کرنے لگے واپس لوٹنے والے فوجی نے سیلیوٹ مارا اور زمین پر اس کے جوتے کی رگڑ کی آوازسے اس کا خیال ٹوٹ گیا۔
” ٹریفک جام کی کیا وجہ ہے؟“
فوجی پر عجیب وغریب حالت طاری تھی وہ کچھ بھی نہیں سن سکا اس نے پھر پوچھا فوجی نے سراٹھایا مگر اس سے کوئی جواب نہ بن پایااور بدستور گم صم کھڑا اپنے پیروں تلے زمین کو تکتا رہا”کیا کہہ رہے ہو؟“اس باروہ اس کے بالکل قریب آکر چیخا۔
”بولتے کیوں نہیں؟“
فوجی اور بھی زیادہ حیرت زدہ ہوگیا اور اس کے منہ سے مردہ الفاظ نکلے۔
”سڑک خون اگل رہی ہے۔“
تمہاری مت ماری گئی ہے۔ لعنت ہے تمہاری عقلوں پر ایسی کون سی سڑک ہے جو خون اگل رہی ہے۔ کیا تم بالکل بدھو ہو؟!!
اس کی لعن طعن نے فوجی کومزید حیرت زدہ کردیامگر وہ بدستور خاموش رہاگم صم اور بے حس وحرکت اس کو جتنی بھی صلواتیں یاد تھیں،اپنے سامنے کھڑے گم صم فوجی کے سرپر اگل دیں۔
”جو کچھ تونے وہاں دیکھا ، تفصیل سے بیان کر“
فوجی کی ابلتی ہوئی بے حس وحرکت آنکھیں فضا میں معلق تھیں اسے لگا کہ یہ مرچکا ہے
گاڑی وہیں چھوڑکرآگے بڑھنے لگاتا کہ پتہ لگا سکے کہ ٹریفک کس وجہ سے جام ہے راہ میں اپنے فوجیوںکو واپس لوٹتے ہوئے پایاوہ سب حیرتوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھےاس کا شک کافور ہوگیااس نے تقریبا چیختے ہوئے سب کو رکنے کے لیے کہاگاڑی میں موجود دیگر فوجیوں کو بھی جمع کیاان سب کو جلد سے جلد پوری طرح تیار رہنے کاحکم دیاتمام فوجیوں نے اسلحے نکال لئے اورچہرے کی طرف شیشے لگے ہوئے ہیلمیٹ پہن لئے
مسافر گاڑیوں میں بیٹھے لوگ ، جنگی لباس پہنے ہوئے فوجیوں کو تحیر کے ساتھ دیکھ رہے تھے اوران کے لیے احسان مندی کے جذبات سے لبریز کلمات کہہ رہے تھےیہاں تک کہ وہ گاڑیوںکی سب سے آگے والی قطارتک پہونچ گیافوجیوں کے ایک دستہ نے راستہ جام کر رکھا تھا،انہوں نے اپنے جسموں سے پیچھے رکی ہوئی گاڑیوں اور سامنے موج مارتی ہوئی سڑک کے درمیان قدرے فاصلہ بنا رکھا تھاوہ اونچی آواز کے ساتھ چلا رہا تھااورفوجیوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہواآگے بڑھ رہا تھایہاں تک کہ سب سے آگے نکل آیاچند ثانیے تک ادھر ادھر غور سے دیکھتا رہا اور پھرزورسے چلایا” اے شیطانو !یہ سب کیا ہورہا ہے؟!!“سڑک پر خون بہہ رہا تھا”سڑک خون اگل رہی ہے“خون کے رنگ نے اس کے اندرون میں عجیب وغریب احساس جگا دیاایک انجانا خوف اس کے پورے وجود پر طاری ہوگیااسباق ، ہدایات اور احکام، جن کا تجربہ اس نے اپنے کام کے دوران کیا تھا سب کے مختلف رنگ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوگئےپھر وہ پوری طاقت سے چلایافوجیوں کی طرف سے اس بار بھی مکمل سکوت تھااس نے الرٹ ہوجانے کا حکم دیافوجی خون کے دریا میں جو ان کو چاروں طرف سے گھیر ے میں لے رہا تھا بے خطر کود پڑےان کے ہاتھ سرعت اور مہارت کے ساتھ کام کررہے تھےمگر خون اور زیادہ ابلنے لگافوجیوںکو لگا کہ وہ خون میں پوری طرح لت پت ہیں اور اس میں ڈوبے جار ہے ہیںجیسے وہ زخمی ہوں اور خون ان سے بہہ رہا ہو
آفیسرخون اگلتی ہوئی سڑک چھوڑ کر بھاگ کھڑاہوا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف دوڑاڈرائیور کودفترچلنے کی ہدایت کی ہمیشہ سے دروازے پر کھڑے ہوئے فوجی نے سیلیوٹ مارااس کو حکم دیاکہ تمام فوجی گاڑی میں بیٹھ جائیںدروازے پر ہمیشہ سے کھڑے رہنے والا فوجی حکم بجالانے کے لیے دوڑ پڑا
دفتر میںاپنی کرسی پر بیٹھااور مشاہدات تحریر کرنے لگاباہر سے آنے والی چیخ وپکار کی آوازیں اس کے کان کے پردے پھاڑے دے رہی تھیں اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا خون جس نے سڑک کو بھر دیا تھا، دفتر کے احاطہ کی طرف بڑھ رہا تھاوہ بجلی کی سی سرعت سے دفترسے نکل گیافوجیوں کو ادھر ادھر پھیل جانے کا حکم دیا فوجیوں کی حالت دیکھ کر گھبراگیا دفتر کے احاطے میںخون کے فوارے پھوٹ رہے تھے وہ تیزی سے فون کی طرف دوڑا تاکہ کہیں سے مدد مانگ سکےمگر کہیںکوئی سننے والا اور مدد کو آنے والا نہیں تھااسے محسوس ہوا جیسے وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ گیا ہےجبکہ خون اس کے دفتر کو چاروںطرف سے گھیرے میں لے رہا تھایہاں تک کہ خون نے اس کو نگل لیا

ابو فہد ندوی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ
  • انقلاب دل سے اُٹھتا ہے
  • اسکریبل آن لائن اجنبی کے ساتھ
  • جینے کا کوئی ہم کو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ابو فہد ندوی

اگلی پوسٹ
بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل
پچھلی پوسٹ
بہت سردی ہے

متعلقہ پوسٹس

کھمبیاں جمع چھچھورے اور میڈیا انفلوئنسرز

نومبر 16, 2025

اداس روح رہی خاک دان کے اندر

جنوری 11, 2020

ملکی سالمیت اور سیاسی انا

اپریل 3, 2022

باجی

نومبر 7, 2020

تنہائیِ شب

دسمبر 25, 2025

اخبار میں ضرورت ہے

جنوری 25, 2020

تاریخ کیا کہتی ہے

جولائی 10, 2020

جج کرنا مناسب نہیں

مئی 14, 2025

کہاں پہ بولنا ہے

جولائی 3, 2025

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس پار دیکھنا کبھی اس پار...

اکتوبر 12, 2025

ٹاور آف سائیلنس

جنوری 20, 2021

دفن

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں