خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغلط فہمی کا نتیجہ
آپکا اردو باباابصار فاطمہاردو افسانےاردو تحاریر

غلط فہمی کا نتیجہ

از ابصار فاطمہ اپریل 1, 2023
از ابصار فاطمہ اپریل 1, 2023 0 تبصرے 70 مناظر
71

بسمہ کو باسط کا اتنا مہنگے کپڑوں کی فرمائش کرنا بھی عجیب لگا مگر بڑے بھیا کا انداز بھی بہت تضحیک آمیز تھا۔ ہونے والے بہنوئی کے لیئے ابھی سے یہ خیالات ہیں تو بعد میں کیا ہوگا۔
حسب عادت وہ بس سوچ کے رہ گئی۔
"تم فکر نا کرو بڑے بھیا بسمہ کے کپڑے آنے دو اگر ٹکر کا سوٹ نا آیا تو ہم بھی واپس کروا دیں گےکہ بسمہ کو پسند نہیں آیا۔ ساتھ ہی کچھ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیئےیہ بھی کہہ دیں گے کہ بسمہ تو رورو کر آدھی ہوگئی ہے کہ دوستوں کو دکھاوں گی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔”
اسماء آپی اپنے بے تکے مشورے سے خود ہی محظوظ ہوئیں۔
"ائیے نئیں واپس بھجوانے کی ضرورت نئیں سسرال کا معاملہ ہے اس کی۔ بس ڈھکی چھپی دو ایک کہہ لینا” دادی نے اپنے حساب سے کافی مناسب مشورہ دیا۔
بسمہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے ایک نیا رشتہ بننے جارہا ہے اور وہ بھی بدگمانی اور دروغ گوئی سے؟ اسے یونہی خیال آیا کہ یہی وجہ تو نہیں کہ امی ابو کی جب کوئی لڑائی یا نوک جھونک ہوتی ہے تو دونوں کو شادی کے موقعے پہ دیئے گئے تحائف اور جہیز کا سامان یاد آجاتا ہے جس سے وہ آج تک مطمئین نہیں ہوپائے۔ ابو کے بقول امی والوں کی طرف سے جو نکاح کی شیروانی آئی تھی وہ اتنے سستے معیارکی تھی کہ ایک دفعہ ہی پہننے میں سلائی خراب ہوگئی۔ جبکہ امی کا جوابی طعنہ یہ ہوتاکہ آپ کے گھر سے آنے والا زیور بھی ایک مہینے میں کالا پڑ گیا سونے کا کہہ کر لوہے کا زیور بھیج دیا تھا۔ اور اس کے بعد وقت نامعلوم تک جو بحث شروع ہوتی تو انگوٹھی، چپل، پاندان، دیگچی، بیڈ، پہناونی کے جوڑے، سرمہ دانی، لوٹا، آرسی مصحف کا آئینہ غرض دونوں طرف سے دی گئی ایک ایک چیز کی مدح سرائی ہوتی۔ جب تک کوئی اولاد کچھ ایسا نا کردیتی کہ دونوں کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجائے۔ بسمہ کو لگ رہا تھا یہی سب کچھ اس کی زندگی میں بھی ہونے والا ہے نازک سا رشتہ حقیر چیزوں کی نظر ہوجائے گا۔ اس سے تو بہتر یہ لین دین ہو ہی نا۔
عجیب سی کیفیت تھی اس کی کبھی شدید خوشگوار احساس ہوتا کہ شاید اب وہ تمام رومانوی خیالات حقیقت ہونے والے ہیں اور کبھی یہ مسائل دیکھ کے پریشان ہوجاتی۔ وہ سوچتی کپڑوں کے لیئے اتنا سطحی رویہ دکھانے والا اچھا ہوسکتا ہے؟ پھر سوچتی اگر بہنوں نے یہ سب کچھ کہہ دیا جس کا وہ پلان بنا کر بیٹھی ہیں تو اس کا بھی توایسا ہی تاثر جائے گا۔کیا پتا باسط کے بارے میں بھی یہ سب کچھ غلط فہمی کا نتیجہ ہو۔ آخر بڑے بھیا بھی تو پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں کنجوسی کی حد تک احتیاط پسند ہیں۔
البتہ اسد کافی متاثر تھا باسط بھائی کی بائیک زبردست ہے، باسط بھائی کی پرفیوم کی چوائس کیااعلی ہے، باسط بھائی کلاسی کلر چوز کرتے ہیں۔
منگنی کا سامان آیاتوبسمہ کو تو سب کچھ ٹھیک ہی لگا مگر اسماء آپی اور بشرہ آپی نے ہر ہر چیز کا خوب تنقیدی جائزہ لیا۔ اسماء آپی کا کہنا تھا کہ اول تو منگنی پہ شرارے پہننا آوٹ ڈیٹڈ ہوگیا ہے اور ٹی پنک کلر بہت زیادہ پٹ گیا ہے ہر منگنی پہ دلہن یہی پہنے ہوتی ہے۔ بشرہ آپی کو جیولری پسند نہیں آئی ان کا کہنا تھا کہ جیولری کافی ہلکی ہے۔ اور یہ سب باتیں بعد میں آپس میں نہیں ہوئی بلکہ باسط کی بڑی بہن اور بڑی بھابھی جو سامان لے کر آئیں تھیں ان کے سامنے یہ سب بیان کیا گیا۔ بھابھی تو خاموشی سے سنتی رہیں جبکہ بہن کے چہرے پہ واضح ناگواری تھی۔ آخر جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو انہوں نے جتا دیا۔ کہنے کو ان کی چہرے پہ مسکراہٹ تھی مگر اس کے باوجود لہجے کا طنز واضح تھا
"چلیں شادی پہ ہم محلےکے درزی کو یہ سب تفصیل بتا کے اسی سے سلوا لیں گے۔ برانڈڈ برائیڈل سوٹ کا کیا فائدہ جب پسند ہی نا آئے۔ خیر ہر ایک کو برانڈز اور کلاسی کپڑوں کا اتنا سینس ہوتا نہیں بس جو مڈل کلاس شادیوں میں نظر آئے اسی کو ان سمجھتے ہیں۔
"اسماء دیکھو کچن میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسد کو بھیج کے منگوا لو اتنی دور سے آئے ہیں یہ لوگ کوئی کمی نا ہو”
اسماء آپی نے نے جواب دینے کے لیئےمنہ کھولا ہی تھا مگر اس وقت دادی نے بروقت بات بدل دی۔ شاید ان کے خیال میں اتنا کہنا سننا کافی تھا۔
امی کو بھی شاید اندازہ ہوا کہ بات اس سے زیادہ سنجیدہ لے لی گئی ہے جتنا سوچا تھا۔
"بس بیٹا بچیاں تو انہی سب میں خوش ہوتی ہیں آپکو تو پتا ہے منگنی شادی پہ ہی بچیاں ارمان پورے کرتی ہیں اپنے پھر کہاں موقع ملتا ہے۔”
"جی آنٹی صحیح کہا مگر اسی موقع پر تو اچھی تربیت کا پتا چلتا ہے میری شادی پہ میری سسرال سے اتنا سستا سا سوٹ آگیا تھا کہ بس کیا بتاوں میں پورا ایک ہفتہ روئی مگر مجال ہے جو ہماری امی نے ایک بھی بات میرے سسرال والوں سے کہنے دی ہو۔ اب جس گھر میں جاکر رہنا ہے اس کے بارے میں بولتے ہوئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے نا۔ سسرال میں ایسے ہی تو نہیں میری سمجھداری کی مثالیں دی جاتیں آپ خود بتائیں میں نے پہلے ہی اپنا امیج خراب کر لیا ہوتا تو یہ مقام مل سکتا تھا؟”
بسمہ بچاری ہکا بکا بیٹھی تھی کہ کچھ نا بول کر بھی اتنی تعریفیں ہوگئیں کچھ بول دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔
اگلے دن بسمہ نے فون کر کے فائزہ کو بلوا لیا۔ایک تو منگنی کا سامان دکھانا تھا اور دوسرا یہ بھی کہ دماغ میں جو کچھ چل رہا تھا وہ یہاں گھر پہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی۔ ایسے موقعے پہ صرف فائزہ ہی اس کی بات سمجھ سکتی تھی۔
فائزہ آئی تو اسے سامان نکال کے دیا اور خود کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کچن میں آگئی۔ کچن میں جاتے ہوئے دادی پہ نظر پڑی تو دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ ان کا موڈ خراب ہے پاندان کی چھوٹی چھوٹی کٹوریاں زور زور سے پٹخ رہی تھیں۔ بسمہ چیزیں ٹرے میں رکھ کر نکلی ہی تھی کہ دادی نے آواز دے لی۔
"بی بی یہ ڈشیں بھر بھر کے کہاں لے جائی جارہی ہیں”
بسمہ کو کبھی کبھی دادی کا طرز تخاطب عجیب اور ہتک آمیز لگتا تھا وہ سیدھے سادھے کام کی پوچھ تاچھ ایسے کرتی تھیں جیسے کوئی خطرناک سازش کا کھوج لگا رہی ہوں۔ اور سازش بھی صرف خطرناک نا ہو بلکہ غیر اخلاقی بھی ہو۔
"دادی فائزہ آئی ہے میری چیزیں دیکھنے” اس نے حتی الامکان حد تک اپنے لہجے کو نارمل رکھا۔ اول تو ویسے بھی وہ منہ در منہ بحث کی عادی نہیں تھی۔ اور پھر فائزہ کی موجودگی میں وہ کوئی ذرا سی بھی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ یہ پتا ہونے کے باوجود کہ فائزہ اس کے سب گھر والوں کو اچھی طرح جانتی ہے کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ فائزہ کے سامنے اس کے گھر کا امیج بھی اتنا ہی شائستہ لگے جتنا فائزہ کے اپنے گھر کا ماحول ہے۔ مگر اس کی کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا دادی کی آواز مزید تیز ہوگئی۔
"دیکھو بی بی یہ دوستیاں وغیرہ یہیں تک رکھنا سسرال والے یہ چونچلے نہیں برداشت کرتے۔اور اس لڑکی سے اپنے دوستانے کا تو بلکل ذکر نہ کرنا۔ صحبت سے ہی انسان کے کردار کا پتا چلتا ہے اور یہ لڑکی۔۔۔۔۔ توبہ توبہ لڑکیوں والے کوئی لچھن ہی نہیں ہیں۔ اپنی سسرال میں تو جاکر جو گل کھلائے گی سو کھلائے گی تمہاری سسرال والوں کو یہ غلط فہمی نا ہوجائے کہ تم بھی اسی کی طرح دیدہ ہوائی ہو۔”
"دادی ایسی بات نہیں ہے فائزہ بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہے اور پلیز آپ آہستہ تو بولیں وہ مہمان ہے اس وقت”
"ہونہہ اب ان کل کی چوہیوں کی بھی مہمان کے نام پہ عزت کرنی ہوگی۔ دیکھو بسمہ ہر ایک چلتے پھرتے کو یہ چیزیں نہیں دکھاتے۔ نظر بد تو سلطنتیں اجاڑ دیتی ہے تم کیا جانو۔”
اب کے بسمہ کو خاموشی سے آگے بڑھ جانے میں عافیت لگی اسے پتہ تھا بحث کا فائدہ نہیں مزید بدمزگی ہی ہوگی۔
"ارے دیکھو ذرا آج کل کی نسل کو عقل کی بات کرو تو بھاگ جاتے ہیں”
بسمہ کمرے میں آئی تو فائزہ ہنس رہی تھی۔
"کیا ہوا جن چڑھ گیا کیا اکیلی بیٹھی ہنس رہی ہو” بسمہ کو اندازہ تو ہوگیا کہ فائزہ نے سب سن لیا ہےمگر مذاق میں بات ٹالنے کی کوشش کی۔
"یار تیری دادی بڑا زبردست کریکٹر ہیں”
” تجھے برا نہیں لگا”
” برا ماننے کی کیا بات ہے جب مجھے ان کی عادت کا پتا ہے۔ اور میری دوست تو ہے تیری دادی تھوڑی ہیں جو ان کی بات پہ ناراض ہوجاوں۔ ہاں اگر تیرے میرے بارے میں یہی خیالات ہیں تو آئیندہ نہیں آوں گی تجھ سے ملنے”
"اف نہیں یار یہ بات نہیں ہے مگر یار کبھی کبھی مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے وہ تیرے سامنے تجھے کچھ بھی بول دیتی ہیں”
"یہ تو نے دادی پہ تھیسس لکھنا ہے کیا؟ چھوڑ بس جس وجہ سے بلایا ہے وہ بات کر”
بسمہ نے سر ہلایا اور پہلے اٹھ کر جلدی سے کمرے دروازہ بند کر کے آئی۔
"یار مجھے دونوں طرف کے لوگوں کے رویئے سمجھ نہیں آرہے”
بسمہ کے لہجے میں بیچارگی تھی۔
"کیا مطلب کس قسم کے رویئے؟”
"دیکھ کوئی نیا بندہ ملنا جلنا شروع کرتا ہے جیسے نئے پڑوسی آئیں یا کوئی اور تو ہم اس سے بہت تکلف سے ملتے ہیں کوئی بات بری لگے تو بھی خاموش رہتے ہیں کوئی کم قیمت تحفہ بھی لیا دیا جاتا ہے تو بہت زیادہ شکرگزاری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یار یہاں یہ حال ہے جہاں کوئی کمی نہیں بھی ہے وہاں بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک دوسرے کی کمیاں نکالی جارہی ہیں ایک دوسرے کو سنایا جارہا ہے۔ تحفے حق سمجھ کے وصول کیے جارہے ہیں اور ان میں بھی سو سو خرابیاں۔ اب دیکھ یہ جو سامان ہے اس میں کیا برائی ہے؟ آپی والوں نے اتنی برائی کی باسط کے گھر والوں کے سامنے جواب میں وہ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر مجھے سنا کے گئیں۔ جب دونوں طرف لوگوں کو ایک دوسرے پسند نہیں آئے تو رشتہ کیوں جوڑ رہے ہیں۔ میں نے کل رات ان لوگوں کے جانے کے بعداسماء آپی سے کہا بھی کہ آپی سب چیزیں ٹھیک تھیں تو برائی کرنے کی کیا ضرورت تھی تو کہنے لگیں تم ابھی نہیں سمجھو گی یہی وقت ہوتا ہے دوسروں پہ یہ ثابت کرنے کا کہ ہم کوئی گرے پڑے نہیں ابھی سے سب خاموشی سے سہتی رہو گی تو بعد میں بھگتو گی۔ یار اتنی کامن سینس تو مجھ میں ہے کہ یہ سب جوکچھ ہورہا ہے یہی بعد میں زیادہ پروبلم پیدا کرے گا۔ یار ان لوگوں کی تو اسٹریٹجی ہی بدل گئی ہے کہاں تو کیا دادی کیا امی ہر ہر بات پہ سسرال کی ماننے کے سبق دیتی تھیں کہ یہ سیکھ لو ورنہ سسرال میں جوتے پڑیں گے وہ مت کرو سسرال میں جوتے پڑیں گے ابھی سنا نا کہ دوستی تک چھوڑ دو۔ یعنی روز کے کام جو عموما گھر کی عورتوں کے آپس میں مل جل کر کرنے سے آرام سے ہوجاتے ہیں وہ تو میں گدھے کی طرح کرنا سیکھوں مگر ان کے منہ پہ ان کی برائیاں بھی کروں۔ بھائی الگ ناراض ہیں کہ باسط کی شاپنگ پہ بہت خرچا ہوگیا۔ جو بندہ ابھی دوسرے کی دلائی چیزوں پہ اس طرح اترا رہا ہے بعد میں کیا کرے گا۔ ”
"بس بس بس محترمہ بریک لے لے تھوڑا۔ ایک ایک کر کے ڈسکس کرتے ہیں آج کیا اگلے پچھلے سارے رکارڈ توڑنے ہیں باتوں کے”
"بھول جاوں گی نا کوئی نا کوئی بات یہ سب باتیں مجھے اتنا ٹینس کر رہی ہیں رات رات بھر جاگ رہی ہوں۔ اور تیرے سوا کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اور بار بار تجھ سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا۔”
” ہمم دیا کچھ تو گڑبڑ ہے۔”
"ابے ڈائیلاگ نا مار حل بتا”
"دیکھ یار پہلی بات تو یہ پتا چلے کے تمہارے یہ جو باسط صاحب ہیں یہ موصوف کس ڈیزائن کے بندے ہیں۔ کیونکہ رہنا تمہیں بھلے سسرال کے ساتھ ہے مگرشوہر کا رویہ اہم ہوتا ہے۔ ”
"لو جی یہ کیا نئی بات بتا دی یہی تو آپی اور امی والے اتنے دن سے سمجھا رہے ہیں کہ بس باسط کو قابو میں کرلو تو سمجھ لو سب مٹھی میں”
"عقل کی اندھی شوہر کو قابو کرنا اور شوہر کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنا دو الگ باتیں ہیں”
"مجھے نہیں سمجھ آرہا اتنا گنجلک سا ہے سب کچھ”
بسمہ بیچارگی سے جھنجھلا گئی۔
"بیٹا جی اول تو یہ وہ دریا ہے جس میں تیرے گھر والے تیراکی سکھائے بغیردھکا دے رہے ہیں تیرنا تجھے خود سیکھنا ہے اور کچھ چیزیں عمر اور تجربے کے ساتھ ہی سمجھ آتی ہیں جس کا تجھے موقع نہیں مل رہا 16 سال شادی کی عمر ہوتی ہے کوئی۔”
” تو کیا کروں گھر سے بھاگ جاوں کیا؟ کرنی تو ہے نا شادی”
"دیکھ ایسے میں امی زیادہ صحیح مشورہ دے سکتی ہیں اگر تو کسی بہانے ہمارے گھر آسکے کیوں کہ یہاں تو امی کی تجھ سے اکیلے بات ہو نہیں سکتی۔”
"ہونہہ اس کا سوچنا پڑے گا اب تو پرسوں منگنی ہے ہی۔ اس کے بعد ہی کسی دن آنے کی کوشش کرسکتی ہوں وہ بھی موقع ملا تو۔ فائزہ یار پتا نہیں کیا ہوگا میرا”

 

ابصار فاطمہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنم ورودھی
  • شمالی علاقہ جات کی سیاحت
  • خودی کے سمندر میں پتھرا گئی ہوں
  • ان پرندوں کے گھر نہیں رہتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ابصار فاطمہ

اگلی پوسٹ
گل بانو کی کہانی
پچھلی پوسٹ
رومانوی خیالات کی دنیا

متعلقہ پوسٹس

فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ

مئی 28, 2020

چغد

فروری 11, 2020

استخارہ

مارچ 15, 2026

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

بڑی مشکل تھی آسانی سے پہلے

مارچ 2, 2022

اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے

اکتوبر 24, 2020

سوتے رہنا صرف بہانہ ہوتا ہے

نومبر 14, 2021

ہمارے واسطے عالم اضافی !

مارچ 23, 2025

تُو اپنی موج میں رہ، پانیوں کو سر کر دے

جون 21, 2020

رو رہا ہوں میں

جولائی 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص...

مارچ 19, 2022

رونا رُلانا

جنوری 25, 2020

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں