100
خودی کے سمندر میں پتھرا گئی ہوں
چلی تھی کہاں سے کہاں آ گئی ہوں
طلب تیری لانی کہاں سے کہاں تک
ستاروں سے آگے جہاں پا گئی ہوں
جنوں نے ہیں کھولے عجب راز مجھ پر
،میں رازِ فنا اور بقا پا گئی ہوں ،
ہے تیری طلب اور نہ اپنا پتہ ہی
بھنور میں خودی کے میں اب آ گئی ہوں
نہیں تاب مجھ میں نہ سہہ پاوں گی میں
زمانے کی گردش سے گبھرا گئی ہوں
کہ پہنچا ہے پیکر مقامِ ابد تک
جہاں سے چلی تھی وہیں آ گئی ہوں
نسیم شاہانہ
