خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےچغد
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

چغد

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 11, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 11, 2020 0 تبصرے 640 مناظر
641

چغد

لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہورہا تھا۔ پر کاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا۔’’ سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ جاتا ہے، اس میں آپ اپنی شاعری رکھ لیجیے یا اپنی ذہانت اور ذکاوت بھر دیجیے۔۔۔۔۔۔ مجھے حیرت ہے۔۔۔ تم سب تجربہ کار ہو۔
اوسط آدمی کے مقابلے میں زیادہ سمجھ دار ہو۔ جو حقیقت ہے، تمہاری آنکھوں سے اوجھل بھی نہیں۔ پھر یہ کیا حماقت ہے کہ تم برابر اس بات پر زور دیے جا رہے ہو کہ عورت کو راغب کرنے کے لیے نرم و نازک شاعری،حسین و جمیل شکل اور خوش وضع لباس، عطر، لونڈر اور جانے کس کس خرافات کی ضرورت ہے اور میری سمجھ سے یہ چیز تو بالکل بالاتر ہے کہ عورت سے عشق لڑانے سے پہلے تمام پہلو سوچ کر ایک اسکیم بنانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ چودھری نے جواب دیا۔’’ ہر کام کرنے سے پہلے آدمی کو سوچنا پڑتا ہے۔‘‘ پرکاش نے فوراً ہی کہا۔ ’’مانتا ہوں۔ لیکن یہ عشق لڑانا میرے نزدیک بالکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ ایک۔۔۔۔۔۔ بھئی تم کیوں غور نہیں کرتے۔ کہانی لکھنا ایک کام ہے۔ اسے شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے لیکن عشق کو آپ کام کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ ایک۔۔۔۔۔۔ یہ ایک۔۔۔۔۔۔ یہ ایک۔۔۔ ۔۔۔ میرا مطلب ہے۔ عشق مکان بنانا نہیں جو آپ کو پہلے نقشہ بنوانا پڑے۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکی یا عورت اچانک آپ کے سامنے آتی ہے۔ آپ کے دل میں کچھ گڑ بڑ سی ہوتی ہے۔ پھر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ ساتھ لیٹی ہو۔ اسے آپ کام کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ایک۔۔۔۔۔۔ یہ ایک حیوانی طلب ہے جسے پورا کرنے کے لیے حیوانی طریقے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔ جب ایک کتا کتیا سے عشق لڑانا چاہتا ہے تو وہ بیٹھ کر اسکیم تیار نہیں کرتا۔ اسی طرح سانڈ جب بُو سُونگھ کر گائے کے پاس جاتا ہے تو اسے بدن پر عطر لگانا نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔ بنیادی طور پر ہم سب حیوان ہیں۔ اس لیے عشق و محبت میں جو دنیا کی سب سے پرانی طلب ہے، انسانیت کا زیادہ دخل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ میں نے کہا۔’’ تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ شعر و شاعری، مصوری، صنم تراشی یہ سب فنون لطیفہ محض بے کار ہیں؟‘‘ پرکاش نے سگریٹ سلگایا اوراپنا جوش بقدر کفایت استعمال کرتے ہوئے کہا۔’’ محض بے کار نہیں۔۔۔۔۔۔ میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتے ہو، تمہارا مطلب یہ تھا کہ فنون لطیفہ کے وجود کا باعث عورت ہے، پھر یہ بے کار کیسے ہُوئے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کے وجود کا باعث خود عورت نہیں ہے، بلکہ مرد کی عورت کے متعلق حد سے بڑھی ہُوئی خوش فہمی ہے۔ مرد جب عورت کے متعلق سوچتا ہے تو اور سب کچھ بھول جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ عورت کو عورت نہ سمجھے۔۔۔۔۔۔ عورت کو محض عورت سمجھنے سے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے! چنانچہ وہ چاہتا ہے اسے خوبصورت سے خوبصورت روپ میں دیکھے۔ یورپی ممالک میں جہاں عورتیں فیشن کی دلدادہ ہیں، ان سے جا کر پوچھو کہ ان کے بالوں، ان کے کپڑوں، ان کے جوتوں کے نت نئے فیشن کون ایجاد کرتا ہے۔‘‘ چودھری نے اپنے مخصوص بے تکلفانہ انداز میں پرکاش کے کاندھے پر ہولے سے طمانچہ مارا۔ ’’ تم بہک ہوگئے ہو یار۔۔۔۔۔۔ جوتوں کے ڈیزائن کون بناتا ہے، سانڈ گائے کے پاس جاتا ہے تو اسے لونڈر لگانا نہیں پڑتا۔ یہاں باتیں ہورہی تھیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے وہی رومان کامیاب ہوتے ہیں جو شریفانہ خطوط پر شروع ہوں۔‘‘ پرکاش کے ہونٹوں کے کونے طنز سے سکڑ گئے۔’’ چودھری صاحب قبلہ! آپ بالکل بکواس کرتے ہیں۔ شرافت کو رکھیے آپ اپنے سگریٹ کے ڈبے میں، اور ایمان سے کہیے وہ لونڈیا جس کے لیے آپ پورا ایک برس رومالوں کو بہترین لونڈر لگا کر اسکیمیں بناتے رہے، کیا آپ کو مل گئی تھی؟‘‘ چودھری صاحب نے کسی قدر کھسیانہ ہو کر جواب دیا۔’’نہیں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’وہ۔۔۔۔۔۔ وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی۔‘‘ ’’کس سے۔۔۔۔۔۔ کس اُلو کے پٹھے سے۔۔۔۔۔۔ ایک پھیری والے بزار سے جس کو نہ تو غالب کے شعر یاد تھے نہ کرشن چندر کے افسانے۔ جو آپ کے مقابلے میں لونڈر لگے رومال سے نہیں بلکہ اپنے میلے تہمد سے ناک صاف کرتا تھا۔‘‘ پرکاش ہنسا۔’’چودھری صاحب قبلہ، مجھے یاد ہے آپ بڑی محبت سے اسے خط لکھا کرتے تھے۔
ان میں آسمان کے تمام تارے نوچ کر آپ نے چپکا دیے۔ چاند کی ساری چاندنی سمیٹ کر ان میں پھیلا دی مگر اس پھیری والے بزار نے آپ کی لونڈیا کو جس کی ذہنی رفعت کے آپ ہر وقت گیت گاتے تھے، جس کی نفاست پسند طبیعت پر آپ مرمٹے تھے، ایک آنکھ مار کر اپنے تھانوں کی گٹھڑی میں باندھا اور چلتا بنا۔۔۔۔۔۔ اس کا جواب ہے آپ کے پاس؟؟ چودھری منمنایا: ’’میرا خیال ہے جن خطوط پر میں چل رہا تھا، غلط تھے۔ اس کا نفسیاتی مطالعہ بھی جو میں نے کیا تھا درست ثابت نہ ہوا۔‘‘ پرکاش مسکرایا: ’’چودھری صاحب قبلہ! جن خطوط پر آپ چل رہے تھے، یقیناً غلط تھے۔ اس کا نفسیاتی مطالعہ بھی جو آپ نے کیا تھا، سو فیصد نا درست تھا اور جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے کہ آپ کو خط کشی اور نفسیاتی مطالعے کی زحمت اٹھانی ہی نہیں چاہیے تھی۔ نوٹ بک نکال کر اس میں لکھ لیجیے کہ سو میں سو مکھیاں شہد کی طرف بھاگی آئیں گی اور سو میں ننانوے لڑکیاں بھونڈے پن سے مائل ہوں گی۔‘‘ پرکاش کے لہجے میں ایک ایسا طنز تھا جس کا رخ چودھری کی طرح اتنا نہیں تھا جتنا خود پرکاش کی طرف تھا۔ چودھری نے سر کو جنبش دی اور کہا:’’ تمہارا فلسفہ میں کبھی نہیں سمجھ سکتا۔‘‘ آسان بات کو تم نے مشکل بنا دیا ہے۔ تم آرٹسٹ ہو اور نوٹ بک نکال کر یہ بھی لکھ لو کہ آرٹسٹ اوّل درجے کے بے وقوف ہوتے ہیں۔ مجھے بہت ترس آتا ہے ان پر کم بختوں کی بے وقوفی میں بھی خلوص ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مسئلے حل کردیں گے پر جب کسی عورت سے مڈبھیڑ ہوگی تو جناب ایسے چکر میں پھنس جائیں گے کہ ایک گز دُور کھڑی عورت تک پہنچنے کے لیے پشاور کا ٹکٹ لیں گے اور وہاں پہنچ کر سوچیں گے وہ عورت آنکھوں سے اوجھل کیسے ہوگئی۔چودھری صاحب قبلہ، نکالیے اپنی نوٹ بک اور یہ لکھ لیجیے کہ آپ اوّل درجے کے چغد ہیں۔‘‘ چودھری خاموش رہا اور مجھے ایک بار پھر محسوس ہوا کہ پرکاش، چودھری کو آئینہ بنا کر اس میں اپنی شکل دیکھ رہا ہے اور خود کو گالیاں دے رہا ہے۔ میں نے اسے کہا۔’’ پرکاش ایسا لگتا ہے چودھری کے بجائے تم اپنے آپ کو گالیاں دے رہے ہو۔‘‘ خلاف توقع اس نے جواب دیا۔’’ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو، اس لیے کہ میں بھی ایک آرٹسٹ ہوں، یعنی میں بھی۔ جب دو اور دو چاربنتے ہیں تو خوش نہیں ہوتا۔ میں بھی قبلہ چودھری صاحب کی طرح امرتسر کے کمپنی باغ میں عورت سے مل کر فرنٹیئرمیل سے پشاور جاتا ہوں اور وہاں آنکھیں مل مل کر سوچتا ہوں میری محبوبہ غائب کہاں ہوگئی۔‘‘ یہ کہہ کر پرکاش خوب ہنسا۔ پھر چودھری سے مخاطب ہوا۔’’ چودھری صاحب قبلہ، ہاتھ ملائیے۔ ہم دونوں پھسڈی گھوڑے ہیں۔ اس دوڑ میں صرف وہی کامیاب ہوگا جس کے ذہن میں صرف ایک ہی چیز ہو کہ اسے دوڑنا ہے، یہ نہیں کہ کام اور وقت کا سوال حل کرنے بیٹھ جائے۔ اتنے قدموں میں اتنا فاصلہ طے ہوتا ہے تو اتنے قدموں میں کتنا فاصلہ طے ہوگا۔ عشق جو میٹری ہے نہ الجبرا۔ پس بکواس ہے۔ چونکہ بکواس ہے اس لیے اس میں گرفتار ہونے والے کو بکواس ہی سے مدد لینی چاہیے۔‘‘ ’’چودھری نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔’’ کیا بکواس کرتے ہو؟‘‘ ’’ توسنو!‘‘ پرکاش جم کر بیٹھ گیا۔’’ میں تمہیں ایک سچا واقعہ سُناتا ہوں۔ میرا ایک دوست ہے، میں اس کا نام نہیں بتاؤں گا۔
دو برس ہُوئے وہ ایک ضروری کام سے چمبہ گیا۔ دو روز کے بعد لوٹ کر اسے ڈلہوزی چلا آنا تھا۔ اس کے فوراً بعد امرتسرپہنچنا تھا مگر تین مہینے تک وہ لاپتہ رہا۔ نہ اس نے گھر خط لکھا نہ مجھے جب واپس آیا تو اس کی زبانی معلوم ہُوا کہ وہ تین مہینے چمبہ ہی میں تھا۔ وہاں کی ایک خوبصورت لڑکی سے اسے عشق ہوگیا تھا۔‘‘ چودھری نے پوچھا۔ ’’ناکام رہا ہوگا۔‘‘ پرکاش کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پیدا ہوئی۔’’ نہیں، نہیں۔۔۔۔۔۔ وہ کامیاب رہا۔ زندگی میں اسے ایک شاندار تجربہ حاصل ہوا۔ تین مہینے وہ چمبہ کی سردیوں میں ٹھٹھرتا اور اس لڑکی سے عشق کرتا رہا۔واپس ڈلہوزی آنے والا تھا کہ پہاڑی کی ایک پگڈنڈی پر اس کافر جمال حسینہ سے اس کی مڈ بھیڑ ہُوئی۔ تمام کائنات سکڑ کر اس کی لڑکی میں سما گئی اور وہ لڑکی پھیل کر والہانہ وسعت اختیار کرگئی۔ اس کو محبت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ قبلہ چودھری صاحب! سُنیے۔ پندرہ دنوں تک متواتر وہ غریب اپنی محبت کو چمبہ کی یخ بستہ فضا میں دل کے اندر دبائے چھپ چھپ کر دور سے اس لڑکی کو دیکھتا رہا مگر اس کے پاس جا کر اس سے ہم کلام ہونے کی ہمت نہ کرسکا۔۔۔۔۔۔ ہر دن گزرنے پر وہ سوچتا کہ دوری کتنی اچھی چیز ہے۔ اونچی پہاڑی پر وہ بکریاں چرا رہی ہے۔ نیچے سڑک پر اس کا دل دھڑک رہا ہے۔ آنکھوں کے سامنے یہ شاعرانہ منظر لائیے اور داد دیجیے۔ اس پہاڑی پر عاشق صادق کھڑا ہے۔ دوسری پہاڑی پر اس کی سیمیں بدن محبوبہ۔۔۔۔۔۔ درمیان میں شفاف پانی کا نالہ بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ کیسا دلکش منظر ہے، چودھری صاحب قبلہ۔‘‘ چودھری نے ٹوکا۔’’ بکواس مت کرو جو واقعہ ہے، اسے بیان کرو۔‘‘ پرکاش مسکرایا۔ تو سنیے۔۔۔۔۔۔ پندرہ دن تک میرا دوست عشق کے زبردست حملے کے اثرات دُور کرنے میں مصروف رہا اور سوچتا رہا کہ اسے جلدی واپس چلا جانا چاہیے۔ ان پندرہ دنوں میں اس نے کاغذ پنسل لے کر تو نہیں لیکن دماغ ہی دماغ میں اس لڑکی سے اپنی محبت کا کئی بار جائزہ لیا۔ لڑکی کے جسم کی ہر چیز اسے پسند تھی۔ لیکن یہ سوال درپیش تھا کہ اسے حاصل کیسے کیا جائے۔ کیا ایک دم بغیر کسی تعارف کے وہ اس سے باتیں کرنا شروع کردے؟ بالکل نہیں، یہ کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ کیوں، ہو کیسے نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ مگر فرض کرلیا جائے اس نے منہ پھیر لیا۔ جواب دیے بغیر اپنی بکریوں کوہانکتی، پاس سے گزر گئی۔۔۔۔۔۔ جلد بازی کبھی بار آور نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ لیکن اس سے بات کیے بغیر اسے حاصل کیے کیا جاسکتا ہے؟ ایک طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس کے دل میں اپنی محبت پیدا کی جائے۔ اس کو اپنی طرف راغب کیا جائے۔ ہاں ہاں، ٹھیک ہے۔ لیکن سوال یہ ہے راغب کیسے کیا جائے۔۔۔۔۔۔ ہاتھ سے، اشارہ۔۔۔۔۔۔ نہیں، بالکل پوچ ہے۔۔۔۔۔۔ سو قبلہ چودھری صاحب! ہمارا ہیرو ان پندرہ دنوں میں یہی سوچتا رہا۔۔۔۔۔۔ سولہویں دن اچانک باؤلی پر اس لڑکی نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔۔۔۔ ہمارے ہیرو کے دل کی باچھیں کھل گئیں، لیکن ٹانگیں کانپنے لگیں۔۔۔۔۔۔ آپ نے اب ٹانگوں کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ لیکن جب مسکراہٹ کا خیال آیا تو اپنی ٹانگیں الگ کردیں اور اس لڑکی کی پنڈلیوں کے متعلق سوچنے لگا جو اٹھی ہوئی گھگھری میں سے اسے نظر آئی تھیں۔ کتنی سڈول تھیں۔ لیکن وہ دن دُور نہیں جب وہ ان پر بہت آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر سکے گا۔۔۔۔۔۔ پندرہ دن اور گزر گئے۔۔۔۔۔۔ ادھر وہ مسکرا کر پاس سے گزرتی رہی۔ ادھر ہمارے ہیرو صاحب جوابی مسکراہٹ کی ریہرسل کرتے رہے۔۔۔۔۔۔ سوا مہینہ ہوگیا اور ان کا عشق صرف ہونٹوں پر ہی مسکراتا رہا۔ آخر ایک دن خود اس لڑکی نے مہر خاموشی توڑی اور بڑی ادا سے ایک سگریٹ مانگا۔ آپ نے ساری ڈبیا حوالے کردی اور گھر آکر ساری رات کپکپاہٹ پیدا کرنے والے خواب دیکھتے رہے۔
دوسرے دن ایک آدمی کو ڈلہوزی بھیجا اور وہاں سے سگریٹوں کے پندرہ پیکٹ منگوا کر ایک چھوٹے سے لڑکے کے ہاتھ اپنی محبوبہ کو بھجوا دیے۔ جب اس نے اپنی جھولی میں ڈالے تو آپ کے دل کو دور کھڑے بہت مسرت محسوس ہوئی۔ ہوتے ہوتے وہ دن بھی آگیا۔ جب دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ کیسی باتیں؟ قبلہ چودھری صاحب بتائیے، ہمارا ہیرو کیا باتیں کرتا تھا اس سے؟‘‘ چودھری نے اس کو اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔’’ مجھے کیا معلوم۔‘‘ پرکاش مسکرایا۔’’ مجھے معلوم ہے قبلہ چودھری صاحب۔۔۔۔۔۔ گھر سے چلتے وقت وہ باتوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست تیار کرتا تھا۔ میں اس سے یہ کہوں گا، میں اس سے یہ کہوں گا جب وہ نالے کے پاس کپڑے دھوتی ہوگی تو میں آہستہ آہستہ جا کر اس کی آنکھیں میچ لوں گا پھر اس کی بغلوں میں گدگدی کروں گا لیکن جب اس کے پاس پہنچتا اور آنکھیں میچنے اور گدگدی کرنے کا خیال آتا تو اسے شرم آجاتی۔۔۔۔۔۔ کیا بچپنا ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ اس سے کچھ دور ہٹ کر بیٹھ جاتا اور بھیڑ بکریوں کی باتیں کرتا رہتا۔۔۔۔۔۔ کئی دفعہ اسے خیال آیا کب تک یہ بھیڑ بکریاں اس کی محبت چرتی رہیں گی۔۔۔۔۔۔ دو مہینے سے کچھ دن اوپر ہوگئے اور ابھی تک وہ اس کے ہاتھ تک نہیں لگا سکا۔ مگر وہ سوچتا کہ ہاتھ لگائے کیسے، کوئی بہانہ تو ہونا چاہیے لیکن پھر اسے خیال آتا بہانے سے ہاتھ لگانا بالکل بکواس ہے، لڑکی کی طرف سے اسے خاموش اجازت ملنی چاہیے کہ وہ اس کے بدن کے جس حصے کو بھی چاہے ہاتھ لگا سکتا ہے۔ اب خاموش اجازت کا سوال آجاتا۔۔۔۔۔۔ اسے کیسے پتہ چل سکتا ہے اس نے خاموش اجازت دے دی ہے۔۔۔۔۔۔ قبلہ چودھری صاحب، اس کا کھوج لگاتے لگاتے پندرہ دن اور گزر گئے۔‘‘ پرکاش نے سگریٹ سلگایا اور منہ سے دھواں نکالتے ہوئے کہنے لگا۔’’ اس دوران میں وہ کافی گھل مل گئے تھے۔ لیکن اس کا اثر ہمارے ہیرو کے حق میں بُرا ہوا۔ دوران گفتگو میں اس نے لڑکی سے اپنے اونچے خاندان کا کئی بار ذکر کیا تھا، اپنے اوباش دوستوں پر کئی بار لعنتیں بھیجی تھیں جو پہاڑی دیہاتوں میں جا کر غریب لڑکیوں کوخراب کرتے تھے۔ کبھی دبی زبان میں، کبھی بلند بانگ اپنی تعریف بھی کی تھی۔ اب وہ کیسے اس لڑکی پر اپنی شہوانی خواہش ظاہر کرتا۔ ظاہر تھا کہ معاملہ بہت ٹیڑھا اور پیچدار ہوگیا ہے۔ مگر اس کا جذبہ عشق سلامت تھا اس لیے اسے اُمید تھی کہ ایک روز خود لڑکی ہی اپنا آپ تھالی میں ڈال کر اس کے حوالے کردے گی۔۔۔۔۔۔ اس اُمید میں چنانچہ کچھ دن اور بیت گئے ایک روز کپڑے دھوتے دھوتے لڑکی نے جب کہ ہاتھ صابن سے بھرے ہوئے تھے اس سے کہا۔ ’’تمہاری ماچس ختم ہوگئی ہے میری جیب سے نکال لو۔۔۔۔۔۔ یہ جیب عین اس کی چھاتی کے ابھار کے اوپر تھی۔ ہمارا ہیرو جھینپ گیا۔ لڑکی نے کہا۔’’ نکال لونا‘‘۔۔۔۔۔۔ تھوڑی سی ہمت کرکے اس نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ بڑھایا اور دو انگلیاں بڑی احتیاط سے اس کی جیب میں ڈالیں۔ ماچس بہت نیچے تھی۔ گھبرایا۔ کہیں اور نہ جا ٹکرائیں۔ چنانچہ باہر نکال لیں اور اپنی خالی ماچس سے تیلی نکال کر سگریٹ سلگایا اور لڑکی سے کہا’’ تمہاری جیب سے ماچس پھر کبھی نکالوں گا۔‘‘ یہ سن کر لڑکی نے شریر شریر نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
ہمارے ہیرو نے آدھا میدان مار لیا۔ دوسرا آدھا مارنے کے لیے وہ اسکیمیں سوچنے لگا۔ ایک روز صبح سویرے نالے کے اس طرف بیٹھا، دوسری طرف ندی پر اس لڑکی کو بکریاں چراتے دیکھ رہا تھا اور اس کی اُبھری ہوئی جیب کے مال پر غور کررہا تھا کہ نیچے سڑک پر باؤلی کے پاس ایک موٹر لاری رکی۔ سکھ ڈرائیور نے باہر نکل کر پانی پیا اور اس لڑکی کی طرف دیکھا۔’’ میرے دل میں ایک جلن سی پیدا ہوئی۔ باؤلی کی منڈیر پر کھڑے ہو کر اس موبل آئل سے لتھڑے ہوئے سکھ ڈرائیور نے پھر ایک بار ساوتری کی طرف دیکھا اور اپنا غلیظ ہاتھ اٹھا کر اسے اشارہ کیا۔ میرے جی میں آئی پاس پڑا ہوا پتھر اس پر لڑھکا دوں۔۔۔۔۔۔ اشارہ کرنے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ منہ کے ادھر ادھر رکھ کر نہایت ہی بھونڈے طریقے سے پکارا۔’’ او جانی۔۔۔۔۔۔ میں صدقے۔۔۔۔۔۔ آؤں؟۔۔۔۔۔۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ سکھ ڈرائیور نے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ میرا دل گھٹنے لگا۔ چند منٹوں ہی میں وہ حرام زادہ اس کے پاس کھڑا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ اگر اس نے کوئی بدتمیزی کی تو وہ چھڑی سے اس کی ایسی مرمت کرے گی کہ ساری عمر یاد رکھے گا۔۔۔۔۔۔ میں ادھر سے نگاہ ہٹا کر اس مرمت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک دم دونوں میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں بھاگا نیچے، سڑک کی طرف باؤلی کے پاس پہنچ کر سوچا کیا حماقت ہے۔ تشویش کیسی؟ لیکن پھر خیال آیا کہیں وہ الو کا پٹھا دراز دستی نہ کر بیٹھے۔ اس لیے پہاڑی پر تیزی سے چڑھنا شروع کیا۔ بڑی مشکل چڑھائی تھی۔ جگہ جگہ خار دار جھاڑیاں تھیں۔ ان کو پکڑ کر آگے بڑھنا پڑتا تھا۔ بہت دُور اوپر چلا گیا پر وہ دونوں کہیں نظر نہ آئے۔ ہانپتے ہانپتے میں نے اپنے سامنے کی جھاڑی پکڑ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں جھاڑی کے دوسری طرف پتھروں پر ساوتری لیٹی ہے اور اس غلیظ ڈرائیور کی داڑھی اس کے چہرے پر بکھری ہوئی ہے۔۔۔ میری۔۔۔۔۔۔ میرے جسم کے سارے بال جل گئے۔ ایک کروڑ گالیاں ان دونوں کے لیے میرے دل میں پیدا ہوئیں۔ لیکن ایک لحظے کے لیے سوچا تو محسوس ہوا کہ دنیا کا سب سے بڑا چغد میں ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔ اسی وقت نیچے اترا اور سیدھا لاریوں کے اڈے کا رخ کیا۔ پرکاش کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمکنے لگیں۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عید قربان معارف و اسباق
  • بسکٹ،دودھ اور موٹر وے
  • ویرا
  • اسلامی اِنقلاب اور ادب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مرے چاند رک مری بات سن
پچھلی پوسٹ
خدا کا شُکر ہے گرداب سے نکل آیا

متعلقہ پوسٹس

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

فروری 26, 2024

اودھ کی شام

جنوری 3, 2020

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

چشمۂ حیات اور زندگی کا دوراہا

دسمبر 19, 2024

محبتوں كی سفیر شاعرہ

جنوری 21, 2020

پسینہ

جنوری 24, 2020

ایموجیز اور سیکسٹنگ

اگست 20, 2023

آئینۂ ذات

جون 1, 2025

طلاق اور خلع کی عدت میں فرق

جنوری 24, 2022

پرانی شراب نئی بوتل

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلام لاہور

جون 14, 2020

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

دسمبر 20, 2022

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد...

اپریل 23, 2014
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں